بیٹھے رہیں گے وہ تو ہمیشہ دبا کے بات
بیٹھے رہیں گے وہ تو ہمیشہ دبا کے بات ہم ہی کریں گے ان سے کسی روز جا کے بات کچھ بھی نکال سکتے ہیں مطلب وہ بات کا کرتا ہوں اس لیے میں بہت بچ بچا کے بات پیچیدہ ہو گئے ہیں ہمارے تعلقات کرنی پڑی ہے مجھ کو گھما کے پھرا کے بات اک ہم کہ لے کے بیٹھ گئے ایک لفظ کو اک وہ کہ چل دئے جو ہنسی میں ...