قومی زبان

بیٹھے رہیں گے وہ تو ہمیشہ دبا کے بات

بیٹھے رہیں گے وہ تو ہمیشہ دبا کے بات ہم ہی کریں گے ان سے کسی روز جا کے بات کچھ بھی نکال سکتے ہیں مطلب وہ بات کا کرتا ہوں اس لیے میں بہت بچ بچا کے بات پیچیدہ ہو گئے ہیں ہمارے تعلقات کرنی پڑی ہے مجھ کو گھما کے پھرا کے بات اک ہم کہ لے کے بیٹھ گئے ایک لفظ کو اک وہ کہ چل دئے جو ہنسی میں ...

مزید پڑھیے

جن دنوں غم زیادہ ہوتا ہے

جن دنوں غم زیادہ ہوتا ہے آنکھ میں نم زیادہ ہوتا ہے کچھ تو حساس ہم زیادہ ہیں کچھ وہ برہم زیادہ ہوتا ہے درد دل کا بھی کوئی ٹھیک نہیں خود بخود کم زیادہ ہوتا ہے سب سے پہلے انہیں جھکاتے ہیں جن میں دم خم زیادہ ہوتا ہے قیس پر ظلم تو ہوا باصرؔ پھر بھی ماتم زیادہ ہوتا ہے

مزید پڑھیے

مثال عشق طلب کی جو اس نے تشریحاً

مثال عشق طلب کی جو اس نے تشریحاً بیان کر دیا احوال قیس تفصیلاً خبر نہیں کہ نکل جائیں ہم کدھر طبعاً سو کر دیا گیا پابند ہم کو قانوناً سمجھ میں آئے جو ایسا کریں وہ مجبوراً حدود توڑتے رہتے ہیں لوگ تفریحاً اسے مرید سمجھتے ہیں یہ خضر صورت کوئی سلام بھی کر دے انہیں جو تعظیماً کیا ...

مزید پڑھیے

ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹ

ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹ کیا نہ اس نے مرا انتظار ایک منٹ میں جانتا ہوں کہ ہے یہ خمار ایک منٹ ادھر بھی آئی تھی موج بہار ایک منٹ پتا چلے کہ ہمیں کون کون چھوڑ گیا ذرا چھٹے تو یہ گرد و غبار ایک منٹ ابد تلک ہوئے ہم اس کے وسوسوں کے اسیر کیا تھا جس پہ کبھی اعتبار ایک منٹ اگرچہ ...

مزید پڑھیے

یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے

یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے اس قدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نے جان لیتے ہیں کہاں کوئی ستارا کم ہے دوستی میں تو کوئی شک نہیں اس کی پر وہ دوست دشمن کا زیادہ ہے ہمارا کم ہے صاف اظہار ہو اور وہ بھی کم از کم دو بار ہم وہ عاقل ہیں جنہیں ایک ...

مزید پڑھیے

دل میں ہر چند آرزو تھی بہت

دل میں ہر چند آرزو تھی بہت کام تھوڑا تھا گفتگو تھی بہت سنگ منزل یہ چھیڑتا ہے مجھے آ تجھے میری جستجو تھی بہت اے ہوس! دیکھ داغ داغ جگر تو بھی مشتاق رنگ و بو تھی بہت کون ہے جس سے میں نہیں الجھا گو مری طبع صلح جو تھی بہت بڑھ گئی تجھ سے مل کے تنہائی روح جویائے ہم سبو تھی بہت اک تری ...

مزید پڑھیے

زخم تمہارے بھر جائیں گے تھوڑی دیر لگے گی

زخم تمہارے بھر جائیں گے تھوڑی دیر لگے گی بے صبری سے کام لیا تو اور بھی دیر لگے گی صاحب آج تو اپنا کام کرا کے جائیں گے ہم ساری شرطیں پوری ہیں پھر کیسی دیر لگے گی یوں بے حال نہ ہو اے دل بس آتے ہی ہوں گے وہ کل بھی دیر لگی تھی ان کو آج بھی دیر لگے گی سیکھ لیا ہے میں نے اپنے آپ سے باتیں ...

مزید پڑھیے

اس فکر روزگار میں سب کھپ گیا دماغ

اس فکر روزگار میں سب کھپ گیا دماغ اب شاعری کو چاہیے اک دوسرا دماغ اب کوئی بات ٹھیک سے رہتی نہیں ہے یاد وہ دل کہاں چلا گیا اور کیا ہوا دماغ اٹھا جو یہ سوال کہ ثالث کسے بنائیں میں نے کہا کہ دل سہی اس نے کہا دماغ تھا دل تو چیز کیا صف مژگاں کے سامنے اس معرکے میں شکر یہ ہے بچ گیا ...

مزید پڑھیے

ہر چند رہ گزر تھی دشوار قافیے کی

ہر چند رہ گزر تھی دشوار قافیے کی سن کر نہ رہ سکے ہم للکار قافیے کی دن کا سکون غارت راتوں کی نیند غائب سر پر لٹک رہی ہے تلوار قافیے کی ہم اس کو باندھتے کیا جکڑا ہے اس نے ہم کو اب دیکھتے ہیں صورت ناچار قافیے کی اس آس پر کہ شاید ہو جائے تنگ ہم پر کرتے رہے خوشامد اغیار قافیے کی تازہ ...

مزید پڑھیے

کرتے رہے کر سکتے تھے ہم جتنی بھی کوشش

کرتے رہے کر سکتے تھے ہم جتنی بھی کوشش دیوار تعصب میں کہاں ہونی تھی جنبش زنداں کی سلاخوں سی ہیں پانی کی یہ تاریں صیاد سے کچھ کم نہیں ہر وقت کی بارش لازم نہیں پیدل چلوں یا دوڑ لگاؤں ہیں گھر کے مرے کام ہی اچھی بھلی ورزش مانا کہ علاج اس کے سوا کچھ نہیں لیکن کیا دل کے بدلنے سے بدل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4650 سے 6203