تو پہلے میرا ہی حال تباہ لکھ لیجے
تو پہلے میرا ہی حال تباہ لکھ لیجے پھر اپنے آپ کو عالم پناہ لکھ لیجے کتاب صحرا میں ذکر آئے جب سمندر کا مری حیات کسی کی نگاہ لکھ لیجے دیوں کے قتل پہ سورج کی ہر کرن چپ ہے اس احتیاط کو جشن سیاہ لکھ لیجے لبوں پہ امن کے نغمے دلوں میں جنگ کی آگ شکست عزم بنام سپاہ لکھ لیجے وہ میرے قتل ...