قومی زبان

وفور شوق میں آہ و فغاں کو بھول گئے

وفور شوق میں آہ و فغاں کو بھول گئے تم آ گئے تو غم دو جہاں کو بھول گئے اسیر غم ہیں قفس میں گزار لیتے ہیں چمن کو بھول گئے آشیاں کو بھول گئے حیات چند نفس میں کشاکش پیہم رہی ہے اتنی کہ درد نہاں کو بھول گئے دراز دستیٔ اغیار کا گلا کیا ہے عدو کو بھول گئے مہرباں کو بھول گئے رہ حیات کی ...

مزید پڑھیے

ادھر وہ ہاتھوں کے پتھر بدلتے رہتے ہیں

ادھر وہ ہاتھوں کے پتھر بدلتے رہتے ہیں ادھر بھی اہل جنوں سر بدلتے رہتے ہیں بدلتے رہتے ہیں پوشاک دشمن جانی مگر جو دوست ہیں پیکر بدلتے رہتے ہیں ہم ایک بار جو بدلے تو آپ روٹھ گئے مگر جناب تو اکثر بدلتے رہتے ہیں یہ دبدبہ یہ حکومت یہ نشۂ دولت کرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں

مزید پڑھیے

رہین آس رہی ہے نہ محو یاس رہی

رہین آس رہی ہے نہ محو یاس رہی بچھڑ کے تجھ سے مری زیست بدحواس رہی جو رند آیا تری بزم میں ہوا سیراب وہ تشنہ کام رہا میں کہ جس کو پیاس رہی تری نگاہ کرم نے وہ گل کھلائے ہیں چمن میں فصل بہاراں اداس اداس رہی ہر ایک لحظہ مری دھڑکنوں میں چبھتی تھی عجیب چیز مرے دل کے آس پاس رہی مئے نشاط ...

مزید پڑھیے

نظر کی فتح کبھی قلب کی شکست لگے

نظر کی فتح کبھی قلب کی شکست لگے مری حیات پرائے کا بند و بست لگے نہ وہ نقوش نہ حسن کشش کی بات رہی صنم فروش بھی جیسے خدا پرست لگے ابھی ملا تھا ابھی پھر بچھڑ گیا کوئی یہ حادثہ بھی حکایات بود و ہست لگے فرشتے دیکھ رہے ہیں زمین و چرخ کا ربط یہ فاصلہ بھی تو انساں کی ایک جست لگے وہاں ...

مزید پڑھیے

نہ چلمنوں کی حسیں سرسراہٹیں ہوں گی

نہ چلمنوں کی حسیں سرسراہٹیں ہوں گی نہ ہوں گے ہم تو کہاں جگمگاہٹیں ہوں گی میں ایک بھنورا ترے باغ میں رہوں نہ رہوں کسے نصیب مری گنگناہٹیں ہوں گی کواڑ بند کرو تیرہ بختو سو جاؤ گلی میں یوں ہی اجالوں کی آہٹیں ہوں گی نہ پوچھ پائیں گے احوال بے بسی وہ بھی مرے لبوں پہ اگر کپکپاہٹیں ہوں ...

مزید پڑھیے

بھیتر بسنے والا خود باہر کی سیر کرے مولیٰ خیر کرے

بھیتر بسنے والا خود باہر کی سیر کرے مولیٰ خیر کرے اک مورت کو چاہے پھر کعبے کو دیر کرے مولیٰ خیر کرے عشق وشق یہ چاہت واہت من کا بھلاوا پھر من بھی اپنا کیا یار یہ کیسا رشتہ جو اپنوں کو غیر کرے مولیٰ خیر کرے ریت کا تودا آندھی کی فوجوں پر تیر چلائے ٹہنی پیڑ چبائے چھوٹی مچھلی دریا ...

مزید پڑھیے

طنز کی تیغ مجھی پر سبھی کھینچے ہوں گے

طنز کی تیغ مجھی پر سبھی کھینچے ہوں گے آپ جب اور مرے اور نگیچے ہوں گے آئنہ پوچھے گا جب رات کہاں تھے صاحب اپنی بانہوں میں وہ اپنے ہی کو بھینچے ہوں گے جس طرف چاہئے گا آپ چلے جائیے گا سامنے چاند کے ہم آنکھوں کو میچے ہوں گے آج پھر گزریں گے قاتل کی گلی سے ہم لوگ آج پھر بند مکانوں کے ...

مزید پڑھیے

نئے زمانے میں اب یہ کمال ہونے لگا

نئے زمانے میں اب یہ کمال ہونے لگا کہ قتل کر کے بھی قاتل نہال ہونے لگا مری تباہی کا باعث جو ہے زمانے سے اسی کو اب مرا کاہے خیال ہونے لگا ہوائے عشق نے بھی گل کھلائے ہیں کیا کیا جو میرا حال تھا وہ تیرا حال ہونے لگا شب فراق وہ کیسا تھا جشن یادوں کا کہ جس کا ذکر بھی بعد وصال ہونے ...

مزید پڑھیے

یوں تو کہنے کو تری راہ کا پتھر نکلا

یوں تو کہنے کو تری راہ کا پتھر نکلا تو نے ٹھوکر جو لگا دی تو مرا سر نکلا لوگ تو جا کے سمندر کو جلا آئے ہیں میں جسے پھونک کر آیا وہ مرا گھر نکلا ایک وہ شخص جو پھولوں سے بھرے تھا دامن ہر کف گل میں چھپائے ہوئے خنجر نکلا یوں تو الزام ہے طوفاں پہ ڈبو دینے کا تہہ میں دریا کی مگر ناؤ کا ...

مزید پڑھیے

اداس کاغذی موسم میں رنگ و بو رکھ دے

اداس کاغذی موسم میں رنگ و بو رکھ دے ہر ایک پھول کے لب پر مرا لہو رکھ دے زبان گل سے چٹانیں تراشنے والے نگار و نقش میں آسائش نمو رکھ دے سنا ہے اہل خرد پھر چمن سجائیں گے جنوں بھی جیب و گریباں پئے رفو رکھ دے شفق ہے پھول ہے دیپک ہے چاند بھی ہے مگر انہیں کے ساتھ کہیں ساغر و سبو رکھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4629 سے 6203