قومی زبان

جب سے میں نے دیکھا ہے ایک خوش نما چہرہ

جب سے میں نے دیکھا ہے ایک خوش نما چہرہ تب سے ہے نگاہوں میں اس کا چاند سا چہرہ صورت اور سیرت میں امتیاز مشکل ہے ہے ہر ایک چہرے پر ایک دوسرا چہرہ ایک اور دو ہی میں ذہن تھا پراگندہ آ گیا کہاں سے یہ ایک تیسرا چہرہ با وفا سمجھتا تھا جس کو بے وفا نکلا روز وہ بدلتا ہے اک نہ اک نیا ...

مزید پڑھیے

ریختہ

ریختہ جس کا بڑا نام ہے کیا عرض کروں یہ ہمارے لئے انعام ہے کیا عرض کروں فال نیک اس کا ہے اردو کے لئے اپنا وجود جس کا فیضان نظر عام ہے کیا عرض کروں آپ خود دیکھ لیں کہنے پہ نہ جائیں میرے وہ بھی اس میں ہے جو گمنام ہے کیا عرض کروں میرا مجموعۂ اشعار ہے اس کی زینت بادۂ شوق کا یہ جام ہے ...

مزید پڑھیے

دماغ عرش پہ ہے خود زمیں پہ چلتے ہیں

دماغ عرش پہ ہے خود زمیں پہ چلتے ہیں سفر گمان کا ہے اور یقیں پہ چلتے ہیں ہمارے قافلہ سالاروں کے ارادے کیا چلے تو ہاں پہ ہیں لیکن نہیں پہ چلتے ہیں نہ جانے کون سا نشہ ہے ان پہ چھایا ہوا قدم کہیں پہ ہیں پڑتے کہیں پہ چلتے ہیں بنا کے ان کو اگر چھوڑ دو تو گر جائیں مکاں نئے کہ پرانے مکیں ...

مزید پڑھیے

مجھ کو شکستگی کا قلق دیر تک رہا

مجھ کو شکستگی کا قلق دیر تک رہا کیوں چہرہ پھر جناب کا فق دیر تک رہا یوں تو کئی کتابیں پڑھیں ذہن میں مگر محفوظ ایک سادہ ورق دیر تک رہا اکثر شب وصال ترے روٹھنے کے بعد احساس پر طلسم رمق دیر تک رہا اب ہے کتاب عشق میں جو سادہ و سلیس پہلے وہ لفظ لفظ ادق دیر تک رہا سورج کے سر کو شام کے ...

مزید پڑھیے

جب کوچۂ قاتل میں ہم لائے گئے ہوں گے

جب کوچۂ قاتل میں ہم لائے گئے ہوں گے پردے بھی دریچوں کے سرکائے گئے ہوں گے مے خانے میں جب زاہد پہنچائے گئے ہوں گے خاطر کے سلیقے سب اپنائے گئے ہوں گے جب سطوت شاہی کو کچھ ٹھیس لگی ہوگی سولی پہ کئی سرمد لٹکائے گئے ہوں گے چاندی کے گھروندوں کی جب بات چلی ہوگی مٹی کے کھلونوں سے بہلائے ...

مزید پڑھیے

فصل گل کب لٹی نہیں معلوم

فصل گل کب لٹی نہیں معلوم کب بہار آئی تھی نہیں معلوم ہم بھٹکتے رہے اندھیرے میں روشنی کب ہوئی نہیں معلوم کب وہ گزرے قریب سے دل کے نیند کب آ گئی نہیں معلوم درد جب جب اٹھا ہوا محسوس چوٹ کب کب لگی نہیں معلوم بے بسی جس کی زیست ہو اس کو زیست کی بے بسی نہیں معلوم ناز سجدوں پہ ہے ہمیں ...

مزید پڑھیے

تمنا بن گئی ہے مایۂ الزام کیا ہوگا

تمنا بن گئی ہے مایۂ الزام کیا ہوگا مگر دل ہے ابھی تک تشنۂ پیغام کیا ہوگا وہ بیتاب تماشہ ہی سہی اے تاب نظارہ لرز اٹھتا ہے دل یہ سوچ کر انجام کیا ہوگا یہاں جو کچھ بھی ہے وہ پرتو احساس ہے ساقی بجز بادہ جواب گردش ایام کیا ہوگا کبھی جس کے یقیں سے کائنات عشق روشن تھی وہی اب ہے اسیر ...

مزید پڑھیے

ہم چٹانوں کی طرح ساحل پہ ڈھالے جائیں گے

ہم چٹانوں کی طرح ساحل پہ ڈھالے جائیں گے پھر ہمیں سیلاب کے دھارے بہا لے جائیں گے ایسی رت آئی اندھیرے بن گئے منبر کے بت گنبد و محراب کیا جگنو بچا لے جائیں گے پہلے سب تعمیر کروائیں گے کاغذ کے مکاں پھر ہوا کے رخ پہ انگارے اچھالے جائیں گے ہم وفاداروں میں ہیں اس کے مگر مشکوک ہیں اک ...

مزید پڑھیے

میں جب بھی کوئی اچھوتا کلام لکھتا ہوں

میں جب بھی کوئی اچھوتا کلام لکھتا ہوں تو پہلے ایک غزل تیرے نام لکھتا ہوں بدن کی آنچ سے سنولا گئے ہیں پیراہن میں پھر بھی صبح کے چہرے پہ شام لکھتا ہوں چلے تو ٹوٹیں چٹانیں رکے تو آگ لگے شمیم گل کو تو نازک خرام لکھتا ہوں گھٹائیں جھوم کے برسیں جھلس گئی کھیتی یہ حادثہ ہے بصد احترام ...

مزید پڑھیے

یہ شہر کے باسی کیا جانیں کیا روپ ہے گاؤں کے پنگھٹ کا

یہ شہر کے باسی کیا جانیں کیا روپ ہے گاؤں کے پنگھٹ کا کیا عشق ہے لاج کی الھڑ کا کیا حسن ہے موہ کے نٹ کھٹ کا وعدوں کی ہوا امرائی میں یادوں کی فضا انگنائی میں ملنے کی دعا تنہائی میں سناٹے میں دھوکا آہٹ کا آنچل میں چھپی ممتا کی میا کتھری میں دبی بھگون کی دیا لاتا ہے کوئی سندیش نیا پل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4631 سے 6203