قومی زبان

سب کا پیارا

ایک دن لالو روتے آئے آنسوؤں سے منہ دھوتے آئے ابا نے آ کر چمکارا کیوں روتے ہو کس نے مارا بھائی جان نے پوچھا آ کر آئے مار کہاں سے کھا کر دادی گرتی پڑتی آئیں لٹھیا کھٹ کھٹ کرتی آئیں لالو کو جو روتے دیکھا پوچھا بیٹا کس نے مارا آ جا میری گود میں آ جا میرا بنا میرا راجا اماں آئیں آپا ...

مزید پڑھیے

بہت زوروں پہ وی سی آر تھا کل شب جہاں میں تھا

بہت زوروں پہ وی سی آر تھا کل شب جہاں میں تھا ہر اک ناظر بڑا بیدار تھا کل شب جہاں میں تھا سیہ زلف پریشاں کے عوض شانے پہ چوٹی تھی ستارہ تھا مگر دم دار تھا کل شب جہاں میں تھا اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا ہے لوڈ شیڈنگ سے نہ جانے کس طرف کو یار تھا کل شب جہاں میں تھا بڑے ارمان سے نکلا تھا ...

مزید پڑھیے

کوئی ہے محو عیش و طلب گار زندگی

کوئی ہے محو عیش و طلب گار زندگی کوئی ہے شکوہ سنج و گراں بار زندگی قسمت کی گردشوں سے زمانے کے جور سے ہے زار حال زار گنہ گار زندگی کچھ گول مول اس کی سدا چال ڈھال ہے اک چال پر نہیں کبھی رفتار زندگی زخمی ہوئے تھے پاؤں کہ دامن الجھ گیا مشکل ہے رہ بہ وادیٔ پر خار زندگی ہاں اے اجل ...

مزید پڑھیے

تجھ پہ کیا خاک اے زمیں ہوتا

تجھ پہ کیا خاک اے زمیں ہوتا ہم نہ ہوتے تو کچھ نہیں ہوتا نہ یہ دنیا میں شورشیں ہوتیں اور نہ یہ ذوق آں و ایں ہوتا زندگی نام ہے تڑپنے کا جب سکوں ہو سکوں نہیں ہوتا حشر سو بار رونما ہوتا دل کو آنکھوں پہ گر یقیں ہوتا کس قدر دل نواز منظر ہے کاش برجا دل حزیں ہوتا کچھ بڑی بات تھی ید ...

مزید پڑھیے

کہاں تک کوئی وضع اپنی سنبھالے

کہاں تک کوئی وضع اپنی سنبھالے نظر آ رہے ہیں تماشے نرالے پرستار مغرب نہ کیوں کر ہو دنیا بناتے نئے بت ہیں تہذیب والے گیا ذوق اہل نظر کی نظر سے نئی روشنی کے ہیں سارے اجالے بلاوے یہ پھر کیوں انہیں آ رہے ہیں بھری بزم سے جو گئے ہیں نکالے جو لذت میسر ہے ذوق طلب میں نہیں اس سے واقف ترے ...

مزید پڑھیے

آتما ترنگ

اس دیس کی چاہت فانی ہے یاں حسن و وجاہت فانی ہے یاں جنگ و رقابت فانی ہے یاں امن و اقامت فانی ہے جس دیس میں آنی راج نہیں اس دیس میں چل سنسار کریں یاں جنس تغیر سستی ہے یاں خوف بلند و پستی ہے فطرت بھی رہین ہستی ہے یہ وہم و گماں کی بستی ہے جس دیس میں آنی راج نہیں اس دیس میں چل سنسار ...

مزید پڑھیے

نوائے تلخ

جذبات کے طوفاں میں یہ ضبط فغاں کب تک مجبور یہ دل کب تک مرعوب زباں کب تک یہ سود کے پردے میں آہنگ زیاں کب تک الفاظ کے پھندوں میں اعجاز بیاں کب تک آزاد ہواؤں میں پر تول نہیں سکتے اغیار کے ہاتھوں میں عمر گزراں کب تک اٹھ جذبۂ خودداری تا چند زیاں کاری اٹھ جوش حمیت اٹھ یہ خواب گراں کب ...

مزید پڑھیے

اک بے ثبات عکس بنا بے نشاں گیا

اک بے ثبات عکس بنا بے نشاں گیا میں گنج بے بہا تھا مگر رائیگاں گیا بھٹکا میں اپنی ذات کی وسعت میں سو بہ سو میں اپنی جستجو میں کراں تا کراں گیا تحریر اک اور تیر کے تحلیل ہو گئی اک اور نقش لوح‌ زمان و مکاں گیا قائم ہوئے دلوں کے ابد موج رابطے اک جنبش نظر میں غم دو جہاں گیا کیا کیا ...

مزید پڑھیے

اپنی اور کسی سے کس دن راہ و رسم و رفاقت تھی

اپنی اور کسی سے کس دن راہ و رسم و رفاقت تھی آتی جاتی سانس تھی جس کی ساعت سنگت تھی تجھ کو خیال نہ آیا ورنہ کس دن اتنے گراں تھے ہم اک دو حرف مروت سوچو کون سی ایسی قیمت تھی میں بھی اپنی دھن میں رواں تھا وہ بھی اپنے آپ میں گم بات کی نوبت کیسے آتی کس کو اتنی فرصت تھی بیت چکے وہ دن وہ ...

مزید پڑھیے

دور تک چاروں طرف میرے سوا کوئی نہ تھا

دور تک چاروں طرف میرے سوا کوئی نہ تھا پھر پلک جھپکی تو کیا دیکھا کہ خود میں بھی نہ تھا اک تڑپ بجلی کی اور دیوار و در مٹی کے ڈھیر اک تڑپ شعلے کی اور دریاؤں میں پانی نہ تھا دائرے بنتی صدائیں چھو کے جب حد افق اپنے مرکز کی طرف لوٹیں تو کچھ باقی نہ تھا قید زندان جسد میں تھا یہ کب کشف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4615 سے 6203