قومی زبان

یا مہ و سال کی دیوار گرا دی جائے

یا مہ و سال کی دیوار گرا دی جائے یا مری خاک خلاؤں میں اڑا دی جائے کیسے آواز حریم رگ جاں تک پہنچے اتنی دوری سے تجھے کیسے صدا دی جائے ہے تو پھر کون ہے اس اوٹ میں دیکھوں تو سہی درمیاں سے یہ مری ذات ہٹا دی جائے تیرے بس میں ہے تو پھر یا مجھے پتھر کر دے یا مری روح کی یہ پیاس بجھا دی ...

مزید پڑھیے

کیسی کیسی تھیں انہی گلیوں میں زیبا صورتیں

کیسی کیسی تھیں انہی گلیوں میں زیبا صورتیں یاد اک اک موڑ پہ آتی ہیں کیا کیا صورتیں نیم شب ہوتے ہیں وا جس دم دریچے یاد کے کس ادا سے جھانکتی ہیں اب وہ رعنا صورتیں صورتیں کچھ دیکھ کر ایسا بھی آتا تھا خیال خاک سے ایسی کہاں ہوتی ہیں پیدا صورتیں لوٹ کر پہلے پہل آئے تھے جب اس شہر ...

مزید پڑھیے

ان چٹختے پتھروں پر پاؤں دھرنا دھیان سے

ان چٹختے پتھروں پر پاؤں دھرنا دھیان سے ڈھل چکی ہے شام وادی میں اترنا دھیان سے جامد و ساکت سہی دیوار و در بہرے نہیں گھر کی تنہائی ہو پھر بھی بات کرنا دھیان سے کان مت دھرنا کسی آواز پر کیسی بھی ہو کوئی روکے بھی تو رستے میں ٹھہرنا دھیان سے دیکھنا سایہ کہیں کوئی تعاقب میں نہ ہو شہر ...

مزید پڑھیے

ایسا تہ افلاک خرابہ نہیں کوئی

ایسا تہ افلاک خرابہ نہیں کوئی اس دشت سے زندہ کبھی لوٹا نہیں کوئی ہیبت وہ صداؤں میں کہ لرزے در و دیوار گزرے وہ شب و روز کہ سویا نہیں کوئی ویران سی ویران ہوئی دھیان کی بستی چہرہ کسی چلمن سے جھلکتا نہیں کوئی سر پھوڑ کے لوٹ آتی ہے جاتی ہے جو آواز کیا گنبد آفاق میں رستہ نہیں ...

مزید پڑھیے

کیا وہ ہرجائی مجھے ڈھونڈے ملے گا جو کبھی

کیا وہ ہرجائی مجھے ڈھونڈے ملے گا جو کبھی ایک سو دس میں گرفتار نہ ہونے پایا بارہا بیٹھ گئے ہار کے چنگی والے راستہ عشق کا ہموار نہ ہونے پایا کوئی انسان ہے بے مہر کہ طاعون ہے تو کبھی جاں بر ترا بیمار نہ ہونے پایا

مزید پڑھیے

کس مستی میں اب رہتا ہوں

کس مستی میں اب رہتا ہوں خود کو خود میں ڈھونڈ رہا ہوں دنیا میں سب سے ہی جدا ہوں آخر میں کس دنیا کا ہوں میں تو خود کو بھول چکا ہوں تم بتلا دو کون ہوں کیا ہوں یہ بھی نہیں ہے یاد مجھے اب کیوں آخر روتا رہتا ہوں اک دنیا ہے میرے اندر اس میں ہی میں گھوم رہا ہوں مجھ کو نیند ہے پیاری یا ...

مزید پڑھیے

چلے جانا مگر سن لو مرے دل میں یہ حسرت ہے

چلے جانا مگر سن لو مرے دل میں یہ حسرت ہے فقط اک بار ہی کہہ دو ہمیں تم سے محبت ہے یہ موسم بھی سہانا ہے تری یادوں کے میلے ہیں ترے بن ایک بھی لمحہ بتا لینا قیامت ہے برا کہتا ہے مجھ کو یہ زمانہ میں نے مانا ہے نہ جانے کیوں اسے تجھ سے نہیں کوئی شکایت ہے اچانک یوں جو مجھ سے بد گماں تو ہو ...

مزید پڑھیے

آج کل کے شباب دیکھے ہیں

آج کل کے شباب دیکھے ہیں سارے خانہ خراب دیکھے ہیں پھول جیسے حسین چہرے بھی ہائے سہتے عذاب دیکھے ہیں عشق کی راہ میں وہ لٹتے ہوئے ہم نے لاکھوں جناب دیکھے ہیں ہے یہ الفت بھی کیا بلا صاحب اس میں جھکتے نواب دیکھے ہیں ایک اک پل کو یاد رکھتے تھے وہ تمہارے حساب دیکھے ہیں تم ہٹا دو یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4616 سے 6203