قومی زبان

اک شہر آرزو ہے اور ہم ہیں دوستو

اک شہر آرزو ہے اور ہم ہیں دوستو پھر غم کی جستجو ہے اور ہم ہیں دوستو مجرم کھڑے ہوئے ہیں اک بارگاہ میں وہ شخص روبرو ہے اور ہم ہیں دوستو کانٹوں سے روشناس ہیں پھولوں سے بہرہ ور دنیائے رنگ و بو ہے اور ہم ہیں دوستو ہم جس میں جی رہے ہیں اس میکدے کی خیر ٹوٹے ہوئے سبو ہیں اور ہم ہیں ...

مزید پڑھیے

سفر کٹھن ہے میں راہوں سے آشنا بھی نہیں

سفر کٹھن ہے میں راہوں سے آشنا بھی نہیں تری وفا کے سوا کوئی آسرا بھی نہیں خدا سے مانگنے بیٹھا ہوں اس پری وش کو مرے نصیب کی تختی پہ جو لکھا بھی نہیں میں جانتا ہوں اسے جانے کتنی مدت سے یہ اور بات کہ اس شخص سے ملا بھی نہیں اٹھا کے ہاتھ محبت کی بارگاہوں میں میں سوچتا ہوں کہ اب کوئی ...

مزید پڑھیے

سب کی موجودگی سمجھتا ہے

سب کی موجودگی سمجھتا ہے دل کسی کی کمی سمجھتا ہے ایک ہی شخص سے میں واقف ہوں جو مجھے اجنبی سمجھتا ہے گو مجھے جانتا نہیں لیکن وہ مری شاعری سمجھتا ہے وصل کے اشک ہجر کے آنسو وہ نمی کو نمی سمجھتا ہے وہی میری زباں سے ہے واقف جو مری خامشی سمجھتا ہے آپ کے سامنے میں خوش ہوں مگر میرے دکھ ...

مزید پڑھیے

نہ آنے کے ان کے بہانے بھی دیکھے

نہ آنے کے ان کے بہانے بھی دیکھے بڑے سنگ دل وہ زمانے بھی دیکھے ادھر بلبلیں رو رہی ہیں قفس کو کہ صیاد گاتے ترانے بھی دیکھے غموں کو بھلانے جو نکلے ہیں گھر سے اسی دھن میں کچھ بادہ خانے بھی دیکھے نہ پایا انہیں ہو کے مایوس لوٹے سبھی ہم نے ان کے ٹھکانے بھی دیکھے کبھی آئے گا وقت ...

مزید پڑھیے

جب سے مرے رقیب کا رستہ بدل گیا

جب سے مرے رقیب کا رستہ بدل گیا تب سے مرے نصیب کا نقشہ بدل گیا شیریں تھا کتنا آپ کا انداز گفتگو دو چار سکے آتے ہی لہجہ بدل گیا کس کی زبان سے مجھے دیکھو خبر مجھے کیسے مرے حریف کا چہرہ بدل گیا ان کے بدلنے کا مجھے افسوس کچھ نہیں افسوس یہ ہے اپنا ہی سایہ بدل گیا جب سے بڑوں کی گھر سے ...

مزید پڑھیے

سہانے سپنے آئے ہیں

سہانے سپنے آئے ہیں لبھانے سپنے آئے ہیں مجھے منزل کی دعوت ہے بلانے سپنے آئے ہیں مری بیدار آنکھوں کو سجانے سپنے آئے ہیں میں اک مدت سے سویا تھا جگانے سپنے آئے ہیں مجھے پانے تم آئے ہو گنوانے سپنے آئے ہیں یہ سپنے جا نہیں سکتے چرانے سپنے آئے ہیں یہ ارماں پھر سے توڑیں گے دکھانے ...

مزید پڑھیے

رخ تمہارا ہو جدھر ہم بھی ادھر ہو جائیں گے

رخ تمہارا ہو جدھر ہم بھی ادھر ہو جائیں گے تم سے بچھڑیں گے اگر تو در بہ در ہو جائیں گے زندگانی کے سفر میں لطف ہوگا تب نصیب ہم خیال و ہم نوا جب ہم سفر ہو جائیں گے آسمانوں کا سفر ہم طے کریں گے ایک روز جب ہمارے حوصلوں میں بال و پر ہو جائیں گے سادگی یوں ہی اگر لادے رہے تو ایک دن سب ...

مزید پڑھیے

ہم ہتھیلی پہ جان رکھتے ہیں

ہم ہتھیلی پہ جان رکھتے ہیں اور تیری امان رکھتے ہیں چند اشکوں کے واسطے صاحب تیری باتوں کا مان رکھتے ہیں تم گزرتے ہو اجنبی بن کر ہم تو دل پر چٹان رکھتے ہیں جو بھی ہیں ہم بس اک ہمیں ہیں ہم دوست کیا کیا گمان رکھتے ہیں میٹھی باتوں سے کیا انہیں مطلب ہر گھڑی سینا تان رکھتے ہیں کتنے ...

مزید پڑھیے

پھرکی

آؤ آؤ پھرکی بنائیں اور ہوا میں خوب نچائیں آؤ چلیں اور کاغذ لائیں نیلا پیلا کاغذ لائیں لالو پیلا کاغذ لائے کالو نیلا کاغذ لائے لالو جا کر قینچی لائے کالو جا کر لیئی لائے لالو نے پھر کاغذ کاٹے آڑے ترچھے ٹیڑھے بانکے پھر ان سب ٹکڑوں کو موڑا اور سب کو لیئی سے جوڑا لو اب وہ تیار ہے ...

مزید پڑھیے

بڑھیا اور چڑیا کی کہانی

آؤ بچو گیت سنائیں گیت سنائیں خوب ہنسائیں اک بڑھیا نے چڑیا پالی ننھی منی بھولی بھالی بڑھیا بیٹھی کھیر پکاتی چڑیا اس کو گیت سناتی اک دن بڑھیا بھوکی آئی جلدی جلدی کھیر پکائی منہ دھو کر وہ کھانے بیٹھی چڑیا گیت سنانے بیٹھی بڑھیا نے سب کچھ کھا ڈالا چڑیا کو بھوکا ہی ٹالا چڑیا جب پنجرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4614 سے 6203