قومی زبان

زندگی

زندگی خواب نہیں نقش بر آب نہیں سوچ کا دریا ہے عمل کا صحرا ہے وصل کا روپ ہے ہجر کی دھوپ ہے یار کی نشانی ہے پیار کی کہانی ہے درد کی خوشبو ہے اک سلگتی آرزو ہے زندگی شام بھی ہے شام بے نام بھی ہے

مزید پڑھیے

حسرتیں بر آئیں گی خواہش کے مٹ جانے کے بعد

حسرتیں بر آئیں گی خواہش کے مٹ جانے کے بعد روشنی آتی ہے دن کی رات کٹ جانے کے بعد جستجو راحت کی پیدا کرتی ہے ہیجان کو زلزلے ہوتے ہیں ساکن کوہ پھٹ جانے کے بعد آزمائش صبر کی جب ختم ہوگی دیکھنا امتحاں ہوگا تمہارا عمر کٹ جانے کے بعد عیش میں راحت کہاں غافل تو ہے کس بھول میں راحتیں ...

مزید پڑھیے

نظم

شہری ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا ہے یہ زمین ہماری یہ آسماں ہمارا ویدانت بھی ہمارا قرآن بھی ہمارا اللہ بھی ہمارا بھگوان بھی ہمارا دیوالی اور دسہرا عید الاضحیٰ محرم دنڈی کی یہ سواری اور یہ نشاں ہمارا یہ پوجا پاٹھ اپنا روزہ نماز اپنی اظہار عقیدت کا ہے یہ نشاں ہمارا اوتار اور ...

مزید پڑھیے

نظم

اگر قوم کی ہے ترقی کی خواہش سنو کان دھر کے ہماری گزارش غرور و ہوس کا نمونہ امیری بڑی اس سے ہندوستاں میں فقیری تونگر وہی ہے جو رہتا ہے قانع غریبوں کی خدمت نہ ہو جس کو مانع غریبوں سے ہنس ہنس کے کرتے ہیں نفرت سمجھتے ہیں اپنے کو حق دار دولت سزا وار ان کو امیری نہیں ہے جنہیں عادت ...

مزید پڑھیے

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے اے شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار لے تری ہمت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے وائے قسمت پاؤں کی اے ضعف کچھ چلتی نہیں کارواں اپنا ابھی تک پہلی ہی منزل میں ہے رہرو راہ محبت رہ نہ جانا راہ میں لذت صحرا نوردی دورئ ...

مزید پڑھیے

خزاں کے جانے سے ہو یا بہار آنے سے

خزاں کے جانے سے ہو یا بہار آنے سے چمن میں پھول کھلیں گے کسی بہانے سے وہ دیکھتا رہے مڑ مڑ کے سوئے در کب تک جو کروٹیں بھی بدلتا نہیں ٹھکانے سے اگل نہ سنگ ملامت خدا سے ڈر ناصح ملے گا کیا تجھے شیشوں کے ٹوٹ جانے سے زمانہ آپ کا ہے اور آپ اس کے ہیں لڑائی مول لیں ہم مفت کیوں زمانے سے خدا ...

مزید پڑھیے

ننھا پودا

قلب زمیں کی گہرائیوں میں نشو و نما کی انگڑائیوں میں سویا ہوا تھا آہنگ ہستی مٹی کی تہہ میں مانوس پستی باراں کے قطرے رس کر برس کر بولے لہک جا روئے زمیں پر سورج کی گرمی چھن چھن کے آئی بولی اٹھ جا لے روشنائی ٹھنڈی ہوائیں نزدیک جا کر کہنے لگیں یہ اس کو جگا کر اٹھ جا رے ننھے اٹھ لہلہا ...

مزید پڑھیے

مرے بدن میں چھپی آگ کو ہوا دے گا

مرے بدن میں چھپی آگ کو ہوا دے گا وہ جسم پھول ہے لیکن مجھے جلا دے گا تمہارے مہرباں ہاتھوں کو میرے شانے سے مجھے گماں بھی نہ تھا وقت یوں ہٹا دے گا ہے اور کون مرے گھر میں یہ سوال نہ کر مرا جواب ترا رنگ رخ اڑا دے گا چلے بھی آؤ کہ یہ ڈوبتا ہوا سورج چراغ جلنے سے پہلے مجھے بجھا دے ...

مزید پڑھیے

اب کے جنوں میں لذت آزار بھی نہیں

اب کے جنوں میں لذت آزار بھی نہیں زخم جگر میں سرخئ رخسار بھی نہیں ہم تیرے پاس آ کے پریشان ہیں بہت ہم تجھ سے دور رہنے کو تیار بھی نہیں یہ حکم ہے کہ سونپ دو نظم چمن انہیں نظم چمن سے جن کو سروکار بھی نہیں توڑا ہے اس نے دل کو مرے کتنے حسن سے آواز بھی نہیں کوئی جھنکار بھی نہیں ہم ...

مزید پڑھیے

بدن میں رنگ بھرے لہلہا رہے ہیں چراغ

بدن میں رنگ بھرے لہلہا رہے ہیں چراغ مہک رہی ہے فضا مسکرا رہے ہیں چراغ اجالے ڈوبے ہوئے ہیں گھنے اندھیروں میں عجب سفر ہے بہت یاد آ رہے ہیں چراغ خدا کرے کہ انہیں یہ ملاپ راس آئے ہواؤں سے جو تعلق بڑھا رہے ہیں چراغ سرور لمس کا اب شام لطف اٹھائے گی کہ دن گزر گیا نزدیک آ رہے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4612 سے 6203