یہ بت پھر اب کے بہت سر اٹھا کے بیٹھے ہیں
یہ بت پھر اب کے بہت سر اٹھا کے بیٹھے ہیں خدا کے بندوں کو اپنا بنا کے بیٹھے ہیں ہمارے سامنے جب بھی وہ آ کے بیٹھے ہیں تو مسکرا کے نگاہیں چرا کے بیٹھے ہیں کلیجہ ہو گیا زخمی فراق جاناں میں ہزاروں تیر ستم دل پہ کھا کے بیٹھے ہیں تم ایک بار تو رخ سے نقاب سرکا دو ہزاروں طالب دیدار آ کے ...