دھوپ رکھ دی تھی مقدر نے سرہانے میرے
دھوپ رکھ دی تھی مقدر نے سرہانے میرے عمر بھر آگ میں جلتے رہے شانے میرے میں ترے نام کا عامل ہوں وہ اب جان گئے حادثے اب نہیں ڈھونڈھیں گے ٹھکانے میرے چاند سی ان کی وہ خوش رنگ قبا وہ دستار ان کی درویشی پہ قربان خزانے میرے موج رنگ آئی کچھ اس طور کہ دل جھوم اٹھا ہوش گم کر دئے سرمست حنا ...