قومی زبان

دھوپ رکھ دی تھی مقدر نے سرہانے میرے

دھوپ رکھ دی تھی مقدر نے سرہانے میرے عمر بھر آگ میں جلتے رہے شانے میرے میں ترے نام کا عامل ہوں وہ اب جان گئے حادثے اب نہیں ڈھونڈھیں گے ٹھکانے میرے چاند سی ان کی وہ خوش رنگ قبا وہ دستار ان کی درویشی پہ قربان خزانے میرے موج رنگ آئی کچھ اس طور کہ دل جھوم اٹھا ہوش گم کر دئے سرمست حنا ...

مزید پڑھیے

تذکرے میں ترے اک نام کو یوں جوڑ دیا

تذکرے میں ترے اک نام کو یوں جوڑ دیا دوستوں نے مجھے شیشے کی طرح توڑ دیا زندگی نکلی تھی ہر غم کا مداوا کرنے چند چہروں نے خیالات کا رخ موڑ دیا اب تو آ جائیں مجھے چھوڑ کے جانے والے میں نے خوابوں کے دریچوں کو کھلا چھوڑ دیا قدرداں قیمت بازار سے آگے نہ بڑھے فن کی دہلیز پہ فن کار نے دم ...

مزید پڑھیے

اس کی نظر کا مجھ پہ کچھ ایسا اثر ہوا

اس کی نظر کا مجھ پہ کچھ ایسا اثر ہوا دل تھا صدف مثال برنگ گہر ہوا وہ شوخیاں تھیں اور نہ وہ رنگ روپ تھا کل میں بہت اداس اسے دیکھ کر ہوا ایثار اور وفا کی مرے داستاں یہ ہے جب بھی وطن پہ وار ہوئے میں سپر ہوا وہ حادثہ تو کوئی بڑا حادثہ نہ تھا یہ اور بات دل پہ زیادہ اثر ہوا ایسا بھی ...

مزید پڑھیے

میں جتنی دیر تری یاد میں اداس رہا

میں جتنی دیر تری یاد میں اداس رہا بس اتنی دیر مرا دل بھی میرے پاس رہا عجب سی آگ تھی جلتا رہا بدن سارا تمام عمر وہ ہونٹوں پہ بن کے پیاس رہا مجھے یہ خوف تھا وہ کچھ سوال کر دے گا میں دیکھ کر بھی اسے اس سے نا شناس رہا تمام رات عجب انتشار میں گزری تصورات میں دہشت رہی ہراس رہا گلے لگا ...

مزید پڑھیے

شہر فصل گل سے چل کر پتھروں کے درمیاں

شہر فصل گل سے چل کر پتھروں کے درمیاں زندگی آ جا کبھی ہم بے گھروں کے درمیاں میں ہوں وہ تصویر جس میں حادثے بھرتے ہیں رنگ خال و خط کھلتے ہیں میرے خنجروں کے درمیاں پہلے ہم نے گھر بنا کر فاصلے پیدا کیے پھر اٹھا دیں اور دیواریں گھروں کے درمیاں عہد حاضر میں اخوت کا تصور ہے مگر تذکروں ...

مزید پڑھیے

کر گیا میرے دل و جاں کو معطر کوئی

کر گیا میرے دل و جاں کو معطر کوئی چھو کے اس طرح سے گزرا مجھے اکثر کوئی جتنی نظریں تھیں اسی شخص میں الجھی ہوئی تھیں جا رہا تھا سر بازار سنبھل کر کوئی کون سا حادثہ گزرا نہیں اس پر اس بار اور وہ ہے کہ شکایت نہیں لب پر کوئی دل کو دل ان کی نگاہوں نے بنایا ورنہ ایسا بے درد تھا دل جیسے ...

مزید پڑھیے

لوگو ہم چھان چکے جا کے سمندر سارے

لوگو ہم چھان چکے جا کے سمندر سارے اس نے مٹھی میں چھپا رکھے ہیں گوہر سارے زخم دل جاگ اٹھے پھر وہی دن یار آئے پھر تصور پہ ابھر آئے وہ منظر سارے تشنگی میری عجب ریت کا منظر نکلی میرے ہونٹوں پہ ہوئے خشک سمندر سارے اس کو غمگین جو پایا تو میں کچھ کہہ نہ سکا بجھ گئے میرے دہکتے ہوئے تیور ...

مزید پڑھیے

وقت کی قید سے آزاد کرانے آئے

وقت کی قید سے آزاد کرانے آئے آخری وقت مجھے منہ ہی دکھانے آئے ان دنوں میری طبیعت میں ہے مدہوشی سی اس سے کہہ دو کہ مرا درد جگانے آئے میں نے جب پیار کی دولت سے نوازا ہے اسے وہ بھی دو بول محبت کے سنانے آئے عمر بھر ساتھ نبھانے کو کہا ہے کس نے وہ مرے ساتھ بس اک شام منانے آئے دل کو دریا ...

مزید پڑھیے

خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے

خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے میری رسوائی کے کیا کیا نہ بہانے مانگے میں اسے روز نئے زخم دکھاؤں پھر بھی دل بے مہر وہی درد پرانے مانگے ایک آوارۂ منزل سے محبت کر کے تو بڑے شہر میں رہنے کو ٹھکانے مانگے یاد ماضی کے سوا پاس مرے کچھ بھی نہیں تو میری جان وہ پہلے سے زمانے مانگے رات ...

مزید پڑھیے

میں نے جس کو چاہا تھا

میں نے جس کو چاہا تھا وہ خوشبو کا جھونکا تھا چاند کے اجلے چہرے پر وقت کا گہرا سایہ تھا پیچھے مڑ کر دیکھنے والا دور گئے تک رویا تھا تو بھی تو وہ پڑھ نہ سکا چہرے پر جو لکھا تھا کیسے اس کو محو کروں برسوں جس کو پوجا تھا تو نے جس کو کاٹ دیا ہے میں اس پیڑ کا پتا تھا

مزید پڑھیے
صفحہ 4613 سے 6203