اب ملاقات کہاں شیشے سے پیمانے سے
اب ملاقات کہاں شیشے سے پیمانے سے فاتحہ پڑھ کے چلے آئے ہیں مے خانے سے کیا کریں جام و سبو ہاتھ پکڑ لیتے ہیں جی تو کہتا ہے کہ اٹھ جائیے مے خانے سے پھونک کر ہم نے ہر اک گام پہ رکھا ہے قدم آسماں پھر بھی نہ باز آیا ستم ڈھانے سے ہم کو جب آپ بلاتے ہیں چلے آتے ہیں آپ بھی تو کبھی آ جائیے ...