ہم جان کے ان کی محفل میں اغیار کی باتیں کرتے ہیں

ہم جان کے ان کی محفل میں اغیار کی باتیں کرتے ہیں
پھولوں کو ستانے کی خاطر ہم خار کی باتیں کرتے ہیں


کچھ لوگ گلابوں کی صورت کانٹوں سے گزارہ کرتے ہیں
محروم محبت ہو کر بھی وہ پیار کی باتیں کرتے ہیں


کلیوں کو چٹکتا دیکھ کے جو بجلی کو پکارا کرتے تھے
اب راکھ اڑا کر لوگ وہی گلزار کی باتیں کرتے ہیں


افسوس ہے ان انسانوں پر جو چند نوالوں کی خاطر
شاہوں کے قصیدے لکھتے ہیں سرکار کی باتیں کرتے ہیں


دیکھا ہے جب سے پھولوں نے اے جان تمہارے چہرے کو
آپس میں تمہارے ہونٹوں کی رخسار کی باتیں کرتے ہیں


جو ساری عمر فصیلوں میں سورج کی شعاعوں کو ترسے
وہ لوگ ہمیں سے کوچہ کی بازار کی باتیں کرتے ہیں


جو رات کو اپنے ساتھ لیے آئے تھے شہر کی گلیوں میں
اب نور کے تڑکے صبحوں کے آثار کی باتیں کرتے ہیں


وہ زندہ تھا تو کوئی بھی پرسان حال نہ تھا اس کا
اب کتنے شوق سے لوگ اسی بیمار کی باتیں کرتے ہیں