قومی زبان

صبر آتا ہے جدائی میں نہ خواب آتا ہے

صبر آتا ہے جدائی میں نہ خواب آتا ہے رات آتی ہے الٰہی کہ عذاب آتا ہے بے قراری دل بے تاب کی خالی تو نہیں یا وہ خود آتے ہیں یا خط کا جواب آتا ہے منہ میں واعظ کے بھی بھر آتا ہے پانی اکثر جب کبھی تذکرۂ جام شراب آتا ہے کس قیامت کی یہ آمد ہے خدا خیر کرے فتنۂ حشر بھی ہمراہ رکاب آتا ...

مزید پڑھیے

نہ سہی آپ ہمارے جو مقدر میں نہیں

نہ سہی آپ ہمارے جو مقدر میں نہیں اب وہ پہلی سی تڑپ بھی دل مضطر میں نہیں آپ کی بات کی وقعت نہیں اصلاً دل میں آپ دم بھر میں تو ہاں کرتے ہیں دم بھر میں نہیں مجھ کو باور تو جب آئے کہ کچھ امید بھی ہو لکھ دیا خط میں وہ اس نے جو مقدر میں نہیں میں نے پوچھا تھا کہو اور ستاؤ گے مجھے منہ سے ...

مزید پڑھیے

اب کسی بات کا طالب دل ناشاد نہیں

اب کسی بات کا طالب دل ناشاد نہیں آپ کی عین عنایت ہے یہ بیداد نہیں آپ شرما کے نہ فرمائیں ہمیں یاد نہیں غیر کا ذکر ہے یہ آپ کی روداد نہیں دم نکل جائے گا حسرت ہی میں اک دن اپنا سچ کہا تم نے کچھ انسان کی بنیاد نہیں پہلے نالے کو سنا غور سے پھر ہنس کے کہا آپ کی ساری ہی بناوٹ ہے یہ فریاد ...

مزید پڑھیے

دریا کے کنارے

پانی بہتا چلتا ہے کچھ دکھ سہتا چلتا ہے سناٹا سا کچھ چھایا ہے پانی کچھ مرجھایا ہے لہریں ہیں کچھ میلی میلی موجیں ہیں کچھ پھیلی پھیلی تارے جھک جھک پڑتے ہیں پتے چپ چپ جھڑتے ہیں ابر کے ٹکڑے اڑتے ہیں کٹتے ہیں پھر جڑتے ہیں تارے جھم جھم ہوتے ہیں طائر چپکے سوتے ہیں شاخیں سر بہ گریباں ...

مزید پڑھیے

کب خلا میں سورج کی ڈھے سے شام ہوتی ہے

کب خلا میں سورج کی ڈھے سے شام ہوتی ہے بد دعا سی بد صورت شے سے شام ہوتی ہے آفتاب جب تھک کے حوض سے نکلتا ہے تب سراب زادوں کی نے سے شام ہوتی ہے گھونسلے بلاتے ہیں پنچھیوں کو پیڑوں میں جب فضا میں چیلوں کی قے سے شام ہوتی ہے کون دیکھ پاتا ہے رات کی سیاہ کاری دن کو ہوش آتا ہے مے سے شام ...

مزید پڑھیے

چل خود کو لٹکا کر دیکھیں پھندے سے

چل خود کو لٹکا کر دیکھیں پھندے سے وہم مجھے اکثر آتے ہیں گندے سے بار اٹھانا سب کے بس کی بات نہیں کڑ کڑ آوازیں آتی ہیں کندھے سے ہم بھی لاشوں کے اس ڈھیر کا حصہ ہیں کس نے پار کیے انبار بلند ایسے بھوکے پیٹ کو کاٹیں گے جب کاتیں گے جیون پہیہ کب چلتا ہے چندے سے پڑھ کر پھر سے مر جاتے ہیں ...

مزید پڑھیے

پانی نہیں مزید میسر سے کیا بعید

پانی نہیں مزید میسر سے کیا بعید جن پنگ سے کیا امید نریندر سے کیا بعید ہم تخت پر بٹھا دیں سمجھ کر جسے حسین اندر سے ہو یزید سکندر سے کیا بعید پرسے کو آئے اور مرا درد بھاگ جائے پھر زخم دے شدید ستم گر سے کیا بعید خواہش کو وہ دکھا دے حقیقت کا آئنہ ہو ہر دعا شنید مقدر سے کیا بعید وہ ...

مزید پڑھیے

نہ کیوں کر نذر دل ہوتا نہ کیوں کر دم مرا جاتا

نہ کیوں کر نذر دل ہوتا نہ کیوں کر دم مرا جاتا اکیلا بھیجتا اس کو وہ خالی ہاتھ کیا جاتا جنازہ پر بھی وہ آتے تو منہ کو ڈھانک کر آتے ہماری جان لے کر بھی نہ انداز حیا جاتا تمہاری یاد میرا دل یہ دونوں چلتے پرزے ہیں جو ان میں سے کوئی مٹتا مجھے پہلے مٹا جاتا تیری چتون کے بل کو ہم نے ...

مزید پڑھیے

شوق اپنا آپ میں اپنی زباں سے کیوں کہوں

شوق اپنا آپ میں اپنی زباں سے کیوں کہوں دل جو کچھ کہتا ہے وہ اس بد گماں سے کیوں کہوں تم سمجھ لو سوچ لو تم تاڑ لو پہچان لو بات اپنے دل کی میں اپنی زباں سے کیوں کہوں کان میں سن لو ادھر آ کر مری اک بات تم تم سے کچھ کہتا ہوں میں سارے جہاں سے کیوں کہوں داستاں اول سے سنیے میری سننی ہے ...

مزید پڑھیے

آ گئے پھر ترے ارمان مٹانے ہم کو

آ گئے پھر ترے ارمان مٹانے ہم کو دل سے پہلے یہ لگا دیں گے ٹھکانے ہم کو سر اٹھانے نہ دیا حشر کے دن بھی ظالم کچھ ترے خوف نے کچھ اپنی وفا نے ہم کو کچھ تو ہے ذکر سے دشمن کے جو شرماتے ہیں وہم میں ڈال دیا ان کی حیا نے ہم کو ظلم کا شوق بھی ہے شرم بھی ہے خوف بھی ہے خواب میں چھپ کے وہ آتے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4597 سے 6203