قومی زبان

زندگانی میں نیکیاں رکھ دے

زندگانی میں نیکیاں رکھ دے شب کی دنیا میں کہکشاں رکھ دے حسن پھولوں کا اور نکھرے گا صحن گلشن میں تتلیاں رکھ دے آگ نفرت کی کیوں لگاتا ہے خاک کرکے نہ بستیاں رکھ دے غیر محفوظ سارے خطے ہیں تو جہاں چاہے آشیاں رکھ دے کوئی بیتابؔ حال دل پوچھے زیست کی چند تلخیاں رکھ دے

مزید پڑھیے

زمیں کی بات نہ میں آسمان کی بات کروں

زمیں کی بات نہ میں آسمان کی بات کروں لگن ہے دل میں کہ تسخیر کائنات کروں فریب کھانا تو منظور ہے مگر یا رب مرا مزاج نہیں ہے کہ میں بھی گھات کروں مجھے ملے ہیں عجیب و غریب ہمسائے نہ گفتگو ہی نہ ترک تعلقات کروں پھر اس کے بعد ہی راحت کی بات سوچوں گا میں پہلے پار تعصب کے جنگلات ...

مزید پڑھیے

نہ ارماں بن کے آتے ہیں نہ حسرت بن کے آتے ہیں

نہ ارماں بن کے آتے ہیں نہ حسرت بن کے آتے ہیں شب وعدہ وہ دل میں درد فرقت بن کے آتے ہیں پریشاں زلف منہ اترا ہوا محجوب سی آنکھیں وہ بزم غیر سے عاشق کی صورت بن کے آتے ہیں بنے ہیں شیخ صاحب نقل مجلس بزم رنداں میں جہاں تشریف لے جاتے ہیں حضرت بن کے آتے ہیں نہ رکھنا ہم سے کچھ مطلب یہ پہلی ...

مزید پڑھیے

عدو کو دیکھ کے جب وہ ادھر کو دیکھتے ہیں

عدو کو دیکھ کے جب وہ ادھر کو دیکھتے ہیں نظر چرا کے ہم ان کی نظر کو دیکھتے ہیں وہ رکھ کے ہاتھ سے آئینہ تن کے بیٹھ گئے دہن کو دیکھ چکے اب کمر کو دیکھتے ہیں کسی کے حسن سے یہ ہم کو بد گمانی ہے کہ پہلے نامہ سے ہم نامہ بر کو دیکھتے ہیں یہ امتحان کشش حسن و عشق کا ہے بنا نہ ہم ادھر کو نہ اب ...

مزید پڑھیے

حضرت دل یہ عشق ہے درد سے کسمسائے کیوں

حضرت دل یہ عشق ہے درد سے کسمسائے کیوں موت ابھی سے آئے کیوں جان ابھی سے جائے کیوں عشق کا رتبہ ہے بڑا عشق خدا سے جا ملا آپ نے کیا سمجھ لیا آپ یہ مسکرائے کیوں میرا غلط گلہ سہی ظلم و جفا روا سہی ناز ستم بجا سہی آنکھ کوئی چرائے کیوں تجھ سے زیادہ نازنیں اس میں ہزاروں ہیں حسیں دل ہے یہ ...

مزید پڑھیے

اور ساقی پلا ابھی کیا ہے

اور ساقی پلا ابھی کیا ہے تیری سرکار میں کمی کیا ہے اب فقط اس لیے ہے یہ تکرار کوئی پوچھے تری خوشی کیا ہے ہم بھی بیخودؔ سے آج مل آئے اک فرشتہ ہے آدمی کیا ہے

مزید پڑھیے

جتائے جاتے ہیں احسان بھی ستا کے مجھے

جتائے جاتے ہیں احسان بھی ستا کے مجھے سکھا رہے ہیں وہ گویا چلن وفا کے مجھے رکھا نہ ہم کو کہیں کا تری محبت نے وہ کہہ رہے ہیں عدو سے سنا سنا کے مجھے تمیز عشق و ہوس پیشتر نہ تھی ان کو وہ اور ہو گئے مغرور آزما کے مجھے شب وصال ادائیں بھی ہیں جفائیں بھی دکھائے جاتے ہیں انداز کس بلا کے ...

مزید پڑھیے

تمہیں ہم چاہتے تو ہیں مگر کیا

تمہیں ہم چاہتے تو ہیں مگر کیا محبت کیا محبت کا اثر کیا وفا کا نام تو پیچھے لیا ہے کہا تھا تم نے اس سے پیشتر کیا ہزاروں بار بگڑے رات بھر میں نبھے گی تم سے اپنی عمر بھر کیا نظر ملتی نہیں اٹھتی نہیں آنکھ کوئی پوچھے کہ ہے مد نظر کیا شکایت سن کے وہ بیخودؔ سے بولے تجھے اے بے خبر میری ...

مزید پڑھیے

کیوں کہہ کے دل کا حال اسے بد گماں کروں

کیوں کہہ کے دل کا حال اسے بد گماں کروں یہ راز وہ نہیں ہے جسے میں بیاں کروں مجھ کو یہ ضد کہ وصل کا اقرار تم سے لوں تم کو یہ ہٹ کہ میں نہ کبھی تجھ سے ہاں کروں یہ کہہ رہی ہے مجھ سے کسی کی نگاہ شرم فرصت اگر حیا سے ملے شوخیاں کروں تو مجھ کو آزما کے وفاداریوں میں دیکھ میں بے وفائیوں میں ...

مزید پڑھیے

رات بھر گردش تھی ان کے پاسبانوں کی طرح

رات بھر گردش تھی ان کے پاسبانوں کی طرح پانو میں چکر تھا میرے آسمانوں کی طرح دل میں ہیں لیکن انہیں دل سے غرض مطلب نہیں اپنے گھر میں رہتے ہیں وہ مہمانوں کی طرح دل کے دینے کا کہیں چرچا نہ کرنا دیکھنا لے کے دل سمجھا رہے ہیں مہربانوں کی طرح نام پر مرنے کے مرتے ہیں مگر مرتے نہیں کون ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4596 سے 6203