عاشق ہیں مگر عشق نمایاں نہیں رکھتے
عاشق ہیں مگر عشق نمایاں نہیں رکھتے ہم دل کی طرح چاک گریباں نہیں رکھتے سر رکھتے ہیں سر میں نہیں سودائے محبت دل رکھتے ہیں دل میں کوئی ارماں نہیں رکھتے نفرت ہے کچھ ایسی انہیں آشفتہ سروں سے اپنی بھی وہ زلفوں کو پریشاں نہیں رکھتے رکھنے کو تو رکھتے ہیں خبر سارے جہاں کی اک میرے ہی دل ...