قومی زبان

کہاں آفاق سارا چاہیے تھا

کہاں آفاق سارا چاہیے تھا ہمیں بس اک ستارہ چاہیے تھا جہاں دیکھوں وہاں آؤ نظر تم نظر کو وہ نظارہ چاہیے تھا میری خاموشیوں کا تو سبب تھا مجھے تیرا اشارہ چاہیے تھا دوبارہ چاہتا تھا عشق کرنا مجھے تو ہی دوبارہ چاہیے تھا غزل لکھنے لگا فرقت میں تیری کوئی دل کش سہارا چاہیے تھا

مزید پڑھیے

اس نے بولا یار چھپا کر رکھنا تم

اس نے بولا یار چھپا کر رکھنا تم ہم دونوں کا پیار چھپا کر رکھنا تم جو میری صورت سے ملتے جلتے ہوں وہ سارے اشعار چھپا کر رکھنا تم سیدھے ہاں مت کرنا میں مر جاؤں گا تھوڑا یہ اقرار چھپا کر رکھنا تم مشکل سے آتا ہے اور اڑ جاتا ہے اس ہفتے اتوار چھپا کر رکھنا تم بچہ ہے وہ اور بچے ضد کرتے ...

مزید پڑھیے

آئے گا کہہ کر گیا تھا پھر مگر آیا نہیں

آئے گا کہہ کر گیا تھا پھر مگر آیا نہیں منتظر میں رہ گیا وہ لوٹ کر آیا نہیں اک نظر آیا نظر وہ پھر نظر سے چھپ گیا پھر نظر کو اک نظر بھی وہ نظر آیا نہیں زندگی کے راستے پر طے کیا لمبا سفر پر سفر میں زندگی کے ہم سفر آیا نہیں ایک ڈر اکثر ڈراتا ہے مجھے بھی آج تک آج تک کیوں دل میں میرے ...

مزید پڑھیے

بھیڑ میں گونگوں کی پہچان بنانے کے لیے

بھیڑ میں گونگوں کی پہچان بنانے کے لیے حوصلہ چاہیے آواز اٹھانے کے لیے دین انساں کی بھلائی کے لیے آیا تھا رہ گیا اب یہ فقط کھانے کمانے کے لیے پیار کو بھولنا آسان نہیں ہے صاحب مدتیں لگتی ہیں اک شخص بھلانے کے لیے روز دو روز کا قصہ نہ سمجھیے اس کو عشق تو ہوتا ہے اک عمر رلانے کے ...

مزید پڑھیے

ہم کو خنجر سے نہ تلوار سے ڈر لگتا ہے

ہم کو خنجر سے نہ تلوار سے ڈر لگتا ہے میرے محبوب ترے پیار سے ڈر لگتا ہے خوف کھاتے ہیں حکومت سے زمانے والے اور حکومت کو قلم کار سے ڈر لگتا ہے کس کو مظلوم بتا دے کسے کہہ دے ظالم آج کے دور کے اخبار سے ڈر لگتا ہے اہمیت جس کی نظر میں نہ ہو سچائی کی اس شہنشاہ کے دربار سے ڈر لگتا ہے راز ...

مزید پڑھیے

یہ بدلتے ہوئے منظر نہیں دیکھے جاتے

یہ بدلتے ہوئے منظر نہیں دیکھے جاتے دست احباب میں خنجر نہیں دیکھے جاتے دیکھے جاتے ہیں فقط فتح مبیں کے سپنے جنگ میں کٹتے ہوئے سر نہیں دیکھے جاتے یہ محبت ہے کسی سے بھی یہ ہو سکتی ہے اس میں تنگ دست و تونگر نہیں دیکھے جاتے اپنے مٹی کے دیوں پر ہی قناعت کر لو روز سورج کے یہ تیور نہیں ...

مزید پڑھیے

مرا کیا میں تو رسوا ہو گیا نا

مرا کیا میں تو رسوا ہو گیا نا تمہارا خواب پورا ہو گیا نا میں کہتا تھا کہ میں پیتا نہیں ہوں سر محفل تماشا ہو گیا نا غریبی میں محبت کر لی میں نے نیا غم اور پیدا ہو گیا نا چلو کچھ پیار کی باتیں کریں اب تمہارا غصہ ٹھنڈا ہو گیا نا یہ دنیا چھوٹتی ہے چھوٹ جائے ارے وہ تو ہمارا ہو گیا ...

مزید پڑھیے

بیٹھے بیٹھے پریشانیاں بڑھ گئیں

بیٹھے بیٹھے پریشانیاں بڑھ گئیں دل لگایا تو تنہائیاں بڑھ گئیں پل دو پل کی ملاقات سے کیا ملا اور بھی دل کی بیتابیاں بڑھ گئیں تم کو تکنے کا اک فائدہ یہ ہوا میری آنکھوں کی بینائیاں بڑھ گئیں اک کلی باغ میں پھول کیا بن گئی بھونرے آنے لگے تتلیاں بڑھ گئیں اپنی اولاد جب آ گئی ...

مزید پڑھیے

سر محفل تماشا اپنا بنوانا نہیں اچھا

سر محفل تماشا اپنا بنوانا نہیں اچھا جہاں عزت نہ ملتی ہو وہاں جانا نہیں اچھا ترے آنے سے میں خوش ہوں ترے جانے سے افسردہ ترا آنا تو اچھا ہے مگر جانا نہیں اچھا ہمیں سے کہتے ہو دیوانگی اچھی نہیں ہوتی کبھی زلفوں سے بھی کہہ دو کہ بل کھانا نہیں اچھا مزہ تو تب ہے جب پوری طرح سے ہوش کھو ...

مزید پڑھیے

گھر میں جب بیٹیاں نہیں ہوں گی

گھر میں جب بیٹیاں نہیں ہوں گی پیڑ پر ٹہنیاں نہیں ہوں گی غم سے سمجھوتا کر لیا دل نے اب یہاں سسکیاں نہیں ہوں میں کہ دور جدید کی لڑکی پاؤں میں بیڑیاں نہیں ہوں گی واپسی کا ہے سوچنا بے سود اب جلی کشتیاں نہیں ہوں گی اب دیوں کو بچانا واجب ہے آندھیاں مہرباں نہیں ہوں گی بارشوں کے سفر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4592 سے 6203