قومی زبان

پوچھتے ہیں بزم میں سن کر وہ افسانہ مرا

پوچھتے ہیں بزم میں سن کر وہ افسانہ مرا آپ ہیں کہتی ہے دنیا جس کو دیوانہ مرا بس یہی ہے مختصر تشریح حسن و عشق کی وہ تمہاری داستاں ہے یہ ہے افسانہ مرا ہیں تصور میں ترے جلوے تری رعنائیاں رونق صد انجمن ہے آج ویرانہ مرا خود مرے آنسو ہی اس کے حق میں شعلے بن گئے برق و باراں سے تو تھا ...

مزید پڑھیے

کہاں پہنچے گا وہ کہنا ذرا مشکل سا لگتا ہے

کہاں پہنچے گا وہ کہنا ذرا مشکل سا لگتا ہے مگر اس کا سفر دیکھو تو خود منزل سا لگتا ہے نہیں سن پاؤ گے تم بھی خموشی شور میں اس کی اسے تنہائی میں سننا بھری محفل سا لگتا ہے بجھا بھی ہے وہ بکھرا بھی کئی ٹکڑوں میں تنہا بھی وہ صورت سے کسی عاشق کے ٹوٹے دل سا لگتا ہے وہ سپنا سا ہے سایہ سا ...

مزید پڑھیے

ملتی مدت میں ہے اور پل میں ہنسی جاتی ہے

ملتی مدت میں ہے اور پل میں ہنسی جاتی ہے زندگی یوں ہی کٹی یوں ہی کٹی جاتی ہے اپنی چادر میں اسے کھینچ لیا لپٹے رہے چاندنی یوں ہی چھوئی یوں ہی چھوئی جاتی ہے بھیگی آنکھوں سے کبھی بھیگے لبوں سے ہو کر شاعری یوں ہی بہی یوں ہی بہی جاتی ہے عشق اس سے بھی کیا تم سے بھی کر لیتے ہیں بندگی یوں ...

مزید پڑھیے

ستارہ ہار چکی تھی سبھی جواری رات

ستارہ ہار چکی تھی سبھی جواری رات بس ایک چاند بچا تھا سو وہ بھی ہاری رات بتاؤ کیسے کہاں تم نے کل گزاری رات اٹھائی سود پہ یا قرض پہ اتاری رات نہیں بلائی نہیں ہم نے خود بخود آئی یہاں نہ آتی تو جاتی کہاں بیچاری رات اتارا ٹانگ دیا رین کوٹ کھونٹی پر پھر اس سے رستی رہی بوند بوند ساری ...

مزید پڑھیے

کبھی تو سامنے آ بے لباس ہو کر بھی

کبھی تو سامنے آ بے لباس ہو کر بھی ابھی تو دور بہت ہے تو پاس ہو کر بھی تیرے گلے لگوں کب تک یوں احتیاطاً میں لپٹ جا مجھ سے کبھی بد حواس ہو کر بھی تو ایک پیاس ہے دریا کے بھیس میں جانا مگر میں ایک سمندر ہوں پیاس ہو کر بھی تمام اہل نظر صرف ڈھونڈھتے ہی رہے مجھے دکھائی دیا سورداس ہو کر ...

مزید پڑھیے

کیسی کیسی نہیں کرتا رہا من مانی میں

کیسی کیسی نہیں کرتا رہا من مانی میں سوچ کر اپنے لئے لکھتا تھا لا فانی میں بھیڑ میں سب کی طرح ظلم پے چپ چاپ رہا آج پھر اک دفعہ مر گیا انسانی میں پیدا ہونے کے تو مطلب نہ رہے ہوں گے کچھ بس کہ اب مرنا نہیں چاہتا بے معنی میں ایک تاریخ کی تعمیر کرے وہ لمحہ ایک سمندر جو رچے بوند وہی ...

مزید پڑھیے

نہ قریب آ نہ تو دور جا یہ جو فاصلہ ہے یہ ٹھیک ہے

نہ قریب آ نہ تو دور جا یہ جو فاصلہ ہے یہ ٹھیک ہے نہ گزر حدوں سے نہ حد بتا یہی دائرہ ہے یہ ٹھیک ہے نہ تو آشنا نہ ہی اجنبی نہ کوئی بدن ہے نہ روح ہی یہی زندگی کا ہے فلسفہ یہ جو فلسفہ ہے یہ ٹھیک ہے یہ ضرورتوں کا ہی رشتہ ہے یہ ضروری رشتہ تو ہے نہیں یہ ضرورتیں ہی ضروری ہیں یہ جو واسطہ ہے ...

مزید پڑھیے

جن پر نثار شمس و قمر آسماں کے ہیں

جن پر نثار شمس و قمر آسماں کے ہیں دو ذرے خاک کشور ہندوستاں کے ہیں کہسار فصل گل میں پرستاں سے کم نہیں کیا کیا طلسم سبزۂ آب رواں کے ہیں اخلاق وضع طرز روش سب میں انقلاب اب رنگ ڈھنگ اور ہی پیر و جواں کے ہیں ہے عقل دنگ صفحۂ اول میں آج تک کہنے کو گرچہ سات ورق آسماں کے ہیں

مزید پڑھیے

کیا روشنی حسن صبیح انجمن میں ہے

کیا روشنی حسن صبیح انجمن میں ہے فانوس میں ہے شمع کہ تن پیرہن میں ہے بھڑکاتی ہے جنوں کو گل و لالہ کی بہار اک آگ سی لگی ہوئی سارے چمن میں ہے پرزے سمجھ کے جامۂ تن کے اڑا جنوں وہ جامہ زیب بھی تو اسی پیرہن میں ہے سوکھے شجر ہرے جو ہوئے پھر تو کیا ہوا ناسور نو ہمارے بھی زخم کہن میں ...

مزید پڑھیے

زخم کوئی پھول جیسا کھل گیا تو کیا کہوں

زخم کوئی پھول جیسا کھل گیا تو کیا کہوں ہاتھ تتلی کا اگر پھر چھل گیا تو کیا کہوں شخص کوئی یاد آتا ہے مجھے اک عمر سے سوچتا ہوں گر کبھی وہ مل گیا تو کیا کہوں دیر سے ٹھہرا ہوا تھا تاش کے مینار سا ایک پتا پھر اچانک ہل گیا تو کیا کہوں بات دل کی آج اس سے بولنے کا دل کیا چپ رہا یہ سوچ کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4582 سے 6203