قومی زبان

گردش چشم یار نے مارا

گردش چشم یار نے مارا دور لیل و نہار نے مارا مر رہا ہوں مگر نہیں مرتا خلش انتظار نے مارا سخت جانی مری جو سن پائی دم نہ پھر تیغ یار نے مارا وصل میں بھی یہ مضطرب ہی رہا اس دل بے قرار نے مارا ہم تو جیتے ابھی مگر بیخودؔ ستم روزگار نے مارا

مزید پڑھیے

اس بزم میں نہ ہوش رہے گا ذرا مجھے

اس بزم میں نہ ہوش رہے گا ذرا مجھے اے شوق ہرزہ تاز کہاں لے چلا مجھے یہ درد دل ہی زیست کا باعث ہے چارہ گر مر جاؤں گا جو آئی موافق دوا مجھے اس ذوق ابتلا کا مزہ اس کے دم سے ہے سب کچھ ملا ملا ہو دل مبتلا مجھے دیر و حرم کو دیکھ لیا خاک بھی نہیں بس اے تلاش یار نہ در در پھرا مجھے یہ دل سے ...

مزید پڑھیے

یوں ہی رہا جو بتوں پر نثار دل میرا

یوں ہی رہا جو بتوں پر نثار دل میرا کرے گا مجھ کو زمانے میں خوار دل میرا چلی چلی مژۂ اشک بار آنکھ مری جلا جلا نفس شعلہ بار دل میرا عجیب مونس و ہمدرد و ذی مروت تھا غریق رحمت پروردگار دل میرا وفور شرم سے واں اجتناب مد نظر ہجوم شوق سے یاں بے قرار دل میرا بنا دیا اسے خودبین و خود ...

مزید پڑھیے

کیوں میں اب قابل جفا نہ رہا

کیوں میں اب قابل جفا نہ رہا کیا ہوا کہیے مجھ میں کیا نہ رہا ان کی محفل میں اس کے چرچے ہیں مجھ سے اچھا مرا فسانہ رہا واعظ و محتسب کا جمگھٹ ہے میکدہ اب تو میکدہ نہ رہا اف رے نا آشنائیاں اس کی چار دن بھی تو آشنا نہ رہا لاکھ پردے میں کوئی کیوں نہ چھپے راز الفت تو اب چھپا نہ رہا اتنی ...

مزید پڑھیے

حشر پر وعدۂ دیدار ہے کس کا تیرا

حشر پر وعدۂ دیدار ہے کس کا تیرا لاکھ انکار اک اقرار ہے کس کا تیرا نہ دوا سے اسے مطلب نہ شفا سے سروکار ایسے آرام میں بیمار ہے کس کا تیرا لاکھ پردے میں نہاں شکل ہے کس کی تیری جلوہ ہر شے سے نمودار ہے کس کا تیرا اور پامال ستم کون ہے تو ہے بیخودؔ اس ستم گر سے سروکار ہے کس کا تیرا

مزید پڑھیے

آہ کرنا دل حزیں نہ کہیں

آہ کرنا دل حزیں نہ کہیں آگ لگ جائے گی کہیں نہ کہیں مرے دل سے نکل کے دنیا میں چین سے حسرتیں رہیں نہ کہیں بے حجابی نگاہ الفت کی دیکھے وہ شرمگیں کہیں نہ کہیں آ گئے لب پہ دل نشیں نالے جا ہی پہنچیں گے اب کہیں نہ کہیں ہم سمجھتے ہیں حضرت بیخودؔ چوٹ کھا آئے ہو کہیں نہ کہیں

مزید پڑھیے

جس میں سودا نہیں وہ سر ہی نہیں

جس میں سودا نہیں وہ سر ہی نہیں درد جس میں نہیں جگر ہی نہیں لوگ کہتے ہیں وہ بھی ہیں بے چین کچھ یہ بے تابیاں ادھر ہی نہیں دل کہاں کا جو درد دل ہی نہ ہو سر کہاں کا جو درد سر ہی نہیں بے خبر جن کی یاد میں ہیں ہم خیر سے ان کو کچھ خبر ہی نہیں بیخودؔ محو و شکوہ ہائے عتاب اس منش کا تو وہ بشر ...

مزید پڑھیے

ساتھ ساتھ اہل تمنا کا وہ مضطر جانا

ساتھ ساتھ اہل تمنا کا وہ مضطر جانا اللہ اللہ ترا بزم سے اٹھ کر جانا رہبری کر کے مری خضر بھی چکر میں پڑے اب انہیں جلوہ گہہ یار میں اکثر جانا داغ کم حوصلگی دل کو گوارا نہ ہوا ورنہ کچھ ہجر میں دشوار نہ تھا مر جانا سادگی سے یہ گماں ہے کہ بس اب رحم کیا مطمئن ہوں کہ مجھے آپ نے مضطر ...

مزید پڑھیے

مرے خوابوں میں تھی تصویر کیسی

مرے خوابوں میں تھی تصویر کیسی ملی ہے خواب کی تعبیر کیسی مجھے تو گھر بھی اب زنداں لگے ہے پڑی ہے پاؤں میں زنجیر کیسی سبھی یہ لفظ منہ سے بولتے ہیں ہے اس کی شوخیٔ تحریر کیسی مقدر کا لکھا مٹتا نہیں ہے جو مٹ جائے تو پھر تقدیر کیسی خطا اتنی ہے سچی بات کہہ دی یہ سچی بات پر تعزیر کیسی

مزید پڑھیے

ادھورا خواب

شہر کیسے یہ اجنبی ٹھہرا کیسے پہچان کھو گئی میری اب کوئی جانتا نہیں مجھ کو سوچتا ہوں تو کانپ جاتا ہوں سہمے سہمے سے ہیں در و دیوار کھڑکیاں دیکھ کر تعجب سے گفتگو کر رہی ہیں آپس میں کون آیا ہے ملنے برسوں بعد کہہ رہی ہے یہ مجھ سے کیا انگنائی پوچھتی ہے کہاں سے آئے ہو کچھ بتاؤ تو کس سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4563 سے 6203