آتا ہے کوئی لطف کا ساماں لیے ہوئے بلقیس بیگم 07 ستمبر 2020 شیئر کریں آتا ہے کوئی لطف کا ساماں لیے ہوئے ہشیار اے خیال پریشاں لیے ہوئے اس سے نہ اضطراب محبت کو پوچھیے جو جی رہا ہو درد کا احساں لئے ہوئے بے چین کروٹوں سے یہ ظاہر ہے صاف صاف پنہاں ہی دل میں ہے غم پنہاں لیے ہوئے