ایک مسافر سے
تھکا سورج اجڑتی شب کے پہلو میں پناہیں ڈھونڈھتا ہے خیمۂ جاں میں سفر لمحہ طنابیں کھولتا ہے جدائی راستہ روکے کھڑی ہے اداسی ساحلوں پر ریت کی صورت بچھی ہے سفر آغاز ہونے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے ابھی مت بادباں کھولو ذرا آرام کر لو
تھکا سورج اجڑتی شب کے پہلو میں پناہیں ڈھونڈھتا ہے خیمۂ جاں میں سفر لمحہ طنابیں کھولتا ہے جدائی راستہ روکے کھڑی ہے اداسی ساحلوں پر ریت کی صورت بچھی ہے سفر آغاز ہونے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے ابھی مت بادباں کھولو ذرا آرام کر لو
تمہاری چپ مجھے ہر بار جینے کی نئی اک بد گمانی سونپ دیتی ہے میں لفظوں کے خیالوں کے سنہری سرمئی رنگین نقطوں سے کہانی کا نیا اک موڑ لکھتی ہوں بکھرتی زندگانی کو نئی ترتیب دینے کی بہت کوشش میں کرتی ہوں مگر تم تک رسائی کا کوئی رستہ نہیں بنتا تم اپنی چپ کے سچے مست لمحوں میں خود اپنے آپ ...
پرندے اور پردیسی کبھی واپس نہیں آتے جلا وطنوں کے پاؤں کے تلے دھرتی بڑی کمزور ہوتی ہے کبھی رستہ نہیں ہوتا کبھی سایہ نہیں ہوتا شجر کی آرزوئیں دھوپ کے آنسو بہاتی ہیں مگر بارش نہیں ہوتی پرندے اور پردیسی کبھی واپس نہیں آتے دعائیں گٹھریوں میں باندھ کر چوکھٹ پہ بیٹھی ماؤں کے پتھر ...
انہیں ڈھونڈھو سفر کی شام سے پہلے کسی انجام سے پہلے انہیں ڈھونڈو جو ملنے کی گھڑی میں ہم سے بچھڑے تھے دلوں سے پھوٹتے اس غم سے بچھڑے تھے جو آنکھیں خشک رکھتا ہے مگر دہلیز جاں تک پانیوں کو چھوڑ جاتا ہے جو رستہ دل کی گلیوں سے نکلتا ہو اسی رستے کی ہر اک سمت کو وہ موڑ جاتا ہے مسرت کی ہری ...
مری پلکوں پہ تابندہ تری آنکھوں کے آنسو مجھے تاریک راتوں میں نئے رستے سجھاتے ہیں وجودی واہموں کی سر زمینوں پر میں جب خود سے بچھڑتی ہوں چمکتی ریت کے ذروں کی صورت جب بکھرتی ہوں مجھے وہ اپنے نم سے جوڑ دیتے ہیں مجھے خود سے ملاتے ہیں میں جب دن کی بہت لمبی مسافت میں اداسی کی تھکن سے چور ...
یہ شہر نارسائی ہے یہاں دستور گویائی نہیں ہے یہاں لب کھولنا بھی جرم ہے یہاں پر جب کبھی آؤ خموشی کا ارادہ باندھ کر آؤ یہاں گونگے گھروں کی ساری دیواروں میں آوازوں کے جنگل جاگتے ہیں یہاں آنکھیں نہیں ہوتیں یہاں دل بھی نہیں ہوتے یہاں بس ایک ہی چہرہ ہے باقی سارے چہرے اس کی نقلیں ...
ایک دنیا سے دل نہیں بھرتا چاہ کر کوئی بھی نہیں مرتا جتنا غصہ دکھاتی ہوں اس کو وہ کسی بات پر نہیں ڈرتا بے سبب ہی اداس رہتا ہے دل کوئی کام ہی نہیں کرتا یار پر گیت لکھ رہی ہوں میں پیار کا قافیہ نہیں برتا ہر دفعہ میں ہراتی ہوں اس کو اپنی مرضی سے کیوں نہیں ہرتا
وہ بنا شہر کا خدا کب سے میری آنکھوں میں بس گیا کب سے میں تھی موجود ہر زمانے میں مجھ کو ڈھونڈا نہیں گیا کب سے ہو گئی مات ان ہواؤں کو جل رہا ہے کوئی دیا کب سے بنت حوا بھی بک چکی آخر جو بچاتی رہی ردا کب سے اب تو پہرے اٹھا لو پانی سے آب خوں میں بدل گیا کب سے
دن ڈھل چکا ہے تو میں یہی رات لے چلوں گر وہ نہیں تو اس کی کوئی بات لے چلوں تجھ جیسا خوش جمال مرے شہر میں نہیں دل چاہتا ہے آج تجھے ساتھ لے چلوں تو فتح مند ہو کے بھی سر کیوں جھکا رہا میں تو خوشی سے اپنی یہی مات لے چلوں میں خوش گمان رہ کے ہی خوش بخت ہو گئی مجھ پہ گزر گئے جو وہ حالات لے ...
کھری باتوں کا ذائقہ ترش ہوتا ہے بہ حیثیت انسان عورت کی ضرورت کسی مرد کو نہیں وہ گروی رکھی جائے یا بیچ دی جائے کرائے پہ لی جائے یا یک مشت خرید لی جائے اس کے خیالات کی بندر بانٹ ممکن نہیں حکم کی پابندی کا طوق پہن کر جیون کی کٹیا کا کرایہ ادا کرتے ہوئے اگر عورت کما سکتی تو لاتی مرد کے ...