قومی زبان

سرکار میرے عشق کا معیار دیکھنا

سرکار میرے عشق کا معیار دیکھنا لایا ہوں آپ کے لیے میں کار دیکھنا میں چھینک چھینک کر ہوا بیمار دیکھنا نسوار وعظ دیتے ہو مقدار دیکھنا لاکھوں ہوئے ہیں شہر میں بیکار دیکھنا باور نہ ہو تو آج کا اخبار دیکھنا ارزاں لگے نہ دل مرا تو اے مرے عزیز سو بار جا کے عشق کا بازار دیکھنا کہتا ...

مزید پڑھیے

ہوتا رہا فراق میں لاغر تمام رات

ہوتا رہا فراق میں لاغر تمام رات ہاتھوں سے اٹھ سکا بھی نہ ساغر تمام رات بدلیں شب فراق میں کچھ اتنی کروٹیں آئے ہیں یاد دیس کے مچھر تمام رات بڑھنے دو سوز عشق میں یہ دل کی دھڑکنیں جلتے رہیں یہ آگ کے ہیٹر تمام رات وہ باندھتے رہے میں اسے کھولتا رہا بچھ ہی سکا نہ ڈھنگ سے بستر تمام ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کو اب نگاہ کی عادت نہیں رہی

آنکھوں کو اب نگاہ کی عادت نہیں رہی اب کچھ بھی دیکھنے کی ضرورت نہیں رہی سچائیوں کی راہ بہت ہو گئی کٹھن اس راستے پہ چلنے کی ہمت نہیں رہی دشمن ہو دوست ہو کوئی اپنا کہ غیر ہو ہم کو تو اب کسی کی بھی حاجت نہیں رہی دنیا عزیز تر رہی اک عرصۂ دراز لیکن اب اس کی بھی تو محبت نہیں رہی عرصہ ...

مزید پڑھیے

ابھی بادلوں کا سفر کہاں مرے مہرباں

ابھی بادلوں کا سفر کہاں مرے مہرباں ابھی قید ہوں سر آشیاں مرے مہرباں رہے فاصلے مری دسترس میں تمام دن مگر اب تو شام کا ہے سماں مرے مہرباں سبھی پرسش غم جاں کے واسطے آئے تھے مرے چارہ گر مرے نوحہ خواں مرے مہرباں وہی لفظ ہیں در بے بہا مرے واسطے جنہیں چھو گئی ہو تری زباں مرے ...

مزید پڑھیے

دل کے زخموں کی چبھن دیدۂ تر سے پوچھو

دل کے زخموں کی چبھن دیدۂ تر سے پوچھو میرے اشکوں کا ہے کیا مول گہر سے پوچھو گھر جلا بیٹھے چراغوں کی ہوس میں آخر گھر کی قیمت تو کسی خاک بسر سے پوچھو یہ تو معلوم ہے میں سمت سفر کھو بیٹھی تم اسی بات کو انداز دگر سے پوچھو ریت اڑتی ہے سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی کٹ سکے گی کبھی یہ رات سحر ...

مزید پڑھیے

سر دشت دل جو سراب تھا کوئی خواب تھا

سر دشت دل جو سراب تھا کوئی خواب تھا مری خواہشوں کا عذاب تھا کوئی خواب تھا تری خوشبوؤں کی تلاش میں مرا راز داں وہی ایک کنج گلاب تھا کوئی خواب تھا وہ جو چاند تھا سر آسماں کوئی یاد تھی جو گلوں پہ عہد شباب تھا کوئی خواب تھا جو نہ کٹ سکا وہ نشان تھا کسی زخم کا جو نہ مل سکا وہ سراب تھا ...

مزید پڑھیے

محبت میں کوئی صدمہ اٹھانا چاہئے تھا

محبت میں کوئی صدمہ اٹھانا چاہئے تھا بھلایا تھا جسے وہ یاد آنا چاہئے تھا گری تھیں گھر کی دیواریں تو صحن دل میں ہم کو گھروندے کا کوئی نقشہ بنانا چاہئے تھا اٹھانا چاہئے تھی راکھ شہر آرزو کی پھر اس کے بعد اک طوفان اٹھانا چاہئے تھا کوئی تو بات کرنا چاہئے تھی خود سے آخر کہیں تو مجھ ...

مزید پڑھیے

منظروں کے درمیاں منظر بنانا چاہئے

منظروں کے درمیاں منظر بنانا چاہئے رہ نورد شوق کو رستہ دکھانا چاہئے اپنے سارے راستے اندر کی جانب موڑ کر منزلوں کا اک نشاں باہر بنانا چاہئے سوچنا یہ ہے کہ اس کی جستجو ہونے تلک ساتھ اپنے خود رہیں ہم یا زمانا چاہئے تیری میری داستاں اتنی ضروری تو نہیں دنیا کو کہنے کی خاطر بس فسانا ...

مزید پڑھیے

مری رات میرا چراغ میری کتاب دے

مری رات میرا چراغ میری کتاب دے مرا صحرا باندھ لے پاؤں سے مجھے آب دے مرے نکتہ داں ترا فہم اپنی مثال ہے میں ہوں ایک سادہ سوال کوئی جواب دے مری چشم نم کسی رت جگے میں الجھ گئی مری نیند اوڑھ لے رات بھر مجھے خواب دے مرے گوشوارے میں کون بھرتا گیا لہو اے مری طلب مجھے ہر گھڑی کا حساب ...

مزید پڑھیے

دل میں ہے طلب اور دعا اور طرح کی

دل میں ہے طلب اور دعا اور طرح کی ہے خاک نشینی کی سزا اور طرح کی جب راکھ سے اٹھے گا کبھی عشق کا شعلہ پھر پائے گی یہ خاک شفا اور طرح کی جاتے ہوئے موسم کی تو پہچان یہی ہے دستک میں مجھے دے گا صدا اور طرح کی ہے ہجر کا پیرایۂ فن اور طرح کا اور وصل کہانی ہے ذرا اور طرح کی شب بھی ہے وہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4552 سے 6203