قومی زبان

شہر اور میں

دل پہاڑوں پر چلا جائے کہ میدانوں میں ہو بھیڑ میں لوگوں کی یا خالی شبستانوں میں ہو شور پھر بھی تیز طوفانوں کی صورت ہر گھڑی توڑتا رہتا ہے خلوت خواہ سینوں کا جمود ریزہ ریزہ ہو گئے میری طرح کتنے وجود اب نہیں ممکن کسی صحرا میں مجنوں کا ورود ناتواں شخصیتیں برقی توانائی لیے رات کے ...

مزید پڑھیے

وقت کی آنکھیں

لمحہ لمحہ خونیں خنجر صدیاں جیبھیں ہیں سانپوں کی گھاٹ پہ بیٹھی پیاس کی دیوی اور جادوگر وقت کی آنکھیں دیکھ رہی ہیں مردہ گھر کے اک کمرے کے تیز دھویں میں ایک کنواری ننگی عورت چاٹ رہی ہے اپنے ہی بے رنگ لہو کو من کی آنکھیں کھول کے دیکھوں تو کیا دیکھوں سب تو سولی پر لٹکا ہے سب کچھ ...

مزید پڑھیے

نیند کے تعاقب میں

نیند کے تعاقب میں دور دور تک لا حاصل دیر سے بھٹکتا ہوں نیلی آنکھوں والی جنگلی بلی بار بار دم ہلاتی ہے میری چارپائی کے نیچے نیم روشن لیمپ کے ارد گرد کیڑوں پر جھپٹتی چھپکلی بے خبر ہے اپنے انت سے کتنا غیر متوقع ہوگا مل جانا اننت سے مٹی کے تیل کی گندھ قلانچیں بھر رہی ہے کمرے میں بے ...

مزید پڑھیے

سمندر کا سکوت

آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوت ہم کو اک دوسرے سے دور ہی رہنا ہوگا ہم کو ہر حال میں مجبور ہی رہنا ہوگا مجھ کو اس دور جراحت سے گزر جانے دے مجھ کو جینے کی تمنا نہیں مر جانے دے میری تقدیر میں غم ہیں تو کوئی بات نہیں مجھ کو ظلمت کی گپھاؤں میں اتر جانے دے تو نہ گھبرا کہ ترے حسن ...

مزید پڑھیے

تنہائی

تنہا بیٹھا ہوں کمرے میں ماضی کی تصویر لیے اب تو انجانے قدموں کی آہٹ سے جی ڈرتا ہے میری چاہت ان کے وعدے دفن ہوئے تحریروں میں جھوٹے ہیں سارے افسانے کون کسی پر مرتا ہے سینے کی ہر ایک جلن سے سمجھوتا کر کے میں نے ان ساری بیتی باتوں کو تاریکی میں چھوڑ دیا شیشہ کہہ لو پتھر کہہ لو کبھی ...

مزید پڑھیے

گمشدہ آدمی کا انتظار

لہو نوش لمحوں کے بیدار سائے اسے گھیر لیں گے سنانیں اٹھائے تمازت زدہ شب زن باکرہ سی سمٹ جائے گی اور بھی اپنے تن میں وہ سورج کا ساتھی اندھیروں کے بن میں اثاثہ لیے فکر کا اپنے فن میں شعاعوں کی سولی پہ زندہ ٹنگا ہے نہ اب شہر میں کوئی اتنا حزیں ہے غضب ناک تنہائیوں کو یقیں ہے کہ اس کے ...

مزید پڑھیے

اگر قریب سے دیکھو

اگر قریب سے دیکھو تو جان لو گی تم جہاں ہے سانپ کی صورت وجود سے لپٹا نہ کارواں نہ منازل نہ رہ گزر نہ سفر حیات جیسے کھڑا ہو کوئی شجر تنہا دلوں میں پیاس تڑپتی ہے رات دن اپنے بھری ہوئی ہے الم ناک یاس آنکھوں میں سیاہ بھوتوں کی مانند جاگ اٹھتے ہیں یہ بے سکوں سے مناظر اداس آنکھوں ...

مزید پڑھیے

صدمہ

بستی کی بیمار گلی میں شہنائی جب جب گونجی ہے ماں نے اکثر مجھ سے کہا ہے تم بھی اپنا بیاہ رچا لو میں گھر کے کونے میں بیٹھا شور سن رہا ہوں شہروں کا گھائل ندیوں کی لہروں کا پربت پر بیٹھا اک جوگی اپنی آنکھیں بند کیے مجھ پر ہنستا ہے اور وہ مستقبل کی عورت کبھی سراسر زہر اگلتی کبھی ...

مزید پڑھیے

فضائے آدمیت کو سنورنے ہی نہیں دیتے

فضائے آدمیت کو سنورنے ہی نہیں دیتے سیاست داں دلوں کے زخم بھرنے ہی نہیں دیتے زمانہ وہ بھی تھا جب حادثے کا ڈر ستاتا تھا مگر اب حادثے لوگوں کو ڈرنے ہی نہیں دیتے کچھ ہم نے خواب ایسے پال رکھے ہیں کہ جو ہم کو حقیقت کی زمیں پر پاؤں رکھنے ہی نہیں دیتے یہ مانا عشق سے بنتی ہے جنت زندگی ...

مزید پڑھیے

سر اٹھا کے مت چلئے آج کے زمانے میں

سر اٹھا کے مت چلئے آج کے زمانے میں جان جاتی رہتی ہے حوصلہ دکھانے میں کس سے حق طلب کیجے بے وفا زمانے میں ہونٹھ سوکھ جاتے ہیں حال دل سنانے میں ہاتھ کی لکیروں سے فیصلے نہیں ہوتے عزم کا بھی حصہ ہے زندگی بنانے میں کھو گئے کہاں میرے اعتبار کے رشتے کس نے بو دیئے کانٹے پھول سے گھرانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4531 سے 6203