قومی زبان

سب کچھ جھوٹ ہے لیکن پھر بھی بالکل سچا لگتا ہے

سب کچھ جھوٹ ہے لیکن پھر بھی بالکل سچا لگتا ہے جان بوجھ کر دھوکہ کھانا کتنا اچھا لگتا ہے اینٹ اور پتھر مٹی گارے کے مضبوط مکانوں میں پکی دیواروں کے پیچھے ہر گھر کچا لگتا ہے آپ بناتا ہے پہلے پھر اپنے آپ مٹاتا ہے دنیا کا خالق ہم کو اک ضدی بچہ لگتا ہے اس نے ساری قسمیں توڑیں سارے ...

مزید پڑھیے

دونوں میں کتنا فرق مگر دونوں کا حاصل تنہائی

دونوں میں کتنا فرق مگر دونوں کا حاصل تنہائی اپنوں میں دوری لاتی ہے وہ شہرت ہو یا رسوائی جیون کے کورے کاغذ پر جینا ہوگا تحریروں میں اجلے پنوں پر سیاہی سے کرنی ہوگی حرف آرائی ہم ہیں اس کا ہی عکس مگر ہے بیچ میں جیون کا درپن جب ٹوٹے گا جیون درپن تب ظاہر ہوگی سچائی پہلے تو خود سے ...

مزید پڑھیے

سنا ہے خود کو

اکثر دکھائی دے جاتے ہیں کہیں نہ کہیں خوشی کے آنسو لیکن کیا کبھی کسی نے غم کی ہنسی بھی سنی ہے میں نے سنی ہے اکثر سنتی ہوں بے ساختہ کھلکھلاتے ہوئے سنا ہے خود کو میں نے کتنی ہی بار ہر بار ہنسی میں اڑ جاتا ہے سارا غم کچھ پل کے لئے بس کچھ پل کے لئے

مزید پڑھیے

سنہری مچھلی

بات ہے تو کچھ عیب سی لیکن پھر بھی ہے ہو گئی تھی محبت ایک مرد کو ایک سنہری مچھلی سے لہروں سے اٹکھیلیاں کرتی بل کھاتی چمچاتی مچھلی بھا گئی تھی مرد کو ٹکٹکی باندھے پہروں دیکھتا رہتا وہ اس شوخ کی اٹھکھیلیاں مچھلی کو بھی اچھا لگتا تھا مرد کا اس طرح سے نہارنا بندھ گئے دونوں پیار کے ...

مزید پڑھیے

چاہت

تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں تمہارے لئے چاہوں کیوں بھلا کیا کبھی تم نے مجھے میرے لئے چاہا نہیں نا دراصل یہ چاہنے اور نہ چاہنے کی خواہش ہی بے معنی ہے با معنی ہے تو بس چاہت میری چاہت تمہاری چاہت یا پھر کسی اور کی چاہت

مزید پڑھیے

پیاس

سچ ہے پیاسی ہوں میں بے حد پیاسی لیکن تم سے کس نے کہا کہ تم میری پیاس بجھاؤ کہیں زیادہ خالی ہو تم مجھ سے کہیں زیادہ ریتے اور تمہیں احساس تک نہیں بھرنا چاہتے ہو تم اپنا خالی پن میری پیاس بجھانے کے نام پر تعجب ہے مجھے مکمل بنانا چاہتا ہے ایک آدھا ادھورا انسان

مزید پڑھیے

ڈائری

ردی اخبار کی طرح مجھے بیچ دیا گیا ایک کباڑی کے ہاتھوں ترازووں میں تول کر اس نے میری قیمت آنک دی خوبصورت جلد جس پر میرا عنوان لکھا تھا اس نے نوچ پھینکی وزن بڑھانے والا گتے کا ٹکڑا اسے قبول نہیں تھا میں بے نام ہو گئی میرے اوراق پھڑپھڑا اٹھے کسمسا اٹھے تب ایک بھاری باٹ دھر دیا گیا ...

مزید پڑھیے

نوائے زیست سے ملتی مری نوا تو نہیں

نوائے زیست سے ملتی مری نوا تو نہیں مری نوا میں چھپی سی تری صدا تو نہیں سکوت نغمہ سرائی کا منتہا تو نہیں خموشی شوخ بیانی کی اک سزا تو نہیں کبھی نہ الجھے ہوں جس سے کبھی نہ ٹکرائے دیار دوست میں ایسا کوئی بچا تو نہیں اداسیوں میں کمی سے خیال آتا ہے یہ خلوتیں بھی تری طرح بے وفا تو ...

مزید پڑھیے

یہ تصور کا وار جھوٹا ہے

یہ تصور کا وار جھوٹا ہے خواب جھوٹے ہیں سار جھوٹا ہے پھول تم توڑ لائے شاخوں سے کیا بہاروں سے پیار جھوٹا ہے آنکھوں میں کچھ زبان پر کچھ ہے تیرا کردار یار جھوٹا ہے ساری گستاخیاں رہیں قائم اس پہ رتبہ وقار جھوٹا ہے لاپتہ ہوں میں گھر نہیں کوئی چٹھی جھوٹی ہے تار جھوٹا ہے موت سے تیز ...

مزید پڑھیے

بازار ترے شہر کے بدنام بہت ہیں

بازار ترے شہر کے بدنام بہت ہیں چھوٹی سی خوشی کے بھی یہاں دام بہت ہیں میں کیسے چلوں حوصلے کا ہاتھ پکڑ کر اس زندگی میں گردش ایام بہت ہیں ہونٹوں سے بغاوت کی سدا کیسے ہو جاری واعظ کو حکومت سے ابھی کام بہت ہیں اس دور میں امید کروں عدل کی کیسے منصف پہ ہی جب قتل کے الزام بہت ہیں آغوش ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4527 سے 6203