قومی زبان

اک قطرے کو دریا سمجھا میں بھی کیسا پاگل ہوں

اک قطرے کو دریا سمجھا میں بھی کیسا پاگل ہوں ہر سپنے کو سچا سمجھا میں بھی کیسا پاگل ہوں بیچ دلوں کے وہ دوری تھی طے کرنا آسان نہ تھا آنکھوں کو اک رستہ سمجھا میں بھی کیسا پاگل ہوں بڑا کیا تھا پال پوس کر پھر بھی اک دن بچھڑ گئے خوابوں کو اک بچہ سمجھا میں بھی کیسا پاگل ہوں کانٹے سی ...

مزید پڑھیے

اس جہاں میں پیار مہکے زندگی باقی رہے

اس جہاں میں پیار مہکے زندگی باقی رہے یہ دعا مانگو دلوں میں روشنی باقی رہے آدمی پورا ہوا تو دیوتا ہو جائے گا یہ ضروری ہے کہ اس میں کچھ کمی باقی رہے دوستوں سے دل کا رشتہ کاش ہو کچھ اس طرح دشمنی کے سائے میں بھی دوستی باقی رہے دل کے آنگن میں اگے گا خواب کا سبزہ ضرور شرط ہے آنکھوں ...

مزید پڑھیے

ظہر عاشقی سے ڈرتا ہوں

ظہر عاشقی سے ڈرتا ہوں حسن کی برہمی سے ڈرتا ہوں میں نے ڈالی کمند سورج پر پھر بھی میں روشنی سے ڈرتا ہوں آ بسا ہوں گلی میں چیخوں کی اس لیے خامشی سے ڈرتا ہوں مسخ پہچان ہو نہ جائے کہیں بے عمل زندگی سے ڈرتا ہوں کچھ صفائی میں اپنی کہنا ہے پر تری منصفی سے ڈرتا ہوں خار کو خار گل کو گل ...

مزید پڑھیے

تخم نفرت بو رہا ہے آدمی

تخم نفرت بو رہا ہے آدمی آدمیت کھو رہا ہے آدمی زندگی کا نام ہے جہد مدام سو رہا ہے سو رہا ہے آدمی آگہی ہے شرط جینے کے لئے پھر بھی غافل ہو رہا ہے آدمی چل سکا نہ راہ پر اسلاف کی نقش پا اب کھو رہا ہے آدمی کاشف ذات خدا تھا سربسر اب نہیں ہے جو رہا ہے آدمی اپنے ہی اعمال پر پچھتا کے اب رو ...

مزید پڑھیے

سہما ہے آسمان زمیں بھی اداس ہے

سہما ہے آسمان زمیں بھی اداس ہے ہر گاؤں اور شہر میں خوف و ہراس ہے اک لمحۂ سکوں بھی میسر نہیں ہمیں تیرے بغیر اپنا ہر اک پل اداس ہے یہ کیسی دل کشی ہے یہاں کون آ گیا کیسی یہ روشنی سی مرے آس پاس ہے آوارگی کا نام ہے تہذیب نو یہاں آنکھوں میں شرم ہے نہ بدن پر لباس ہے دنیا میں اپنی آپ ...

مزید پڑھیے

دیکھنا ہو گر بنا کر کانچ کا گھر دیکھنا

دیکھنا ہو گر بنا کر کانچ کا گھر دیکھنا کون برساتا ہے کس جانب سے پتھر دیکھنا میری پلکوں پر اٹی ہے گرد رنج و کرب کی درد آنکھوں میں سمایا ہے سمندر دیکھنا اپنی خامشی بنے گی جب فسانہ اے ندیم لوگ ہاتھوں میں لیے آئیں گے پتھر دیکھنا میں ہی اک حیراں نہیں ہوں دم بخود ہیں سب یہاں قوم کو ...

مزید پڑھیے

سمجھ رہے تھے کہ اپنی سدھر گئی دنیا

سمجھ رہے تھے کہ اپنی سدھر گئی دنیا ہمیں تو مفت میں بدنام کر گئی دنیا مطالبوں سے نہیں مل سکی نجات کبھی ہوس کے زندہ تقاضوں سے بھر گئی دنیا ہر ایک آنکھ میں چڑھتا ہوا انا کا نشہ ہر ایک حرف وفا سے مکر گئی دنیا اسیر کر کے تباہی کے مجھ کو دلدل میں بتائے کون یہ مجھ کو کدھر گئی دنیا وہ ...

مزید پڑھیے

کیا بتاتے ہیں اشارات تمہیں کیا معلوم

کیا بتاتے ہیں اشارات تمہیں کیا معلوم کتنے مشکوک ہیں حالات تمہیں کیا معلوم یہ الجھتے ہوئے جذبات تمہیں کیا معلوم ہیں یہی باعث آفات تمہیں کیا معلوم ایک آنگن کو فقط اپنے سجانے کے لیے کتنی جھیلیں ہیں مہمات تمہیں کیا معلوم راز ہستی کا ہے کیا مقصد ہستی کیا ہے حل طلب ہیں یہ سوالات ...

مزید پڑھیے

اب بھی اپنا خیال رکھا ہے

اب بھی اپنا خیال رکھا ہے ہم نے ایماں سنبھال رکھا ہے نور مولا نہیں تو کیا ہے جہاں خود کو ہر شے میں ڈھال رکھا ہے گم ہوا کب کا بھیڑ میں انساں شہر سارا کھنگال رکھا ہے ہے یہ دیوانگی کہ معصومی ایک طوفان پال رکھا ہے جسم کی ٹوٹتی فصیلوں میں ہم نے انساں بحال رکھا ہے اے اجل چاؤ سے بہت ...

مزید پڑھیے

کس قدر اضطراب ہے یارو

کس قدر اضطراب ہے یارو زندگی اک عذاب ہے یارو دل مرا صاف آئنہ کی طرح ایک سادہ کتاب ہے یارو میں ہوں ناکام عشق میں لیکن کیا کوئی کامیاب ہے یارو جب سے دیکھا ہے اس نے ہنس کے مجھے دل کی حالت خراب ہے یارو غم جاناں تو راحت دل ہے فکر دنیا عذاب ہے یارو اس نے شاید کیا ہے یاد مجھے دل میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4501 سے 6203