جب سے کسی سے درد کا رشتہ نہیں رہا
جب سے کسی سے درد کا رشتہ نہیں رہا جینا ہمارا تب سے ہی جینا نہیں رہا تیرے خیال و خواب ہی رہتے ہیں آس پاس تنہائی میں بھی میں کبھی تنہا نہیں رہا آنسو بہے ہیں اتنے کسی کے فراق میں آنکھوں میں اک بھی وصل کا سپنا نہیں رہا درپیش آ رہے ہیں وہ حالات آج کل اپنوں کو اپنوں پر ہی بھروسہ نہیں ...