قومی زبان

جب سے کسی سے درد کا رشتہ نہیں رہا

جب سے کسی سے درد کا رشتہ نہیں رہا جینا ہمارا تب سے ہی جینا نہیں رہا تیرے خیال و خواب ہی رہتے ہیں آس پاس تنہائی میں بھی میں کبھی تنہا نہیں رہا آنسو بہے ہیں اتنے کسی کے فراق میں آنکھوں میں اک بھی وصل کا سپنا نہیں رہا درپیش آ رہے ہیں وہ حالات آج کل اپنوں کو اپنوں پر ہی بھروسہ نہیں ...

مزید پڑھیے

درد اوروں کا دل میں گر رکھئے

درد اوروں کا دل میں گر رکھئے بے غرض ہو کے عمر بھر رکھئے ہو ہی جائیں گی مشکلیں آسان عقل سا ایک راہبر رکھئے پاؤں ٹھہریں خیال چلتے رہیں ایک ایسا بھی تو سفر رکھئے اس کے دم سے ہے آبرو کا وجود اپنے کردار پر نظر رکھئے ہو اشارہ کہ بہہ سکے نہ ہوا آنکھ میں اتنا تو اثر رکھئے دوستی میں ہے ...

مزید پڑھیے

خوش فہمیٔ ہنر نے سنبھلنے نہیں دیا

خوش فہمیٔ ہنر نے سنبھلنے نہیں دیا مجھ کو مری انا ہی نے پھلنے نہیں دیا چاہا نئے سے ریتی رواجوں میں میں ڈھلوں لیکن روایتوں نے ہی ڈھلنے نہیں دیا ایک ایک شے بدلتی گئی میرے آس پاس حالات نے مجھے ہی بدلنے نہیں دیا چلنا تھا ساتھ ساتھ ہمیں عمر بھر مگر ناپائیدار عمر نے چلنے نہیں دیا دل ...

مزید پڑھیے

سامنے جو کہا نہیں ہوتا

سامنے جو کہا نہیں ہوتا تم سے کوئی گلہ نہیں ہوتا جو خفا ہے خفا نہیں ہوتا ہم نے گر سچ کہا نہیں ہوتا اس میں جو ایکتا نہیں ہوتی گھر یہ ہرگز بچا نہیں ہوتا جانتا کس طرح کہ کیا ہے غرور وہ جو اٹھ کر گرا نہیں ہوتا ناؤ کیوں اس کے ہاتھوں سونپی تھی ناخدا تو خدا نہیں ہوتا تپ نہیں سکتا دکھ ...

مزید پڑھیے

کہاں گئی احساس کی خوشبو فنا ہوئے جذبات کہاں

کہاں گئی احساس کی خوشبو فنا ہوئے جذبات کہاں ہم بھی وہی ہیں تم بھی وہی ہو لیکن اب وہ بات کہاں موسم نے انگڑائی لی تو مسکائے کچھ پھول مگر من میں دھوم مچا دے اب وہ رنگوں کی برسات کہاں ممکن ہو تو کھڑکی سے ہی روشن کر لو گھر آنگن اتنے چاند ستارے لے کر پھر آئے گی رات کہاں خوابوں کی ...

مزید پڑھیے

عشق کے رستے چلتے چلتے ہم ایسے مجبور ہوئے

عشق کے رستے چلتے چلتے ہم ایسے مجبور ہوئے ایک ذرا سی ٹھیس لگی تو دل کے شیشے چور ہوئے پیار میں لاکھوں دل ٹوٹے اور بنے ہزاروں افسانے جن میں دل کا درد تھا شامل وہ قصے مشہور ہوئے سچے لوگوں کو یہ دنیا جینے ہی کب دیتی ہے ان سے پوچھو جو یہ جیون جینے پر مجبور ہوئے اس دنیا میں کچھ پانے کا ...

مزید پڑھیے

کچھ یوں سفر کے شوق نے منظر دکھائے ہیں

کچھ یوں سفر کے شوق نے منظر دکھائے ہیں منزل کے پاس آ کے قدم لڑکھڑائے ہیں دنیا کے دکھ تمہارے ستم دوستوں کے غم کس کس کو ہم بتائیں کہ کس کے ستائے ہیں آئے ہیں عشق میں کبھی ایسے مقام بھی آنکھیں تھیں اشک بار تو لب مسکرائے ہیں اکثر لگا ہے سچ بھی مرا جھوٹ آپ کو پر سچ یہی ہے میں نے بہت زخم ...

مزید پڑھیے

کشتیاں منجدھار میں ہیں ناخدا کوئی نہیں

کشتیاں منجدھار میں ہیں ناخدا کوئی نہیں اپنی ہمت کے علاوہ آسرا کوئی نہیں منزلوں کی جستجو میں آ گئے اس موڑ پر اب جہاں سے لوٹنے کا راستہ کوئی نہیں ہم نے پوچھا خود کے جیسا کیا کبھی دیکھا کہیں مسکرا کر اس نے ہم سے کہہ دیا کوئی نہیں زندگی کے اس سفر میں تجربہ ہم کو ہوا ساتھ سب ہیں پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4500 سے 6203