قومی زبان

دعا ہماری کبھی با اثر نہیں ہوتی

دعا ہماری کبھی با اثر نہیں ہوتی تمہاری ہم پہ کرم کی نظر نہیں ہوتی میں کیا بتاؤں ترے غم میں کیا گزرتی ہے وہ کون لمحہ ہے جب آنکھ تر نہیں ہوتی علاج درد محبت جو ہو تو کیوں کر ہو الٰہی کوئی دوا کارگر نہیں ہوتی ترے خیال میں رہتا ہوں میں جو گم اے دوست مجھے زمانے کی کچھ بھی خبر نہیں ...

مزید پڑھیے

نہ سوچیں اہل خرد مجھ کو آزمانے کو

نہ سوچیں اہل خرد مجھ کو آزمانے کو میں جانتا ہوں بہت عقل کے فسانے کو نہیں قفس سے نکلنے کی آرزو صیاد دکھا دے ایک نظر میرے آشیانے کو اسیر کر کے قفس میں مجھے یہ حیرت ہے وہ کہہ رہے ہیں مجھی سے چمن بچانے کو سلوک اہل چمن سے یہ باغباں نے کیا قفس سمجھنے لگے ہیں سب آشیانے کو بتاؤ تم کو یہ ...

مزید پڑھیے

حشر اک گزرا ہے ویرانے پہ گھر ہونے تک

حشر اک گزرا ہے ویرانے پہ گھر ہونے تک جانے کیا بیتی ہے دانے پہ شجر ہونے تک ہجر کی شب یہ مرے سوز دروں کا عالم جل کے میں خاک نہ ہو جاؤں سحر ہونے تک اہل دل رہتے ہیں تا زیست وفا کے پابند شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک بے قراری کا یہ عالم ہے سر شام ہی جب دیکھیں کیا ہوتا ہے اس دل کا ...

مزید پڑھیے

کچھ اپنے دور کی بھی کہانی لکھا کرو

کچھ اپنے دور کی بھی کہانی لکھا کرو پتھر کو موم خون کو پانی لکھا کرو جدت کی رو میں لوگ کہاں سے کہاں گئے تم سے بنے تو بات پرانی لکھا کرو وہ عہد ہے کہ شعلہ فشاں بجلیوں کو بھی غزلوں میں رنگ و نور کی رانی لکھا کرو لفظوں کو اپنے اصل معانی سے عار ہے اب دوستوں کو دشمن جانی لکھا کرو ہے ...

مزید پڑھیے

ستم کے بعد بھی باقی کرم کی آس تو ہے

ستم کے بعد بھی باقی کرم کی آس تو ہے وفا شعار نہیں وہ وفا شناس تو ہے وہ دل کی بات زباں سے نہ کچھ کہیں شاید ہمارے حال پہ چہرہ مگر اداس تو ہے یہ دل فریب بنارس کی صبح کا منظر اودھ کی شام دل آرا ہمارے پاس تو ہے بھرم رہے گا ترے مے کدے کا بھی ساقی بلا سے خالی سہی ہاتھ میں گلاس تو ہے چلے ...

مزید پڑھیے

نہ وہ طائروں کا جمگھٹ نہ وہ شاخ آشیانہ

نہ وہ طائروں کا جمگھٹ نہ وہ شاخ آشیانہ تم اسے خزاں کہو گے کہ بہار کا زمانہ میں وفاؤں کا ہوں پیکر مرا جذب مخلصانہ مجھے آزما لے ہمدم جو تو چاہے آزمانا تو مجھے تباہ کر دے تو مرا نشاں مٹا دے نہ کروں گا میں گوارا مگر اپنا سر جھکانا جو اسے کوئی سنے گا تو بھلا یقیں کرے گا یہ جناب شیخ ...

مزید پڑھیے

شیشے سے زیادہ نازک تھا یہ شیشۂ دل جو ٹوٹ گیا

شیشے سے زیادہ نازک تھا یہ شیشۂ دل جو ٹوٹ گیا مت پوچھو کہ مجھ پر کیا گزری جب ہاتھ سے ساغر چھوٹ گیا تاریکئ محفل کا شکوہ تم کرتے ہو اے دیوانو کیوں خود شمع بجھا دی ہے تم نے خود بخت تمہارا پھوٹ گیا ساقی کی نظر اٹھتی ہی نہیں کیوں بادہ و ساغر کی جانب سرمایۂ مے خانہ آ کر کیا کوئی لٹیرا ...

مزید پڑھیے

مہک کلیوں کی پھولوں کی ہنسی اچھی نہیں لگتی

مہک کلیوں کی پھولوں کی ہنسی اچھی نہیں لگتی تمہارے بن ہمیں یہ زندگی اچھی نہیں لگتی بھلے مل جائے دولت اور شہرت ہم کو دنیا میں مگر دل کو محبت کی کمی اچھی نہیں لگتی ذرا سی ٹھیس لگنے سے چھلک پڑتے ہیں کیوں آنسو ہمیشہ آنکھ میں اتنی نمی اچھی نہیں لگتی محبت کے سفر میں رت بھی آتی ہے ...

مزید پڑھیے

جب بھی چلی ہے تیری بات

جب بھی چلی ہے تیری بات ہونٹوں پر مچلے نغمات چاند کھلے جب راتوں میں آئے یادوں کی بارات مانا تیرا ساتھ نہیں لیکن غم ہے اپنے ساتھ رت بھی نہیں یہ ساون کی دامن دامن ہے برسات جس انساں نے ہمت کی بدلے ہیں اس کے حالات

مزید پڑھیے

کیا چاہا تھا کیا سوچا تھا کیا گزری کیا بات ہوئی

کیا چاہا تھا کیا سوچا تھا کیا گزری کیا بات ہوئی دل بھی ٹوٹا گھر بھی چھوٹا رسوائی بھی ساتھ ہوئی وہ کیا جانے اس سے بچھڑ کے ہم پر کیا کیا گزری ہے صحرا جیسا دن کا عالم پربت جیسی رات ہوئی اس کے خط کو کیسے پڑھوں میں سارے لفظ تو بھیگے ہیں میری چھت پر بادل چھائے اس کے گھر برسات ہوئی یوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4502 سے 6203