ہر اک لب پر خموشی کی صدا تھی

ہر اک لب پر خموشی کی صدا تھی
دعاؤں میں بدلتی سی ہوا تھی


کشادہ پھیلتے آنگن دلوں کے
سبھی کے واسطے گھر میں جگہ تھی


جسے سمجھے ہوئے تھے روشنی ہم
کسی ماں کی پری جیسی دعا تھی


جو بچی کھیلتی تھی ننگے پیروں
وہ پہلی رت کی ہی جیسے گھٹا تھی


رتن جانا تھا جس کو منتھنوں کا
گھڑی وہ زندگی بھر کی سزا تھی


بھنور تھے دائروں کے آسماں میں
یہ گردش ایک نقطے کی خطا تھی