قومی زبان

طلوع عشق کے منظر تھمے تھے

طلوع عشق کے منظر تھمے تھے کہیں کاسے کہیں پر سر تھمے تھے نظر دہشت زدہ یوں ہی نہیں تھی خیالوں میں بہت سے ڈر تھمے تھے برسنا تھا جنہیں آنکھوں سے میری وہی بادل کہیں اوپر تھمے تھے دل مضطر تڑپنے لگ گیا تھا عجب طوفان سانسوں پر تھمے تھے تمہاری راہ کے پتھر تھے جتنے ہمارے پاؤں میں آ کر ...

مزید پڑھیے

تھی ہم نے پیار میں ہر بات مانی کیا کرتے

تھی ہم نے پیار میں ہر بات مانی کیا کرتے ہمیں ہی کہتے رہے وہ دوانی کیا کرتے کل اس کے ہجر کی دیوار توڑ دی ہم نے نئے زمانے میں یادیں پرانی کیا کرتے تمہارے ساتھ ہی کردار تھا ہمارا بھی جو تم گئے تو ہم آگے کہانی کیا کرتے یوں ہی اٹھا کے بڑھاپے کو سونپ دی ہم نے تمہارے بعد بھری یہ جوانی ...

مزید پڑھیے

چہرہ بتا رہا ہے راتوں کو جاگتے ہو

چہرہ بتا رہا ہے راتوں کو جاگتے ہو کیسی تھکن ملی ہے ہنس کر اتارتے ہو کس کے قدم پڑے تھے کیسے نشاں پڑے ہیں کس کے غموں کی مٹی آنگن سے جھاڑتے ہو لکھو کبھی کہ مجھ کو تم یاد کر رہے ہو مصروفیت کے لمحے بھی مجھ پہ وارتے ہو چھوڑا تھا تم نے جیسا ٹھہرے ہوئے ہیں اب تک اور تم گلی گلی میں ہم کو ...

مزید پڑھیے

تمہیں اس دل سے کیا عادی ہوا ہے

تمہیں اس دل سے کیا عادی ہوا ہے کہ جلنے کا دیا عادی ہوا ہے اسے نیند آئے بھی تو کیسے آئے وہ میرے خواب کا عادی ہوا ہے وہ آئے تو فضائیں جھومتی ہیں کسی کا راستہ عادی ہوا ہے کہا روتا ہے کیوں دل کو سنبھالو تو ہنس کر یہ کہا عادی ہوا ہے زمانے کو نہ جانے یہ ہوا کیا زمانہ آپ کا عادی ہوا ...

مزید پڑھیے

آپ کے وعدے کسی کل سے بندھے رہتے ہیں

آپ کے وعدے کسی کل سے بندھے رہتے ہیں چاہنے والے اسی پل سے بندھے رہتے ہیں تنگ آ جاتی ہیں پلو سے لگی گرہیں بھی کیسے رشتے ہیں جو ململ سے بندھے رہتے ہیں صبح کی شبنمی پلکوں کو مسلتے ہوئے ہاتھ اک نئے خواب کی کونپل سے بندھے رہتے ہیں کھٹی میٹھی سی کوئی بات لبوں میں لے کر منہ کو ڈھانپے ...

مزید پڑھیے

عمر گزری ہے سہارے نہیں بدلے میں نے

عمر گزری ہے سہارے نہیں بدلے میں نے جو پیارے ہیں وہ پیارے نہیں بدلے میں نے وہی آکاش وہی رات کی چادر سر پر چاند کو دیکھ کے تارے نہیں بدلے میں نے نیلے پیلے سے یہ لمحات ہیں جاگیر مری ہجر میں اپنے اشارے نہیں بدلے میں نے مدتوں بعد تری یاد کے میلے کپڑے کچھ بدل بھی دئے سارے نہیں بدلے میں ...

مزید پڑھیے

زباں پہ آنے سے پہلے کہی گئی ہوں میں

زباں پہ آنے سے پہلے کہی گئی ہوں میں کسی خیال میں کھو کر بنی گئی ہوں میں مرے خیال کی دہلیز اتنی اونچی ہے کہ آسماں کے برابر چنی گئی ہوں میں مرا غرور مری وحشتوں پہ حاوی ہے کچھ ایسے وصف سے ممتاز کی گئی ہوں میں مرے وجود میں پہروں سکوت رہتا ہے نہ جانے کس کی صدا میں گندھی گئی ہوں ...

مزید پڑھیے

جب بھی ہو مجھ کو تھکن تم کو دعا دیتی ہوں

جب بھی ہو مجھ کو تھکن تم کو دعا دیتی ہوں گھر کے کاموں میں مگن تم کو دعا دیتی ہوں ایسا لگتا ہے محبت کا خدا ہے اس میں دیکھتی ہوں جو گگن تم کو دعا دیتی ہوں ڈوبتے چاند کے پاؤں میں مدھر ساز ہو جب دل میں جھانکے جو کرن تم کو دعا دیتی ہوں سوچتی رہتی ہوں تم کو ہی بٹھا کر دل میں ایسی جاگی ہے ...

مزید پڑھیے

بڑا ہی تلخ لہجہ ہے زباں پر

بڑا ہی تلخ لہجہ ہے زباں پر لئے ہو بوجھ کیسا جسم و جاں پر نشاں دیوار دل کا کہہ رہا ہے کوئی تصویر تھی پہلے یہاں پر جہاں وہ دکھ رہے ہوتے ہیں پھر تو کوئی دکھتا نہیں ہم کو وہاں پر مری قیمت مجھے بھی جاننی تھی سو میں نے رکھ دیا خود کو دکاں پر جہاں کا ہر مسافر راہبر ہو ترس آتا ہے ایسے ...

مزید پڑھیے

جتنا دکھتا ہوں مجھے اس سے زیادہ نہ سمجھ

جتنا دکھتا ہوں مجھے اس سے زیادہ نہ سمجھ اس زمیں کا ہوں مجھے کوئی فرشتہ نہ سمجھ یہ تری آنکھ کے دھوکہ کے سوا کچھ بھی نہیں ایک بہتے ہوئے دریا کو کنارا نہ سمجھ چھوڑ جائے گا ترا ساتھ اندھیرے میں یہی یہ جو سایہ ہے ترا اس کو بھی اپنا نہ سمجھ جن کتابوں نے اندھیروں کے سوا کچھ نہ دیا ان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4468 سے 6203