قومی زبان

میں نے طوفان سے پہلے کا اشارہ دیکھا

میں نے طوفان سے پہلے کا اشارہ دیکھا ان کی انگڑائی کا جب شوخ نظارہ دیکھا اپنی قسمت کو کیا میں نے حوالے اس کے اس نے جاتے ہوئے مڑ کر جو دوبارہ دیکھا میں نے ہر پھول میں پائی ہے تمہاری خوشبو یعنی ہر چہرے میں بس چہرہ تمہارا دیکھا ہم تو بس آج تلک تیرے ہی شیدائی ہیں تم نے سب دیکھا مگر ...

مزید پڑھیے

جی کر ہر موسم لکھتے ہیں

جی کر ہر موسم لکھتے ہیں ہاں جی ہاں ہم کم لکھتے ہیں وہ جو پی کر رم لکھتے ہیں اکثر اپنا غم لکھتے ہیں جس کو کوئی پونچھ نہ پائے اس سیاہی سے ہم لکھتے ہیں اردو کو ہندی میں لکھ کر اب وہ غم کو گم لکھتے ہیں میں جس کو لاوا لکھتا ہوں اس کو وہ شبنم لکھتے ہیں وہ دل میں اترے بھی کیسے جن کے صرف ...

مزید پڑھیے

حادثوں پر فدا ہو گئی

حادثوں پر فدا ہو گئی زندگی کیا سے کیا ہو گئی اب تو آنسو بھی آتے نہیں درد کی انتہا ہو گئی پھول اتنے کٹیلے ہوئے ساری خوشبو ہوا ہو گئی جب بلاؤ تو آتی نہیں موت بھی بے وفا ہو گئی ایک سچ ہم نے کیا کہہ دیا ساری دنیا خفا ہو گئی جس کو کہتے ہیں ہم دوستی آج نقلی دوا ہو گئی کان سب کے سیاسی ...

مزید پڑھیے

لے کے پرچم مرے دامن کا کھڑے ہیں سارے

لے کے پرچم مرے دامن کا کھڑے ہیں سارے آ کے پھر جسم پہ پتھر یہ پڑے ہیں سارے دفن کرنے کی ہے انساں کو ضرورت اب کیا شرم سے خود میں ہی خود سے تو گڑے ہیں سارے زیست کی راہ کو اب اپنی بنانا تو مثال ہیں پشیمان جو منزل پہ کھڑے ہیں سارے کتنی پرواز بھرو اپنا نہ آغاز تجو پر بکھر کے تو زمیں پر ...

مزید پڑھیے

تھا شریک بزم غم میں ہم نواں کوئی نہیں

تھا شریک بزم غم میں ہم نواں کوئی نہیں درد دل کو حرف کرنے کا بیاں کوئی نہیں تھا خلاؤں میں بھٹکنا تنہا ہی جس کا نصیب تھا نہ چندہ سنگ اپنے کہکشاں کوئی نہیں رنگ بھر دو یوں کہ پھیلے بن دھنک جسم افق خوابوں کی تصویر سے بڑھ کے زباں کوئی نہیں کتنے دیواروں میں کھوئے درد و غم کے ...

مزید پڑھیے

پھر زباں پہ وہی بھولا سا فسانہ آیا

پھر زباں پہ وہی بھولا سا فسانہ آیا یاد وہ بے خودی کا پھر سے زمانہ آیا لیتے انگڑائی ہیں غم زخم لگے ہیں رسنے یاد جب بھولا ہوا دوست پرانا آیا وہ ٹھہرتا ہے کہاں لاکھ بلائے کوئی لوٹ کے وقت کو تو تھا نہیں آنا آیا زلف ضدی جو جبیں کو مری چھوکر گزری ابر کو یاد کوئی وعدہ نبھانا ...

مزید پڑھیے

پھر وہی رات جو تنہائی کے آغوش رہی

پھر وہی رات جو تنہائی کے آغوش رہی اک انیدی سی غزل خواب میں مدہوش رہی ہم سے وہ اجنبی اور ان سے تھے انجانے ہم تا ابد یوں ہی محبت یہ فراموش رہی پردۂ چشم میں یادوں کے ذخیرے پر شور جھانکتی ان سے جو تنہائی وہ خاموش رہی جب تلک پہنچی نہ وہ محفلوں سے محفلوں میں تب تلک میری وہ رسوائی بھی ...

مزید پڑھیے

ہر محبت میں کیوں یہ باب آئے

ہر محبت میں کیوں یہ باب آئے عشق برباد کا نصاب آئے سوچ یہ پہنے خار ہے ہم نے شاخ ہستی پہ پھر گلاب آئے کیا کرے گا وہ میکدے جا کے جس کی قسمت میں مے نہ آب آئے پلکوں کے ڈالے نیند نے پردے کس دریچے سے ہو کے خواب آئے جستجو کو تو صبح روز اگا اس میں شاید کبھی تو تاب آئے چھوڑ ہم نے دیا وفا ...

مزید پڑھیے

تیرے آنگن میں وفاؤں کا شجر رکھا تھا

تیرے آنگن میں وفاؤں کا شجر رکھا تھا اپنے ہونٹوں پہ دعاؤں کا شجر رکھا تھا کیسے نہ یاد کی کھڑکی میں ٹھہرتی کل شب میرے کمرے میں صداؤں کا شجر رکھا تھا یاد جاناں کے پرندوں کے سکوں کی خاطر اپنے سینے میں وفاؤں کا شجر رکھا تھا جانے کیا سوچ کے فطرت سے محبت کی تھی میرے اجداد نے گاؤں کا ...

مزید پڑھیے

جیسا کہتا ہے تو ویسا نہیں کرنے والی

جیسا کہتا ہے تو ویسا نہیں کرنے والی اب ترے ساتھ میں اچھا نہیں کرنے والی ایسے دیکھو نا محبت کا گماں ہوتا ہے وعدہ لینا ہے تو وعدہ نہیں کرنے والی مجھ سے واقف ہو تو انکار یہ کرتے کیوں ہو مان لو پیار کو رسوا نہیں کرنے والی مرے آنگن کے سبھی پھول بہت مہنگے ہیں اپنے گلشن کو میں صحرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4467 سے 6203