قومی زبان

بلند فکر کی ہر شعر سے عیاں ہو رمق

بلند فکر کی ہر شعر سے عیاں ہو رمق مرے قلم سے ادا ہو کبھی غزل کا حق اداس اداس ہیں انساں ہر ایک چہرہ فق یہ شہر شہر ہے یا دشت ہے یہ لق و دق میں دل کی بات کہوں یوں کہ دل تلک پہنچے نہ ہوں کنائے ہی مبہم نہ استعارے ادق چلو سمیٹ کے آفس کو اپنے گھر کی طرف افق کے پار وہ دیکھو اتر رہی ہے ...

مزید پڑھیے

بکے گی اس کی ہی دستار طے ہے

بکے گی اس کی ہی دستار طے ہے کہ جس کی قیمت کردار طے ہے ہوا تھا حادثہ کچھ اور لیکن لکھے گا اور کچھ اخبار طے ہے بڑے آنگن پہ اتراؤ نہ اتنا اٹھے گی اس میں بھی دیوار طے ہے ہے نا لائق مگر سردار کا ہے بنے گا بیٹا ہی سردار طے ہے ہے منصف ہی گرفتار تعصب عدالت میں ہماری ہار طے ہے نہ لے جا ہم ...

مزید پڑھیے

دل مرا چیخ رہا تھا شاید

دل مرا چیخ رہا تھا شاید ضبط سے درد سوا تھا شاید ایک الجھن سی رہی آفس میں گھر پہ کچھ چھوٹ گیا تھا شاید دکھتی رگ کو ہی بنایا تھا ہدف وار اپنوں نے کیا تھا شاید رخ مرا اس کی طرف رہتا تھا وہ مرا قبلہ نما تھا شاید میں نے پوچھا تھا محبت ہے تمہیں اس نے دھیرے سے کہا تھا شاید میں نے کچھ ...

مزید پڑھیے

شوق باقی نہیں باقی نہیں اب جوش و خروش

شوق باقی نہیں باقی نہیں اب جوش و خروش دن وہ پر کیف تھے جب ہم تھے سراسر مدہوش مصلحت جوش بغاوت کو دبا دیتی ہے دل دھڑکتا ہے مگر دل کی صدائیں خاموش اب کوئی صورت گفتار نظر آتی نہیں وہ بھی خاموش مرا رد عمل بھی خاموش تیری رفتار لگاتار ہو کچھوئے کی طرح ورنہ رہ جائے گا تو راہ میں مثل ...

مزید پڑھیے

جو انا کی صفت ہے ذاتی ہے

جو انا کی صفت ہے ذاتی ہے یہ نہ آتی ہے یہ نہ جاتی ہے جب کوئی فکر چھٹپٹاتی ہے تب کہاں نیند ویند آتی ہے آج دانستہ بنت حوا خود اشتہاروں کے کام آتی ہے یوں دبے پاؤں آتی تیری یاد جس طرح صبح دھوپ آتی ہے میں فدائین ہو گیا شاید ہر قدم میرا آتم‌ گھاتی ہے اب محبت ہے مصلحت آمیز اب کہاں ...

مزید پڑھیے

رشتوں کی بھیڑ میں بھی وہ تنہا کھڑا رہا

رشتوں کی بھیڑ میں بھی وہ تنہا کھڑا رہا ندیاں تھی اس کے پاس وہ پیاسا کھڑا رہا سب اس کو دیکھ دیکھ کے باہر چلے گئے وہ آئینہ تھا گھر میں اکیلا کھڑا رہا اس دور میں اس شخص کی ہمت تو دیکھیے اپنوں کے بیچ رہ کے بھی زندہ کھڑا رہا میرے پتا کی عمر سے کم تھی نہ اس کی عمر وہ گر رہا تھا اور میں ...

مزید پڑھیے

تو جلا وہ بھی غلط تھا میں جلا یہ بھی غلط

تو جلا وہ بھی غلط تھا میں جلا یہ بھی غلط حوصلہ وہ بھی غلط تھا حوصلہ یہ بھی غلط اس نے مندر توڑ ڈالا تو نے مسجد توڑ دی زلزلہ وہ بھی غلط تھا زلزلہ یہ بھی غلط بانٹ کر جسموں کو اب وہ بانٹنے نکلے ہیں دل فیصلہ وہ بھی غلط تھا فیصلہ یہ بھی غلط اس سیاست نے ہمیں ہندو مسلماں مان کر تب چھلا وہ ...

مزید پڑھیے

وہ جو غزلوں کے استاد ہیں دوستوں

وہ جو غزلوں کے استاد ہیں دوستوں کیا کہیں کتنے جلاد ہیں دوستوں زندگی کی زباں ان کو آتی نہیں وہ کتابوں کی ایجاد ہے دوستوں ایک بھی شعر غالب کا سمجھے نہیں ویسے غالب کی اولاد ہیں دوستوں بلبلوں سی وہ غزلیں سنواریں گے کیا وہ تخلص سے صیاد ہیں دوستوں کیا عجب شخص ہیں کچھ بھی سمجھے ...

مزید پڑھیے

کل نہ بدلا وہ آج بدلے گا

کل نہ بدلا وہ آج بدلے گا وقت اپنا مزاج بدلے گا آدمی کے یہاں تلاش کرو آدمی ہی سماج بدلے گا پھول مالا بنے رہے جو تم کیسے کانٹوں کا راج بدلے گا وہی افسر وہی چپراسی کیسے سب کام کاج بدلے گا وہ جو خود کو بدل نہیں سکتا وہ بھلا کیا رواج بدلے گا روگ بڑھتا ہی جا رہا ہے دوست جانے وہ کب ...

مزید پڑھیے

لوگ جس کو گنگنائیں آج کے ماحول میں

لوگ جس کو گنگنائیں آج کے ماحول میں وہ غزل کیسے سنائیں آج کے ماحول میں چوٹ لگنے پر بھی اب آنسو نکل پاتے نہیں چک گئیں سمویدنائیں آج کے ماحول میں شاعری دفتر کی فائل میں پڑی ہیں بند اب لکھ رہے ہیں یوجنائیں آج کے ماحول میں وہ جو مولک بات کہنے کا صدا عادی رہا اس کی ہیں آلوچنائیں آج ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4464 سے 6203