بلند فکر کی ہر شعر سے عیاں ہو رمق
بلند فکر کی ہر شعر سے عیاں ہو رمق مرے قلم سے ادا ہو کبھی غزل کا حق اداس اداس ہیں انساں ہر ایک چہرہ فق یہ شہر شہر ہے یا دشت ہے یہ لق و دق میں دل کی بات کہوں یوں کہ دل تلک پہنچے نہ ہوں کنائے ہی مبہم نہ استعارے ادق چلو سمیٹ کے آفس کو اپنے گھر کی طرف افق کے پار وہ دیکھو اتر رہی ہے ...