قومی زبان

شدید گرمی کے موسم میں مشاعرہ

یہ محفل سخن تھی مئی کے مہینے میں شاعر سبھی نہائے ہوئے تھے پسینے میں زندہ رہیں گے حشر تک ان شاعروں کے نام جو اس مشاعرہ میں سنائے گئے کلام صدر مشاعرہ کہ جناب خمارؔ تھے بیکس تھے بے وطن تھے غریب الدیار تھے ماہرؔ تھے بے قرار تو احقرؔ تھے بد حواس کوثرؔ پکارتے تھے کہ پانی کا اک گلاس شوقؔ ...

مزید پڑھیے

بہت برا ہوں مری جاں بہت برا ہوں میں

بہت برا ہوں مری جاں بہت برا ہوں میں خلوص دیکھ مرا خود یہ کہہ رہا ہوں میں کچھ اک برائیاں مجھ میں ازل سے ٹھہری ہیں کچھ اس زمانے میں آ کر برا ہوا ہوں میں یہ شاعری نہیں دراصل ایک پردہ ہے بغیر شور کیے جس میں چیختا ہوں میں اگر کسی کو ملوں تو مجھے خبر کر دے پتا چلا ہے کہ کچھ دن سے گمشدہ ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھ دوست کی کتنا خراب ہوتا ہے

نہ پوچھ دوست کی کتنا خراب ہوتا ہے بس اتنا جان زمانہ خراب ہوتا ہے یہ عشق ہے نہ جو یہ دل کی اک خرابی ہے خرابیوں کا نتیجہ خراب ہوتا ہے عجب مزاج کی دنیا ہے یہ کہ اس کے لیے خراب اچھا تو اچھا خراب ہوتا ہے حضور چھوڑیئے یہ امن و ومن کی باتیں سیاسی لوگوں کا دھندا خراب ہوتا ہے کوئی کسی ...

مزید پڑھیے

سب کچھ بس کہنے کو بھولا جاتا ہے

سب کچھ بس کہنے کو بھولا جاتا ہے ورنہ ذہن سے کب وہ چہرہ جاتا ہے یاد برابر آتا رہتا ہے وہ شخص نشوں کا پیسہ بھی ضائع جاتا ہے کچھ یوں ٹوٹ کے گرتے ہیں آنکھوں سے خواب شیشہ بھی حیرانی میں آ جاتا ہے اس ہنستی تصویر کو آخر کیا معلوم اس کو دیکھ کے کتنا رویا جاتا ہے اس درجہ خاموش رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

جب کبھی بھی اس جہاں سے رخصتی مجھ کو ملے

جب کبھی بھی اس جہاں سے رخصتی مجھ کو ملے قبل اس سے اے خدا کچھ زندگی مجھ کو ملے میں تو زندہ ہوں اندھیروں پر سو مجھ کو ہے یہ ڈر مر نہ جاؤں میں اگر کچھ روشنی مجھ کو ملے عمر بھر میں اپنے آنسو آب صورت پی سکوں چاہتا ہوں اس طرح کی تشنگی مجھ کو ملے اک ذرا دیکھے سے میرے نفرتیں ہو جائیں ...

مزید پڑھیے

کسی کے منتظر رہنا نہ دروازہ کھلا رکھنا

کسی کے منتظر رہنا نہ دروازہ کھلا رکھنا ہمیں آیا نہیں دل کو محبت میں لگا رکھنا یہ کرب و درد ہی دراصل ہے درکار جینے میں سو ان کو چاہیے دن رات پلکوں پہ سجا رکھنا خدا جانے فقیروں میں یہ فن کس طرح آتا ہے کوئی بھی سانحہ گزرے مگر چہرہ کھلا رکھنا امیر شہر کے لوگوں میں اک یہ بھی روایت ...

مزید پڑھیے

یہ جو خوابوں کا چسکا لگ رہا ہے

یہ جو خوابوں کا چسکا لگ رہا ہے فقط نیندوں کا دھوکا لگ رہا ہے دعا جینے کی سب دینے لگے ہیں مجھے مرنے کا خطرہ لگ رہا ہے تمہارا ہی کرم ہے مرے درد جو میرا شعر پختہ لگ رہا ہے مجھے جب سے لگا ہے نشۂ غم مجھے ہر نشہ ہلکا لگ رہا ہے مگر یہ میں نہیں ہوں آئنے میں یہ کوئی ہے جو مجھ سا لگ رہا ...

مزید پڑھیے

مثال آئینہ رہنا کوئی مذاق نہیں

مثال آئینہ رہنا کوئی مذاق نہیں کہ سچ کو منہ پہ ہی کہنا کوئی مذاق نہیں سنا ہے آنسو تو گھڑیال کے بھی بہتے ہیں لہو کا آنکھ سے بہنا کوئی مذاق نہیں ابھی ہے وقت سنبھالو سماج کو لوگو تمام قدروں کا ڈھہنا کوئی مذاق نہیں مذاق جس میں کہ حسن مذاق ہی نہ ملے مذاق ایسا بھی سہنا کوئی مذاق ...

مزید پڑھیے

جھریوں کی قطار دیکھو تو

جھریوں کی قطار دیکھو تو عمر سے اپنی ہار دیکھو تو ہوک بے اختیار اٹھتی ہے اپنے جب اختیار دیکھو تو جھیل کہتے ہو تم جن آنکھوں کو ان میں ہیں آبشار دیکھو تو جانے کیا کیا نظر وہ آتا ہے جب اسے بار بار دیکھو تو غیر ممکن ہے اتحاد میاں قوم میں انتشار دیکھو تو وصل سے آپ ہی گریزاں ہوں لذت ...

مزید پڑھیے

اشک پر زور کچھ چلا ہی نہیں

اشک پر زور کچھ چلا ہی نہیں میں نے روکا بہت رکا ہی نہیں آتش زیر پا سبب ورنہ خاک صحرا کی چھانتا ہی نہیں یا تو سب کا خدا ہی سچا ہے یا تو سچا کوئی خدا ہی نہیں ذہن کہتا ہے سر جھکا لے تو دل مگر ہے کہ مانتا ہی نہیں بال و پر ہوں قوی تو کیا حاصل جب اڑانوں کا حوصلہ ہی نہیں ہائے میں نے پس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4463 سے 6203