قومی زبان

کچھ آدمی سماج پہ بوجھل ہیں آج بھی

کچھ آدمی سماج پہ بوجھل ہیں آج بھی رسی تو جل گئی ہے مگر بل ہیں آج بھی انسانیت کو قتل کیا جائے اس لیے دیر و حرم کی آڑ میں مقتل ہیں آج بھی اب بھی وہی ہے رسم و روایت کی بندگی مطلب یہ ہے کہ ذہن مقفل ہیں آج بھی باتیں تمہاری شیخ و برہمن خطا معاف پہلے کی طرح غیر مدلل ہیں آج بھی راہیؔ ہر ...

مزید پڑھیے

ہزاروں بار کہہ کر بے وفا کو با وفا میں نے

ہزاروں بار کہہ کر بے وفا کو با وفا میں نے بتایا ہے زمانے کو وفا کا راستہ میں نے بڑی عزت سے اہل جرم میرا نام لیتے ہیں گنہ گاروں کو اک دن کہہ دیا تھا پارسا میں نے تم اپنے آپ کو کچھ بھی کہو مذہب کے دیوانو نہ دیکھا کوئی تم جیسا خدا نا آشنا میں نے جلا کر ظلمت باطل میں حق کی مشعلیں ...

مزید پڑھیے

اب ترے غم کے اندھیروں میں اتر جاؤں گا

اب ترے غم کے اندھیروں میں اتر جاؤں گا خود ہی بن کے میں وہاں شمس و قمر جاؤں گا اک نظر پیار سے دیکھو تو نوازش ہوگی پھر نہ آؤں گا کبھی ایسے نگر جاؤں گا پھر سے بے ساختہ ہچکی جو مجھے آئے گی نام تیرا ہی سدا لوں گا جدھر جاؤں گا مل گئی تیرے خیالوں سے تجلی دل کو تلخ راہوں پہ بھی بے خوف و ...

مزید پڑھیے

اشک آنکھوں سے ڈھلتے دیکھا ہے

اشک آنکھوں سے ڈھلتے دیکھا ہے زندگی کو مچلتے دیکھا ہے گردش وقت کب رکی لیکن اس کو پہلو بدلتے دیکھا ہے دم پہ ان کے کرم کی یورش میں کس نے دم کو نکلتے دیکھا ہے آس کی جوت دل کی گرمی میں سارے احساس پلتے دیکھا ہے جن کو دنیا کی ہر خوشی ہے ملی ہاتھ ان کو بھی ملتے دیکھا ہے بند آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

گرائیں دل کے نشیمن پہ بجلیاں اس نے

گرائیں دل کے نشیمن پہ بجلیاں اس نے امید و پیار کی بھڑکا دیں بستیاں اس نے مرے خلوص سے پائیں یہ شوخیاں اس نے خوشی کے پاؤں کو دیں غم کی بیڑیاں اس نے غم حیات کی دیکھی نہ جھلکیاں اس نے سہم سہم کے بظاہر لیں سسکیاں اس نے سنی بغور جوں ہی دل پہ بیتیاں اس نے اٹھائی میرے ارادوں کی ارتھیاں ...

مزید پڑھیے

یہ کیسے درد نے قصہ کا اختتام کیا

یہ کیسے درد نے قصہ کا اختتام کیا مجھے مٹانے کا اک ذوق ناتمام کیا وہ سبزہ سوکھا وہ پیڑوں سے گر پڑے پتے ہماری موت کا کس کس نے احترام کیا اٹھا جنازہ تو آنسو بہا کے بادل نے وضو کا کتنا یہ بر وقت انتظام کیا بہشت اور جہنم کے درمیاں رکھا مرے گناہوں نے اتنا تو ایک کام کیا ہے دل نوازؔ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4449 سے 6203