قومی زبان

ہوس سے جسم کو دو چار کرنے والی ہوا

ہوس سے جسم کو دو چار کرنے والی ہوا چلی ہوئی ہے گنہ گار کرنے والی ہوا یہیں کہیں مرا لشکر پڑاؤ ڈالے گا یہیں کہیں ہے گرفتار کرنے والی ہوا تمام سینہ سپر پیڑ جھکنے والے ہیں ہوا ہے اور نگوں سار کرنے والی ہوا پڑے ہوئے ہیں یہاں اب جو سر بریدہ چراغ گزشتہ رات تھی یلغار کرنے والی ...

مزید پڑھیے

بوجھ اٹھائے ہوئے دن رات کہاں تک جاتا

بوجھ اٹھائے ہوئے دن رات کہاں تک جاتا زندگانی میں ترے ساتھ کہاں تک جاتا مختصر یہ کہ میں بوسہ بھی غنیمت سمجھا یوں بھی دوران ملاقات کہاں تک جاتا صبح ہوتے ہی سبھی گھر کو روانہ ہوں گے قصۂ دور خرابات کہاں تک جاتا تھک گیا تھا میں ترے نام کو جپتے جپتے لے کے ہونٹوں پہ یہی بات کہاں تک ...

مزید پڑھیے

یوں دیدۂ خوں بار کے منظر سے اٹھا میں

یوں دیدۂ خوں بار کے منظر سے اٹھا میں طوفان اٹھا مجھ میں سمندر سے اٹھا میں اٹھنے کے لیے قصد کیا میں نے بلا کا اب لوگ یہ کہتے ہیں مقدر سے اٹھا میں پہلے تو خد و خال بنائے سر قرطاس پھر اپنے خد و خال کے اندر سے اٹھا میں اک اور طرح مجھ پہ کھلی چشم تماشا اک اور تجلی کے برابر سے اٹھا ...

مزید پڑھیے

خود میں کھلتے ہوئے منظر سے نمودار ہوا

خود میں کھلتے ہوئے منظر سے نمودار ہوا وہ جزیرہ جو سمندر سے نمودار ہوا میری تنہائی نے پیدا کیے سائے گھر میں کوئی دیوار کوئی در سے نمودار ہوا چاروں اطراف مرے آئنے رکھے گئے تھے میں ہی میں اپنے برابر سے نمودار ہوا آج کی رات گزاری ہے دیے نے مجھ میں آج کا دن مرے اندر سے نمودار ...

مزید پڑھیے

آزرؔ رہا ہے تیشہ مرے خاندان میں

آزرؔ رہا ہے تیشہ مرے خاندان میں پیکر دکھائی دیتے ہیں مجھ کو چٹان میں سب اپنے اپنے طاق میں تھرا کے رہ گئے کچھ تو کہا ہوا نے چراغوں کے کان میں میں اپنی جستجو میں یہاں تک پہنچ گیا اب آئنہ ہی رہ گیا ہے درمیان میں منظر بھٹک رہے تھے در و بام کے قریب میں سو رہا تھا خواب کے پچھلے مکان ...

مزید پڑھیے

زمین اپنے ہی محور سے ہٹ رہی ہوگی

زمین اپنے ہی محور سے ہٹ رہی ہوگی وہ دن بھی دور نہیں زیست چھٹ رہی ہوگی بڑھا رہا ہے یہ احساس میری دھڑکن کو گھڑی میں سوئی کی رفتار گھٹ رہی ہوگی میں جان لوں گا کہ اب سانس گھٹنے والا ہے ہرے درخت سے جب شاخ کٹ رہی ہوگی نئے سفر پہ روانہ کیا گیا ہے تمہیں تمہارے پاؤں سے دھرتی لپٹ رہی ...

مزید پڑھیے

نیند میں کھلتے ہوئے خواب کی عریانی پر

نیند میں کھلتے ہوئے خواب کی عریانی پر میں نے بوسہ دیا مہتاب کی پیشانی پر اس قبیلے میں کوئی عشق سے واقف ہی نہیں لوگ ہنستے ہیں مری چاک گریبانی پر نظر آتی ہے تجھ ایسوں کو شباہت اپنی میں نے تصویر بنائی تھی کبھی پانی پر ہم فقیروں کو اسی خاک سے نسبت ہے بہت ہم نہ بیٹھیں گے ترے تخت ...

مزید پڑھیے

منظر سے ادھر خواب کی پسپائی سے آگے

منظر سے ادھر خواب کی پسپائی سے آگے میں دیکھ رہا ہوں حد بینائی سے آگے یہ قیسؔ کی مسند ہے سو زیبا ہے اسی کو ہے عشق سراسر مری دانائی سے آگے شاید مرے اجداد کو معلوم نہیں تھا اک باغ ہے اس دشت کی رعنائی سے آگے سب دیکھ رہی تھی پس دیوار تھا جو کچھ تھی چشم تماشائی تماشائی سے آگے ہم ...

مزید پڑھیے

درون خواب نیا اک جہاں نکلتا ہے

درون خواب نیا اک جہاں نکلتا ہے زمیں کی تہہ سے کوئی آسماں نکلتا ہے بھلا نظر بھی وہ آئے تو کس طرح آئے مرا ستارہ پس کہکشاں نکلتا ہے ہوائے شوق یہ منزل سے جا کے کہہ دینا ذرا سی دیر ہے بس کارواں نکلتا ہے مری زمین پہ سورج بہ وقت صبح و مسا نکل تو آتا ہے لیکن کہاں نکلتا ہے یہ جس وجود پہ ...

مزید پڑھیے

سات دریاؤں کا پانی ہے مرے کوزے میں

سات دریاؤں کا پانی ہے مرے کوزے میں بند اک تازہ کہانی ہے مرے کوزے میں تم اسے پانی سمجھتے ہو تو سمجھو صاحب یہ سمندر کی نشانی ہے مرے کوزے میں میرے آبا نے جوانی میں مجھے سونپا تھا میرے آبا کی جوانی ہے مرے کوزے میں دیکھنے والو نئے نقش ملیں گے تم کو سوچنے والو گرانی ہے مرے کوزے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4448 سے 6203