قومی زبان

کھینچ کر عکس فسانے سے الگ ہو جاؤ

کھینچ کر عکس فسانے سے الگ ہو جاؤ بے نمو آئنہ خانے سے الگ ہو جاؤ سارا دن ساتھ رہو سائے کی صورت اپنے شام ہوتے ہی بہانے سے الگ ہو جاؤ شعر وہ لکھو جو پہلے کہیں موجود نہ ہو خواب دیکھو تو زمانے سے الگ ہو جاؤ شاعری ایسے جھمیلوں سے بہت آگے ہے اس نئے اور پرانے سے الگ ہو جاؤ نیند میں حضرت ...

مزید پڑھیے

دور کے ایک نظارے سے نکل کر آئی

دور کے ایک نظارے سے نکل کر آئی روشنی مجھ میں ستارے سے نکل کر آئی جس نے کشتی کو ڈبویا سر و سامان سمیت وہ گھنی موج کنارے سے نکل کر آئی راکھ جھاڑی جو بدن کی تو اچانک باہر آگ ہی آگ شرارے سے نکل کر آئی پیڑ مبہوت ہوئے دیکھ کے اس منظر کو دھوپ جب اس کے اشارے سے نکل کر آئی آنکھ میں اشک ...

مزید پڑھیے

عجیب رنگ عجب حال میں پڑے ہوئے ہیں

عجیب رنگ عجب حال میں پڑے ہوئے ہیں ہم اپنے عہد کی پاتال میں پڑے ہوئے ہیں سخن سرائی کوئی سہل کام تھوڑی ہے یہ لوگ کس لیے جنجال میں پڑے ہوئے ہیں اٹھا کے ہاتھ پہ دنیا کو دیکھ سکتا ہوں سبھی نظارے بس اک تھال میں پڑے ہوئے ہیں جہاں بھی چاہوں میں منظر اٹھا کے لے جاؤں کہ خواب دیدۂ اموال ...

مزید پڑھیے

اے دوست تو نے وار یہ بھرپور کر دیا

اے دوست تو نے وار یہ بھرپور کر دیا پہلے قریب کر کے مجھے دور کر دیا رہتی ہوں تیری یاد میں مدہوش رات دن تیرے سرور و کیف نے مخمور کر دیا کشمش سی نازنین تھی شاخ بدن مری چاہت کی آب و تاب سے انگور کر دیا خوشبو ترے بدن کی ہے سانسوں میں آج تک تو نے ملن کے بعد تو پر نور کر دیا تنہائی ...

مزید پڑھیے

مرے دل سے ترے دل تک سفر ہے

مرے دل سے ترے دل تک سفر ہے محبت کی کہانی مختصر ہے کہو گے کیا اسے اے بخیہ گر تم یہ اک آنسو ہے یا تار نظر ہے رگیں پیروں کی جیسے منجمد ہیں تماشائی بنی اک رہ گزر ہے اداسی مستقل مہماں ہے دل کی خبر خوشیوں کی اس پر بے اثر ہے ادھر رنگیں بیانی زور پر ہے ادھر دنیائے دل زیر و زبر ہے دعاؔ ...

مزید پڑھیے

دہلیز پر مری کوئی آیا ہے برسوں بعد

دہلیز پر مری کوئی آیا ہے برسوں بعد ہلچل سی دل میں کوئی تو لایا ہے برسوں بعد ارمان دل میں میرے نئے جاگنے لگے آنگن کو چاندنی نے سجایا ہے برسوں بعد آنکھوں میں میری خواب ہیں تازہ سجے ہوئے تعبیر خواب لے کے وہ آیا ہے برسوں بعد پلکوں پہ میری جلنے لگے دیپ کچھ نئے میرے لبوں نے گیت یہ ...

مزید پڑھیے

کاجل اداس ہے تو ہیں بے کل سی چوڑیاں

کاجل اداس ہے تو ہیں بے کل سی چوڑیاں تم کو بلا رہی ہیں یہ چنچل سی چوڑیاں ساون کی مجھ کو پیاس ہے پیاسی ہوں مثل ریت تجھ پر برس رہی ہیں یہ بادل سی چوڑیاں کرتی ہیں خوب شور نہ سونے یہ مجھ کو دیں دیوانی ہو گئی ہیں یہ پاگل سی چوڑیاں دیکھو کھنک رہی ہیں یہ خاموشیوں میں بھی آنکھوں میں سج ...

مزید پڑھیے

سنتا نہیں ہے دل تو اس بے وفا کی باتیں

سنتا نہیں ہے دل تو اس بے وفا کی باتیں کل پر اٹھا کے رکھو اس بے وفا کی باتیں دل ہے اداس اب تو اس تذکرے کو بدلو کیوں ہو مصر کہ سن لو اس بے وفا کی باتیں آج اس نے ہے رلایا ہم کو بہت ستایا ہم سے نہ کرنا اب تو اس بے وفا کی باتیں ٹوٹے ہیں خواب میرے اب دفن ان کو کر دو دہرا بھی کیوں رہے ہو اس ...

مزید پڑھیے

تیری نظروں میں معتبر نہ ہوئی

تیری نظروں میں معتبر نہ ہوئی میں معطر ہوئی مگر نہ ہوئی حال دنیا پہ کھل گیا میرا ایک بس آپ کو خبر نہ ہوئی زندگی ریزہ ریزہ ہو کر بھی آج تک گرد رہ گزر نہ ہوئی تو سفر کار تھا سفر میں رہا میں ترے پاؤں میں ڈگر نہ ہوئی تیرے دل تک چلی نہیں آئی اپنی بھی ذات کی مگر نہ ہوئی تیری یادیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4450 سے 6203