ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہے
ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہے پھر یہ پوچھوں کہ یہ پردا ہے تو جلوہ کیا ہے دونوں آنکھوں میں ہے اک جلوہ تو دو آنکھیں کیوں پتلیوں کا یہ تماشا سا وگر نہ کیا ہے تو نے پہچان لئے اپنی خدائی کے نقوش آئینہ جس نے تعارف یہ کرایا کیا ہے زندگی بھر پڑھی تقدیر کی خفیہ تحریر لوح مرقد سے ...