قومی زبان

ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہے

ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہے پھر یہ پوچھوں کہ یہ پردا ہے تو جلوہ کیا ہے دونوں آنکھوں میں ہے اک جلوہ تو دو آنکھیں کیوں پتلیوں کا یہ تماشا سا وگر نہ کیا ہے تو نے پہچان لئے اپنی خدائی کے نقوش آئینہ جس نے تعارف یہ کرایا کیا ہے زندگی بھر پڑھی تقدیر کی خفیہ تحریر لوح مرقد سے ...

مزید پڑھیے

ہر ایک گام پہ حد ہر قدم در و دیوار

ہر ایک گام پہ حد ہر قدم در و دیوار فضائے شہر بنی بیش و کم در و دیوار یہی تھے صحن فضا اور یہی گھر آنگن تھا تم آئے ہو تو ہوئے محتشم در و دیوار ہم اپنے درد ہواؤں سے بھی نہیں کہتے اٹھائے پھرتے ہیں خود اپنے غم در و دیوار یہ ریگ زار ہے اور اس کی اپنی دنیا ہے یہاں ہمیشہ رہے کم سے کم در و ...

مزید پڑھیے

پھر مجھے کون و مکاں دشت و بیاباں سے لگے

پھر مجھے کون و مکاں دشت و بیاباں سے لگے خود کو دیکھا ہے تو آئینے پریشاں سے لگے وقت کٹتا رہا تھا عہد حضوری کہ فراق زخم لگتے رہے چاہے کسی عنواں سے لگے زندگی میرے اضافے مجھے واپس کر دے جھاڑ دے خار جو ناحق ترے داماں سے لگے کچھ تو تھی سادگی کچھ بے خبری بے ہنری کچھ ہمیں عشق کے ہنگامے ...

مزید پڑھیے

کسی سے اپنی خبر ہم وصول کیا کرتے

کسی سے اپنی خبر ہم وصول کیا کرتے خود آئینوں کا بھی احساں قبول کیا کرتے وہ کھیت کھیت رہیں جن کی خار دار صفیں انہی میں پھول تھے دو چار پھول کیا کرتے تمام جانوں کے دشمن تمام ہاتھ ہوئے یہ امتیں تھیں اب ان کے رسول کیا کرتے یہ کوئی عمر تھی تیری محبتوں والی سروں کی راکھ میں شامل یہ ...

مزید پڑھیے

آئنہ آئنہ کیوں کر دیکھے

آئنہ آئنہ کیوں کر دیکھے اپنے ہی داغ نظر بھر دیکھے تم نے جلوے کو بھی چھونا چاہا ہم نے خوشبو میں بھی پیکر دیکھے آپ انساں ہوا صورت کا اسیر شیشہ ٹوٹے تو سکندر دیکھے ہم نے آواز لگائی سر طور روپ جب شوق سے کمتر دیکھے جلوۂ طور بجا تھا لیکن آنکھ مشتاق تھی پیکر دیکھے درد کو خوف بکھر ...

مزید پڑھیے

پھر مجھے کون و مکاں دشت و بیاباں سے لگے

پھر مجھے کون و مکاں دشت و بیاباں سے لگے روبرو کون تھا جو آئینے حیراں سے لگے کچھ تھی کم حوصلگی اپنی تھی کچھ بے صبری کچھ مجھے عشق کے ہنگامے بھی آساں سے لگے وقت کٹتا رہا تھا عہد حضوری کی فراق زخم لگتے رہے چاہے کسی عنواں سے لگے زیست ہم ہار کے بھی ہاتھ ملائیں تجھ سے اپنے یہ حوصلے ...

مزید پڑھیے

خبر نہیں کہ کوئی کس کے انتخاب میں ہے

خبر نہیں کہ کوئی کس کے انتخاب میں ہے مگر جو شخص کل ابھرے گا میرے خواب میں ہے جہان والوں کے لاکھوں ادھر ادھر کے جواب حیات کا تو سوال آدمی کے باب میں ہے ہمیں نہ گھیرتی شاید یہ چار دیواری مگر یہ خاک جو اس عالم خراب میں ہے خود اپنے پر جو گئے ہیں وہ طفل کون سے ہیں وہ نسل کیسی ہے جس کا ...

مزید پڑھیے

ترے فراق میں جب بھی بہار گزری ہے

ترے فراق میں جب بھی بہار گزری ہے ہمیں رلا کے لہو بار بار گزری ہے پناہ خدا کی حسینوں کی بد مزاجی سے مری دعا بھی انہیں ناگوار گزری ہے تمام رات ستاروں کے ساتھ رویا ہوں نہ پوچھ کیسے شب انتظار گزری ہے ترا نصیب اگر تو نے پی نہیں زاہد بہار ورنہ بڑی پر بہار گزری ہے ہم اپنے درد کو روئیں ...

مزید پڑھیے

اک وہی شخص جسے راحت جاں کہتا ہوں

اک وہی شخص جسے راحت جاں کہتا ہوں ہاں اسی شخص کو میں جی کا زیاں کہتا ہوں منصف شہر اس آواز سے ڈر جاتا ہے میں جسے غوغۂ آواز سگاں کہتا ہوں سر اسے کہتا ہوں جس میں ہو شہادت کا جنوں حق گوئی پر جو کٹے اس کو زباں کہتا ہوں وائے تقدیر وہ جس بات پہ کہتے ہیں نہیں بے ارادہ میں اسی بات پہ ہاں ...

مزید پڑھیے

حسن پر جاں نثار کرتا ہوں

حسن پر جاں نثار کرتا ہوں شمع روؤں کو پیار کرتا ہوں آپ کے عشق نے جو بخشے ہیں ان غموں کا شمار کرتا ہوں آہ ایماں پرست ہو کر بھی ایک کافر سے پیار کرتا ہوں مجھ پہ وہ مشق ناز کرتے ہیں شکر پروردگار کرتا ہوں دل کو ہر دم فریب دیتا ہوں آپ کا انتظار کرتا ہوں گو ترا عہد عہد باطل ہے پھر بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4440 سے 6203