قومی زبان

صداقت اٹھتی جاتی ہے جہاں سے

صداقت اٹھتی جاتی ہے جہاں سے زمیں ٹکرا نہ جائے آسماں سے شرر ہائے غم ہستی کو ساقی بجھا بھی دے شراب ارغواں سے ستم گاروں ستم سے باز آؤ ڈرو ہم نا توانوں کی فغاں سے شب غم کی حزیں تنہائیوں میں سکون دل کوئی لائے کہاں سے بہار آئی نہ جب اپنے چمن میں محبت ہو گئی آخر خزاں سے جو دل کا حال ...

مزید پڑھیے

اپنے من میں جھانک کر بھی خود سے بیگانہ رہا

اپنے من میں جھانک کر بھی خود سے بیگانہ رہا تو حقیقت آشنا ہو کر بھی دیوانہ رہا رخ اگرچہ جانب کعبہ رہا ہے شیخ کا دل مگر یاد بتاں سے اک پری خانہ رہا سنگ اسود کو دیا بوسہ تو دل کہنے لگا کعبہ و قبلہ سے کتنی دور بت خانہ رہا ایک دن پی کر ذرا سچ کہہ دیا تھا عمر بھر شکل سے بیزار میری پیر ...

مزید پڑھیے

خود سے بچھڑ کے ذات کے پیکر میں قید ہوں

خود سے بچھڑ کے ذات کے پیکر میں قید ہوں گھر سے نکل گیا تھا مگر گھر میں قید ہوں ہوں نعرۂ جہاد بھی عزم جوان بھی دل میں کبھی مقیم تھا اب سر میں قید ہوں مشتاق و منتظر ہوں کہ چنگاریاں ملیں کیا خوب آگ ہو کے بھی پتھر میں قید ہوں دیکھو تو کائنات دکھائی دے زیر پا سوچوں تو جیسے خود ہی ...

مزید پڑھیے

چاند بھی ستاروں کو ساتھ لے کے چلتا ہے (ردیف .. ا)

چاند بھی ستاروں کو ساتھ لے کے چلتا ہے جانے کیوں بھٹکتے ہیں لوگ بے سبب تنہا دیکھیے اندھیروں کے جسم کب پگھلتے ہیں تیرگی زیادہ ہے اور چراغ شب تنہا ہم جگر فگاروں کی اس ادا کو کیا کہیے بیٹھتے ہیں سب مل کر سوچتے ہیں سب تنہا آپ کو نہ راس آئی انجمن تو کیا ہوگا ہم تو کاٹ ہی لیں گے اپنے ...

مزید پڑھیے

سپنوں کی دھارا میں بہتا رہتا ہوں

سپنوں کی دھارا میں بہتا رہتا ہوں شبدوں کے آکار بدلتا رہتا ہوں حال سے مستقبل سے آنکھیں بند کئے ماضی کی دہلیز پہ سوتا رہتا ہوں ان سے تیری شکل نہیں ملتی پھر بھی پھولوں سے دن رات جھگڑتا رہتا ہوں باہر گھپ اندھیارا گونگے بہرے لوگ اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہوں میں ہوں سر سے پا تک ...

مزید پڑھیے

نفس نفس ہے کہ سہما ہوا سا لگتا ہے

نفس نفس ہے کہ سہما ہوا سا لگتا ہے سکوت شام کا سایہ گھنا سا لگتا ہے چلو کہ اس سے بھی کچھ دیر گفتگو کر لیں یہ اجنبی تو مصیبت زدہ سا لگتا ہے یہاں کی خاک سے آتی ہے بوئے دل داری ہر ایک شخص مجھے آشنا سا لگتا ہے یقین ہے کہ وہ منزل ملے گی اے دلکشؔ ابھی سفر ترا صبر آزما سا لگتا ہے

مزید پڑھیے

ہے لہو شہیدوں کا نقش جاوداں یارو

ہے لہو شہیدوں کا نقش جاوداں یارو مقتلوں میں ہوتی ہے آج بھی اذاں یارو سیل وقت ہوں مجھ کو کون روک سکتا ہے چھین لو قلم چاہے کاٹ لو زباں یارو بال و پر کی محرومی اور خوں رلاتی ہے جب بھی دیکھ لیتا ہوں سوئے آسماں یارو اس نگاہ بہم کو اور کس سے دوں نسبت نوک بے سناں یارو تیر بے کماں ...

مزید پڑھیے

کتنے میلے ہیں آسمانوں میں

کتنے میلے ہیں آسمانوں میں اور ہم بند ہیں مکانوں میں نسل آدم نکل کے غاروں سے آ گئی ہے کتاب خانوں میں لوگ کرتے ہیں انتظار مرا تیر کھینچے ہوئے کمانوں میں اژدہے ہیں بہ صورت اشیا سر اٹھائے ہوئے دکانوں میں ہم وہ صحرا نورد ہیں جن کا نجد پھیلا ہے آسمانوں میں ساعتوں سے گزر رہی ہے ...

مزید پڑھیے

خار کو پھول کہو دشت کو گلزار کہو

خار کو پھول کہو دشت کو گلزار کہو اور اس جبر کو آزادیٔ افکار کہو جن کے ہاتھوں میں علم اور نہ کمر میں شمشیر وہ بھی کہتے ہیں ہمیں قافلہ سالار کہو میں تو اک شوخ کے دامن سے کروں گا تعبیر تم اسے شوق سے بت خانے کی دیوار کہو زلف بہکے تو اسے باد بہاراں سمجھو چاند نکلے تو اسے شعلۂ رخسار ...

مزید پڑھیے

جو بجھ چکے ہیں وہ لمحے اجالتا کیوں ہے

جو بجھ چکے ہیں وہ لمحے اجالتا کیوں ہے مرے بدن پہ خراشیں بھی ڈالتا کیوں ہے میں معترض تو نہیں ہوں مگر یہ سمجھا دے جو مارنا ہے تو دنیا کو پالتا کیوں ہے تجھے تلاش ہے جس کی وہ تیری ذات میں ہے یہ کوہ و بن یہ سمندر کھنگالتا کیوں ہے نہیں ہے وہ ترا کوئی تو پھر ضرورت کیا تو اس کے حسن کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4441 سے 6203