قومی زبان

دیکھ کے جس کو کبھی دل بھی نہ دھڑکا اپنا (ردیف .. و)

دیکھ کے جس کو کبھی دل بھی نہ دھڑکا اپنا یاد کیوں آتا ہے رہ رہ کے وہ چہرہ ہم کو ہر طرف سے جو یہ دل ٹوٹا تو دھیان آتا ہے ہائے اک شخص نے کس درجہ تھا چاہا ہم کو سارا دن دھوپ میں جھلسے ہیں تو اب شام ڈھلے کیوں بلاتا ہے ہر اک پیڑ گھنیرا ہم کو اس کی چاہت کو سہارا نہ کہوں جینے کا راس آتا ...

مزید پڑھیے

اجلی اجلی برف کے نیچے پتھر نیلا نیلا ہے

اجلی اجلی برف کے نیچے پتھر نیلا نیلا ہے تیری یادوں میں یہ سرد دسمبر نیلا نیلا ہے دن کی رنگت خیر گزر جاتی ہے تیرے بن لیکن کتھئی کتھئی راتوں کا ہر منظر نیلا نیلا ہے دور ادھر کھڑکی پر بیٹھی سوچ رہی ہو مجھ کو کیا چاند ادھر چھت پر آیا ہے تھک کر نیلا نیلا ہے تیری نیلی چنری نے کیا حال ...

مزید پڑھیے

زندگی سے عمر بھر تک چلنے کا وعدہ کیا

زندگی سے عمر بھر تک چلنے کا وعدہ کیا اے مری کمبخت سانسو ہائے تم نے کیا کیا ابتدائے ہوش سے اچھا بھلا پتھر تھا میں اک نظر بس دیکھ کر تو نے مجھے دریا کیا ایک بس خاموش سے لمحہ کی خواہش ہی تو تھی اور اسی خواہش نے لیکن شور پھر کتنا کیا لطف اب دینے لگی ہے یہ اداسی بھی مجھے شکریہ تیرا کہ ...

مزید پڑھیے

ہوا جب کسی کی کہانی کہے ہے

ہوا جب کسی کی کہانی کہے ہے نئے موسموں کی زبانی کہے ہے فسانہ ہے جسموں کا بے شک زمینی مگر روح تو آسمانی کہے ہے تجھے چل ذرا سا میں میٹھا بنا دوں سمندر سے دریا کا پانی کہے ہے ڈسا رت جگوں نے ہے خوابوں کو پھر سے سلگتی ہوئی رات رانی کہے ہے لٹیں چند چاندی کی بخشیں تجھے جا وداع لیتی مجھ ...

مزید پڑھیے

خواب جو بھی بنا وہ بنا رہ گیا

خواب جو بھی بنا وہ بنا رہ گیا عمر بیتی مگر بچپنا رہ گیا عکس جتنے تھے سارے بدلتے رہے آئنہ تو وہی آئنہ رہ گیا دیکھ کر بادلوں کا امڑتا ہجوم لب پہ سورج کے کچھ گنگنا رہ گیا تو ملا تو مجھے یہ اچانک لگا کیسے اب تک میں تیرے بنا رہ گیا حاشیے پر پڑے ہم بھلا کیا کہیں جب بھی جو بھی کہا ان ...

مزید پڑھیے

ہیں جتنی پرتیں یہاں آسمان میں شامل

ہیں جتنی پرتیں یہاں آسمان میں شامل سبھی ہوئیں مری حد کی اڑان میں شامل بڑھا ہے شہر میں رتبہ ذرا ہمارا بھی ہوئے ہیں جیسے ہم ان کے بیان میں شامل اچھال یوں ہی نہیں بڑھ گئی ہے لہروں کی ندی کا زور بھی ہے کچھ ڈھلان میں شامل دھواں غبار پرندے تپش گھٹن خوشبو ہیں بوجھ کتنے ہوا کی تھکان ...

مزید پڑھیے

کہ اس سے پہلے خزاں کا شکار ہو جاؤں

کہ اس سے پہلے خزاں کا شکار ہو جاؤں سجا لوں خود کو مکمل بہار ہو جاؤں اتارنے کو پہاڑوں سے دھوپ گھاٹی میں میں کوئی چیڑ کوئی دیودار ہو جاؤں نہیں ہوں تجھ سے میں وابستہ اے جہاں لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب ہوشیار ہو جاؤں نہ بھائے لوگ یہاں کے نہ شہر ہی یہ مجھے مگر میں خود سے ہی کیسے فرار ہو ...

مزید پڑھیے

دیکھ کر وحشت نگاہوں کی زباں بے چین ہے

دیکھ کر وحشت نگاہوں کی زباں بے چین ہے پھر سلگنے کو کوئی اک داستاں بے چین ہے کالی راتوں کے سلیقے دن کو کیوں بھانے لگے سوچ کر گم سم ہے دھرتی آسماں بے چین ہے کاغذوں پر ہو گئے سارے خلاصے ہی مگر کچھ تو ہے جو حاشیوں کے درمیاں بے چین ہے جب سے سازش میں سمندر کی ہوا شامل ہوئی کشتی ہے چپ ...

مزید پڑھیے

کیا عشق کے الجھے جادے ہیں منزل کا کہیں پر نام نہیں

کیا عشق کے الجھے جادے ہیں منزل کا کہیں پر نام نہیں تقدیر ہے اور تدبیر نہیں آغاز ہے اور انجام نہیں اے اشک مچلتی چنگاری تو درد ہے خود پیغام نہیں آنکھوں میں کبھی پلکوں پہ کبھی تجھ کو بھی کہیں آرام نہیں دم بھر کی ہنسی دم بھر کی خوشی یہ بھی تو دل ناکام نہیں اس چلتی پھرتی دنیا میں سب ...

مزید پڑھیے

شام فرقت کے ستارے تو اثر تک ٹھہرے

شام فرقت کے ستارے تو اثر تک ٹھہرے ہاں وفادار تھے آنسو جو سحر تک ٹھہرے جلوے دیکھے تو ملک اور بشر تک ٹھہرے سجدے کرنے کے لیے شمس و قمر تک ٹھہرے داستاں رنگ پر آئی تو زمانہ بدلا ڈوبتے تارے بھی آغاز سحر تک ٹھہرے کہہ دے کھلتی ہوئی کلیوں سے کوئی گلشن میں اتنا ہلکا ہو تبسم کہ نظر تک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4163 سے 6203