قید میں رہتے ہیں جب تک بھی جیے جاتے ہیں
قید میں رہتے ہیں جب تک بھی جیے جاتے ہیں حلقے زنجیر کے پھر توڑ دئے جاتے ہیں رونقیں چاند ستاروں کی لیے جاتے ہیں چاندنی رات کو بے نور کیے جاتے ہیں یہ تبسم نہ سہی حسن کی سوغات سہی درد کو ایک چمک اور دئے جاتے ہیں خاک ہونے پہ بھی کم ہوتا نہیں جذبۂ عشق روشنی شمع کی پروانے لیے جاتے ...