قومی زبان

شام تک بند رہتا ہے کمرہ مرا

شام تک بند رہتا ہے کمرہ مرا اور کمرے میں تنہا کھلونا مرا دن کو اجلی ردا اوڑھ لیتا ہوں میں دیکھنا رات کو پھر تماشا مرا سچ کہا تھا سبھی مجھ سے ناراض ہیں اب کسی سے نہیں رشتہ ناطہ مرا اپنے شعروں پہ مجھ کو بڑا فخر ہے جانے کیا گل کھلائے گا چرچا مرا دو برس کا ہوں طفل کتابی غنیؔ ہو گیا ...

مزید پڑھیے

آنسوؤں کو روکتا ہوں دیر تک

آنسوؤں کو روکتا ہوں دیر تک دھند میں کیا دیکھتا ہوں دیر تک کھل گئی الفاظ کی ہیں کھڑکیاں کھڑکیوں سے جھانکتا ہوں دیر تک پیڑ سے عشق گلہری دیکھ کر اس گلی میں دوڑتا ہوں دیر تک خامشی بھی کوئی جھرنا ہے اگر کس لئے پھر بولتا ہوں دیر تک چیونٹیوں کے بل میں پانی ڈال کر کیوں تماشا دیکھتا ...

مزید پڑھیے

خضر جیسا ہے راہبر مجھ میں

خضر جیسا ہے راہبر مجھ میں مجھ کو درپیش ہے سفر مجھ میں کشتی و نا خدا بہت خطرے کئی طوفاں کئی بھنور مجھ میں خون سے تر بہ تر گلی کوچے دست قاتل ہے زور پر مجھ میں کوئی تیشہ بدست پھرتا ہے قریہ قریہ ہے بس شرر مجھ میں جس طرح سے ہرن پہاڑوں پر لوٹ کر آتا ہے ہنر مجھ میں

مزید پڑھیے

ہمارے شہر کا دستور بابا

ہمارے شہر کا دستور بابا پریشاں حال ہر مزدور بابا ہوئے خلوت نشیں ہیں لوگ کامل جو ناقص ہیں وہی مشہور بابا نہیں دیکھے کسی نے ان کے چہرے کہاں غلماں کہاں ہے حور بابا چلے ہیں حصہ لینے دوڑ میں پھر ہمارے شہر کے معذور بابا مجھے یاد آ رہی ہے مصحفیؔ کی غضب تھے میرؔ بھی مغفور بابا

مزید پڑھیے

برستے روز پتھر دیکھتا ہوں

برستے روز پتھر دیکھتا ہوں یہی رونا میں گھر گھر دیکھتا ہوں نکل کر خود سے باہر دیکھتا ہوں سمندر اپنے اندر دیکھتا ہوں اپج دگنا ہے تجھ سے اب کے میرا میں تیرے ساتھ مل کر دیکھتا ہوں نظر آتا ہے منظر اور کوئی جگہ اپنی سے اٹھ کر دیکھتا ہوں حساب اپنا یہاں سب دے رہے ہیں بپا ہر سمت محشر ...

مزید پڑھیے

رات اندھیری شہر کی گلیوں میں اب سناٹا ہوگا

رات اندھیری شہر کی گلیوں میں اب سناٹا ہوگا کیا گھر کی دہلیز پہ اب تک روشن کوئی دیا ہوگا میرا خالی کمرہ میری راہ تکے گا رات تمام گھر سے باہر رات گزاروں گا تو وہ تنہا ہوگا میں وہ شجر ہوں جس کو اپنے گرنے کا افسوس نہیں مجھ پہ بسیرا کرتے ہیں جو پنچھی ان کا کیا ہوگا میں نہ رہوں گا ...

مزید پڑھیے

دشت ہوس میں دوڑتے پھرنے سے کام تھا

دشت ہوس میں دوڑتے پھرنے سے کام تھا خواہش کا اسپ تیز بھی کیا بے لگام تھا پر پھڑپھڑائے اڑنے کی ہمت نہ کر سکے بس اک اڑان بھرنے میں قصہ تمام تھا جو نشۂ حیات سے سرشار تھا کبھی ہاتھوں میں زندگی کا لیے خالی جام تھا ملک عدم روانہ ہوئے رہروان شوق تھا کوئی سست رو تو کوئی تیز گام تھا کب ...

مزید پڑھیے

تکمیل کو پہنچ کے بکھرتا ہوا وجود

تکمیل کو پہنچ کے بکھرتا ہوا وجود اپنی بلندیوں سے اترتا ہوا وجود راز حیات اپنی نظر میں لیے ہوئے سرحد سے زندگی کی گزرتا ہوا وجود کانٹوں کی نوک پر بھی ہنسی بھولتا نہیں شبنم کے موتیوں کا بکھرتا ہوا وجود تجدید آرزوئے دل آرا کیے ہوئے ہر شام زندگی کا سنورتا ہوا وجود دھندلا نہ جائے ...

مزید پڑھیے

وہ شخص ہے اسیر کسی کی اداؤں میں

وہ شخص ہے اسیر کسی کی اداؤں میں حسرت سے دیکھتا ہے جو اکثر خلاؤں میں سودا سفر کا سر میں سمایا کچھ اس طرح دم بھر کہیں لیا نہ درختوں کی چھاؤں میں بستی ہے ڈائنوں کی یہ جنگل ڈراؤنا ٹھہرے اگر یہاں تو پھنسوگے بلاؤں میں شہر نگار تیری فضا سوگوار ہے اک راگنی سی درد کی ہے ان ہواؤں ...

مزید پڑھیے

مرے حالات جب اچھے نہیں تھے

مرے حالات جب اچھے نہیں تھے یہ سب اپنے مرے اپنے نہیں تھے ہمارے واسطے ان دوستوں کے دلوں کے در کبھی کھلتے نہیں تھے ہمیں کچھ دوست ایسے بھی ملے ہیں ہمارے حال پر ہنستے نہیں تھے غزل گو تھے بہت فیروزؔ اچھے مگر سب کے لئے کہتے نہیں تھے

مزید پڑھیے
صفحہ 4162 سے 6203