قومی زبان

ہر سمت یہ ہم شور و شرر دیکھ رہے ہیں

ہر سمت یہ ہم شور و شرر دیکھ رہے ہیں مظلوم کی آہوں کا اثر دیکھ رہے ہیں مٹتے ہوئے اسلاف کی عظمت کے نشانات دیکھے نہیں جاتے ہیں مگر دیکھ رہے ہیں کل تک جو اخوت کے لیے پھرتے تھے پرچم بدلی ہوئی آج ان کی نظر دیکھ رہے ہیں ارباب حکومت میں ہے جہل اور تغافل تاراج ہوا جاتا ہے گھر دیکھ رہے ...

مزید پڑھیے

سارے گلشن میں مرا کوئی بھی دم ساز نہیں

سارے گلشن میں مرا کوئی بھی دم ساز نہیں چلتے پھرتے ہیں یہ سائے مگر آواز نہیں یہ حقیقت ہے کھلی اس میں کوئی راز نہیں تو وہی ہے مگر اسلاف کے انداز نہیں بے نیاز آج بھی چشم کرم انداز نہیں غم نہ کر تو در مے خانہ اگر باز نہیں ساز ہر دور میں بنتے ہیں تقاضوں کے تحت ساز ہستی ہو نیا پھر بھی ...

مزید پڑھیے

دھوپ لٹا کر امبر جب کنگال ہوا

دھوپ لٹا کر امبر جب کنگال ہوا چاند اگا کر پھر سے مالا مال ہوا سانجھ پھسل کر ڈیوڑھی پر آ لٹکی ہے آنگن سے چوبارے تک سب لال ہوا یاد وہیں ٹھٹھکی ہے جہاں تم چھوڑ گئے لمحہ دن سپتاہ مہینہ سال ہوا دھوپ اٹک کر بیٹھا گئی ہے چھجے پر اوسارے کا اٹھنا آج محال ہوا چن چن کر وہ دیتا تھا ہر درد ...

مزید پڑھیے

وہ ٹکڑا رات کا بکھرا ہوا سا

وہ ٹکڑا رات کا بکھرا ہوا سا ابھی تک دن پے ہے ٹھہرا ہوا سا اداسی ایک لمحہ پر گری تھی صدی کا بوجھ ہے پسرا ہوا سا ادھر کھڑکی میں تھا مایوس چہرہ ادھر بھی چاند ہے اترا ہوا سا کرے ہے شور یوں سینہ میں یہ دل سموچہ جسم ہے بہرا ہوا سا یہ کن نظروں سے مجھ کو دیکھتے ہو رہوں ہر دم سجا سنورا ...

مزید پڑھیے

لمحہ گزر گیا ہے کہ عرصہ گزر گیا

لمحہ گزر گیا ہے کہ عرصہ گزر گیا ہے کون وو جو وقت کی سازش یے کر گیا اب عمر تو یے بیت چلی سوچتے تمہیں اتنا ہوا ہے ہاں کہ ذرا میں سنور گیا سمٹا تھا جب تلک وو ہتھیلی میں ٹھیک تھا پہنچا لبوں پہ لمس تو نس نس بکھر گیا یوں تو دہک رہا تھا وو سورج سا دور سے جو پاس جا کے چھو لیا کیسا سحر ...

مزید پڑھیے

ساحلوں پر اداسی رہی

ساحلوں پر اداسی رہی اک ندی پھر سے پیاسی رہی رات نے نیند پہنی مگر خواب کی بے لباسی رہی حسن وہ کھلکھلاتا رہا عشق پر بد حواسی سی رہی آج پھر کچھ نہ کہہ پیے ہم آج پھر بات باسی رہی کم نہ ہو لمس کی آنچ یہ برف بس اب ذرا سی رہی جسم مندر ہوا سو ہوا روح تو دیو داسی رہی موت پر کس لئے روئیں ...

مزید پڑھیے

بات رک رک کر بڑھی پھر ہچکیوں میں آ گئی

بات رک رک کر بڑھی پھر ہچکیوں میں آ گئی فون پر جو ہو نہ پائی چٹھیوں میں آ گئی صبح دو خاموشیوں کو چائے پیتے دیکھ کر گنگنی سی دھوپ اتری پیالیوں میں آ گئی ٹرین اوجھل ہو گئی اک ہاتھ ہلتا رہ گیا وقت رخصت کی اداسی چوڑیوں میں آ گئی ادھ کھلی رکھی رہی یوں ہی وہ ناول گود میں اٹھ کے پنوں سے ...

مزید پڑھیے

بس گئی ہے رگ رگ میں بام و در کی خاموشی

بس گئی ہے رگ رگ میں بام و در کی خاموشی چیرتی سی جاتی ہے مجھ کو گھر کی خاموشی صبح کے ابھرنے سے شام کے اترنے تک کتنی جان لیوا ہے دوپہر کی خاموشی چل رہی تھی جب میرے گھر کے جلنے کی تفتیش دیکھنے کے قابل تھی شہر بھر کی خاموشی کاٹ لی ہیں تم نے تو ٹہنیاں سبھی لیکن سن سکو جو کہتی ہے چپ شجر ...

مزید پڑھیے

اس بات کو ویسے تو چھپایا نہ گیا ہے

اس بات کو ویسے تو چھپایا نہ گیا ہے سب کو یہ مگر راز بتایا نہ گیا ہے پردہ کی کہانی ہے یہ پردہ کی زبانی بس اس لئے پردہ کو اٹھایا نہ گیا ہے ہیں بھید کئی اب بھی چھپے قید رپٹ میں کچھ نام تھے شامل سو دکھایا نہ گیا ہے امبر کی یہ سازش ہے عجب چاند کے بدلے دوجے کسی سورج کو اگایا نہ گیا ...

مزید پڑھیے

کھوٹا سکہ کوئی لے ممکن نہیں

کھوٹا سکہ کوئی لے ممکن نہیں اور بٹوے میں رہے ممکن نہیں عشق تیرے نے اجاڑا میرا دل غیر کی الفت اگے ممکن نہیں ہونے کو ہے عمر تیرے کوچے میں یہ قدم آگے بڑھے ممکن نہیں ڈوب کر بھی جاری رہتا ہے سفر مہر مغرب سے چڑھے ممکن نہیں اپنے تھیلے میں ہی رہنے دو اسے اون کی بلی چلے ممکن نہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 4161 سے 6203