قومی زبان

جو نہیں کیا اب تک بے حساب کرنا ہے

جو نہیں کیا اب تک بے حساب کرنا ہے اپنے ہر رویے سے اجتناب کرنا ہے اب تو کام آئے گی بے گمان سفاکی خوش گوار پھولوں کو آفتاب کرنا ہے رنگ اپنی چھتری کا دھوپ نے مٹا ڈالا صبح ہونے سے پہلے پھر خضاب کرنا ہے سرفروش لہروں کی سرفروشیاں کب تک سرفروش لہروں کو زیر آب کرنا ہے راستے ذہانت کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 416 سے 6203