قومی زبان

حیران مہربانو کے رومال ہو گئے

حیران مہربانو کے رومال ہو گئے آنسو کمال ضبط سے جب لال ہو گئے یہ دیکھنا ہے کس گھڑی دفنایا جاؤں گا مجھ کو مرے ہوئے تو کئی سال ہو گئے تم ساری عمر کیسے سنبھالو گے نفرتیں ہم تو ذرا سی دیر میں بے حال ہو گئے سائل کو ایک لفظ محبت نہ مل سکا حیرت ہے سارے لوگ ہی کنگال ہو گئے دل کے پرندے اڑ ...

مزید پڑھیے

سفر تھا تھوڑا مگر کتنے موڑ آئے تھے

سفر تھا تھوڑا مگر کتنے موڑ آئے تھے کئی کہانیاں ہم ان میں چھوڑ آئے تھے میں ان پرندوں کو روتا ہوں جو فلک کے لیے زمیں سے اپنا تعلق ہی توڑ آئے تھے سوال سوکھے ہوئے آنسوؤں کا الجھا رہا حساب ویسے تو ہم سارا جوڑ آئے تھے کوئی ملال ہمیں اب رلا نہیں سکتا ہم ایک درد پہ آنکھیں نچوڑ آئے ...

مزید پڑھیے

خواب میں ہاتھ چھڑاتی ہوئی تقدیر کا دکھ

خواب میں ہاتھ چھڑاتی ہوئی تقدیر کا دکھ آنکھ سے لپٹا ہے اب تک اسی تعبیر کا دکھ کوششیں کر کے بہرحال مصور ہارا شوخ رنگوں میں چھپا ہی نہیں تصویر کا دکھ اس کی آنکھوں میں نمی ختم نہیں ہو سکتی پڑھ لیا جس نے بھی ہنستی ہوئی تحریر کا دکھ قید خانے میں یہی سوچ کے واپس آیا مجھ کو معلوم ہے ...

مزید پڑھیے

سلیقے سے اگر توڑیں تو کانٹے ٹوٹ جاتے ہے

سلیقے سے اگر توڑیں تو کانٹے ٹوٹ جاتے ہے مگر افسوس یہ ہے پھول پہلے ٹوٹ جاتے ہے محبت بوجھ بن کر ہی بھلے رہتی ہو کاندھوں پر مگر یہ بوجھ ہٹتا ہے تو کاندھے ٹوٹ جاتے ہیں بچھڑ کر آپ سے یہ تجربہ ہو ہی گیا آخر میں اکثر سوچتا تھا لوگ کیسے ٹوٹ جاتے ہے مری اوقات ہی کیا ہے میں اک ننھا سا آنسو ...

مزید پڑھیے

لہولہان سمندر بھی دیکھنا ہے ابھی

لہولہان سمندر بھی دیکھنا ہے ابھی بریدہ حلق پہ خنجر بھی دیکھنا ہے ابھی ابھی سے دشت بلا سے فراغتیں کیسی بلند ہوتا ہوا سر بھی دیکھنا ہے ابھی مصالحت کہاں ہوگی سپاہ شام کے ساتھ زباں کی نوک پہ خنجر بھی دیکھنا ہے ابھی نمیدہ چشم مسافت کی انتہا بھی نہیں اداس نسل کو زد پر بھی دیکھنا ہے ...

مزید پڑھیے

دھوئیں کی اوٹ سے باہر بھی آ گیا ہوتا

دھوئیں کی اوٹ سے باہر بھی آ گیا ہوتا ہمارے ساتھ اگر رشتۂ ہوا ہوتا اسے بھی شعلگی‌ٔ ربط کی شکایت تھی سلگتی آنکھ کی درزوں میں اور کیا ہوتا جہاں نہ پیڑ اگے تھے نہ آگ ہی برسی وہاں ہمارے لیے کون سا خدا ہوتا میں احتجاج سے باہر بھی سوچتا شاید شب فرار اگر کوئی در کھلا ہوتا تڑپ نہیں نہ ...

مزید پڑھیے

کبھی کپڑے بدلتا ہے کبھی لہجہ بدلتا ہے

کبھی کپڑے بدلتا ہے کبھی لہجہ بدلتا ہے مگر ان کوششوں سے کیا کہیں شجرہ بدلتا ہے تمہارے بعد اب جس کا بھی جی چاہے مجھے رکھ لے جنازہ اپنی مرضی سے کہاں کاندھا بدلتا ہے رہائی مل تو جاتی ہے پرندے کو مگر اتنی صفائی کی غرض سے جب کبھی پنجرہ بدلتا ہے مری آنکھوں کو پہلی آخری حد ہے ترا ...

مزید پڑھیے

ہزار زخم ملے پھر بھی مسکراتے ہوئے

ہزار زخم ملے پھر بھی مسکراتے ہوئے گزر گیا ہے کوئی راستہ بناتے ہوئے وہ پوچھ بیٹھا تھا مجھ سے سبب بچھڑنے کا زبان کانپ گئی اس کو سچ بتاتے ہوئے یہ کس گناہ کا احساس ہے مرے دل کو نگاہ اٹھتی نہیں روشنی میں آتے ہوئے عذاب پوچھے کوئی ہم سے کم لباسی کا تمام عمر کٹی ہے بدن چھپاتے ...

مزید پڑھیے

پرندے گھونسلوں سے کہہ کے یہ باہر نکل آئے

پرندے گھونسلوں سے کہہ کے یہ باہر نکل آئے ہمیں اڑنے دیا جائے ہمارے پر نکل آئے سفر میں زندگی کے میں ذرا سا لڑکھڑایا تھا مجھے ٹھوکر لگانے پھر کئی پتھر نکل آئے محبت سے کسی نے جب سفر کی مشکلیں پوچھیں کئی کانٹے ہمارے پاؤں سے باہر نکل آئے بہت سے راز بھی آئیں گے عالی جاہ پھر باہر خفا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 415 سے 6203