قومی زبان

بدن میں پھول کھلے درد نے وصال کیا

بدن میں پھول کھلے درد نے وصال کیا اذیتوں کی مہک نے مجھے نہال کیا چراغ آیا نظر تو نظر پگھلنے لگی ہم اہل چشم نے یوں آگ کا خیال کیا میں چل رہا تھا مگر سانس رک گئی میری گزرتے وقت نے ایسا عجب سوال کیا ہر ایک شخص تھا ماتم کناں سو میں نے بھی اداس رنگ پہن کر خزاں کو شال کیا اسے چھوا تو ...

مزید پڑھیے

سڑک کی دونوں جانب کا سفر تھا

سڑک کی دونوں جانب کا سفر تھا وہ پہلا عشق تھا پہلا سفر تھا کمر جوڑے ہوئے بیٹھے تھے دونوں کہ چل پڑنا تو بس پھیکا سفر تھا ہماری نیند سونے کی ڈلی تھی سنہری خواب کا اچھا سفر تھا خبر کی رائگانی سے بچا کر کسی اسکرین پر لکھا سفر تھا اداسی آئنے کو چھو کے بولی یہ کس نے تجھ میں یوں دیکھا ...

مزید پڑھیے

خاک میں جب ملایا جاوں گا

خاک میں جب ملایا جاوں گا گوندھ کر پھر سے لایا جاوں گا گر گیا ہوں تمہارے جوڑے سے اب کہاں پر سجایا جاوں گا ایک دیوار کی ہے وحشت دھوپ اور میں سایا سایا جاوں گا گھر کا مطلب بدلنے والا ہے تیرے گھر میں بلایا جاوں گا شہر سے عشق کرتا ہوں میں عزیزؔ دشت میں کیوں بسایا جاوں گا

مزید پڑھیے

اداس شام بہت دیر تک رلائے گی

اداس شام بہت دیر تک رلائے گی پھر اس کے بعد کوئی آنکھ جھلملائے گی عجیب اشک تھا جو گال تھپتھپاتا رہا عجیب آنکھ ہے کہ ہجر بھی منائے گی میں اس کے ہونٹ بناؤں گا اپنی مرضی سے اسی بہانے لبوں پر ہنسی تو آئے گی بدن کی شال پہ اس نے گلاب کاڑھے ہیں میں اس کو اوڑھوں گا تو اس کی خوشبو آئے ...

مزید پڑھیے

ہے اختلاف ضروری تمہیں پتا نہیں ہے

ہے اختلاف ضروری تمہیں پتا نہیں ہے چراغ کیسے جلے گا جہاں ہوا نہیں ہے تمہارے ہاتھ چھڑانے سے رک گیا ہے سفر یہ دھوپ چھاؤں مسافر کا مسئلہ نہیں ہے تمہارے جانے سے بے لطف ہو گئی ہر شے کہ زہر کھا کے بھی دیکھا ہے ذائقہ نہیں ہے میں ڈھونڈ لایا ہوں جب اس کے جیسا دوجا شخص سو اب وہ کہنے لگا ...

مزید پڑھیے

مری خموشی کو بھی اک صدا سمجھتے رہے

مری خموشی کو بھی اک صدا سمجھتے رہے میں کیا تھا اور مجھے لوگ کیا سمجھتے رہے ہماری نسل کو عجلت نے نا مراد کیا ذرا سے شور کو یہ دیر پا سمجھتے رہے یہ دوست میرے مجھے آج تک نہ جان سکے میں ایک درد تھا لیکن دوا سمجھتے رہے دکھائی دیتا تھا یہ شہر میری آنکھوں سے یہاں کے لوگ مجھے آئنہ ...

مزید پڑھیے

میں دیواروں سے باتیں کر رہا تھا

میں دیواروں سے باتیں کر رہا تھا مرے پہلو میں جلتا اک دیا تھا مرے پاؤں کہاں الٹے پڑیں گے مری آنکھوں میں ان کا نقش پا تھا محبت کی کہانی میں نے لکھی وگرنہ یہ تو بس اک واقعہ تھا مرے ہونٹوں سے چپکی جا رہیں تھیں ان آنکھوں کا انوکھا ذائقہ تھا ہمارے مسئلے کا یہ تھا باعث ہمارے ساتھ دل ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسے تیرے بدن کا یہاں نشاں کھلے گا

کچھ ایسے تیرے بدن کا یہاں نشاں کھلے گا کہ جس طرح سے سمندر میں بادباں کھلے گا یہ سوچتے ہی مرے ہاتھ پاؤں پھول گئے مرا نشان کہانی میں کب کہاں کھلے گا گزرتے وقت کسی کو خبر نہیں تھی یہاں کہ ایک دم سے دلوں پر یہ خاک داں کھلے گا میں دائیں بائیں کسی اور سمت بھی دیکھوں کسے خبر کہ کہاں سے ...

مزید پڑھیے

آنکھ سے ہجر گرا دل نے دہائی دی ہے

آنکھ سے ہجر گرا دل نے دہائی دی ہے عشق والوں کی کہاں چیخ سنائی دی ہے رات کی شاخ ہلی اور گرے پیلے پھول درد کے پیڑ نے یوں ہم کو کمائی دی ہے شور اتنا کہ سنائی نہ دیا تھا کچھ بھی آنکھ کھولی ہے تو آواز دکھائی دی ہے اب نئے وصل کی صورت ہے نکلنے والی ہجر نے میرے تجسس کو رسائی دی ہے دن کی ...

مزید پڑھیے

اس کو مری تڑپ کا گماں تک نہیں ہوا

اس کو مری تڑپ کا گماں تک نہیں ہوا میں اس طرح جلا کہ دھواں تک نہیں ہوا یہ چاہتے تھے موت ہی ہم کو جدا کرے افسوس اپنا ساتھ وہاں تک نہیں ہوا تم نے تو اپنے درد کے قصے بنا لئے ہم سے تو اپنا درد بیاں تک نہیں ہوا حیرت ہے وہ بھی شہر بسانے کی ضد میں ہے تعمیر جس سے اپنا مکاں تک نہیں ہوا تصویر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 414 سے 6203