قومی زبان

بت پرستی سے نہ طینت مری زنہار پھری

بت پرستی سے نہ طینت مری زنہار پھری صبح سو بار خریدی گئی سو بار پھری بارہا قہقہوں میں تو نے اڑایا ہے اسے شمع روتی تری محفل سے ہے سو بار پھری چل بسی فصل خزاں موسم گل آ پہنچا لے مبارک ہو ہوا بلبل گل زار پھری ایک جا بھی نظر آئی نہ اثر کی صورت گرتی پڑتی نہ کہاں آہ‌ دل زار پھری زلف ...

مزید پڑھیے

جو عدوئے باغ ہو برباد ہو

جو عدوئے باغ ہو برباد ہو کوئی ہو گلچیں ہو یا صیاد ہو مجھ سا عاشق مورد بیداد ہو تم بڑے سفاک ہو جلاد ہو کوچۂ جاناں سے مطلب ہے ہمیں دیر ویراں ہو حرم برباد ہو قید مذہب واقعی اک روگ ہے آدمی کو چاہئے آزاد ہو دور دور محتسب ہے ساقیا ہائے کیوں کر مے کدہ آباد ہو بک گئے ہیں آپ تو غیروں کے ...

مزید پڑھیے

اک خواب کے اثر میں کئی دن گزر گئے

اک خواب کے اثر میں کئی دن گزر گئے پھر یوں ہوا کہ آنکھ کھلی ہم بکھر گئے جب پاؤں کے نشان نشانی کی طرح تھے تب لوگ کس ڈگر پہ چلے اور کدھر گئے کل آنکھ کے شجر سے کئی پھول یاد کے پلکوں سے ہو کے دل کی سڑک خوب بھر گئے اے دکھ تری طویل رفاقت کے بعد بھی خود سے ملے ہیں لوگ تو کتنے نکھر گئے اس ...

مزید پڑھیے

بغاوت رسم ہے سو یوں ادا کی

بغاوت رسم ہے سو یوں ادا کی لہو ہاتھوں پہ مل مل کر دعا کی دیے کی اوٹ سایا بن گئی ہے پریشانی تو دیکھو اب ہوا کی مجھے مجنوں کے قصے مت سناؤ یہاں میں نے محبت ابتدا کی غبار گریہ چہرے پر جما ہے کوئی تو شکل دیکھے گا خدا کی بظاہر جھوٹ کے پاؤں نہیں ہیں سنو لوگو صدا تھی اک گدا کی

مزید پڑھیے

ہوا سے بات چلی تیری خوشبو لانے کی

ہوا سے بات چلی تیری خوشبو لانے کی اداس شام نے کوشش کی مسکرانے کی دھویں کی ریل چلی منظروں میں دکھ گونجا سفر کی بات بھی ہے بات چھوڑ جانے کی یہ شہر خواب زدہ ہے یہاں کی گلیوں میں دیے کی لو سے ضرورت ہے دن بنانے کی ہمارا عشق ابھی رس پکڑنے والا تھا ہوائے ہجر کو جلدی تھی پھل گرانے ...

مزید پڑھیے

میں جہاں پاؤں دھرنے والا تھا

میں جہاں پاؤں دھرنے والا تھا ایک سورج ابھرنے والا تھا دل ہی وعدہ خلاف نکلا ہے ورنہ میں کب مکرنے والا تھا ایک طوفان چشم و عارض و لب آئنوں سے گزرنے والا تھا تو نے دل کو بچا لیا ورنہ میں اسے خرچ کرنے والا تھا ارتضیٰ مسکرا دیا اک دم گھر کا منظر بدلنے والا تھا

مزید پڑھیے

تم ہر اک رنگ میں اے یار نظر آتے ہو

تم ہر اک رنگ میں اے یار نظر آتے ہو کہیں گل اور کہیں خار نظر آتے ہو قابل دید تم اے یار نظر آتے ہو چشم بد دور طرحدار نظر آتے ہو صورتیں کرتے ہو اے جان ہزاروں پیدا تم نئی شکل سے ہر بار نظر آتے ہو بھول جاتا ہوں میں فرقت کے گلے اور شکوے شکر کرتا ہوں جب اے یار نظر آتے ہو آئنہ دیکھنے کو ...

مزید پڑھیے

آئی اے گلعذار کیا کہنا

آئی اے گلعذار کیا کہنا خوب آئی بہار کیا کہنا مہندی مل کر ہے چوٹ مرجاں پر ہاتھ لالہ نگار کیا کہنا مجھ سے عاشق کے اور یوں نفریں واہ شاباش یار کیا کہنا برق بھی درکنار رہ جائے ہاں دل بے قرار کیا کہنا لاکھ بار امتحان عشق کیا نہ کہا ایک بار کیا کہنا بحث گریہ میں ابر بول گیا دیدۂ ...

مزید پڑھیے

نہ تیر ہے نہ نشانہ مگر دہائی ہے

نہ تیر ہے نہ نشانہ مگر دہائی ہے منافقوں سے ہماری عجب لڑائی ہے اگر اداسی بلائے تو دل سے جاؤں گا پرانا رشتہ نبھانے میں کیا برائی ہے مجھے پکارا ہے جادوگروں کی لڑکی نے اسے بتاؤ پری مجھے سے ملنے آئی ہے لہو رگوں سے نکالا لبوں پہ لا رکھا غریب شہر نے یہ داستاں سنائی ہے یہ دل کی چھت ہے ...

مزید پڑھیے

زمانے کی تجوری سے نکل کر

زمانے کی تجوری سے نکل کر سنہری ہو گیا لمحوں میں ڈھل کر مکمل ذائقہ اس زہر میں تھا زباں بھی خوش ہوئی تھی دکھ نگل کر ہے دو رویا تعلق کی کہانی بچھڑتے ہیں سڑک کا رخ بدل کر محبت چاند کی سرگوشیاں ہیں یہی سرگوشیاں اب تو غزل کر زمانہ تاک میں رکھے ہوئے ہے ہمیں چلنا پڑے گا اب سنبھل کر

مزید پڑھیے
صفحہ 413 سے 6203