بت پرستی سے نہ طینت مری زنہار پھری
بت پرستی سے نہ طینت مری زنہار پھری صبح سو بار خریدی گئی سو بار پھری بارہا قہقہوں میں تو نے اڑایا ہے اسے شمع روتی تری محفل سے ہے سو بار پھری چل بسی فصل خزاں موسم گل آ پہنچا لے مبارک ہو ہوا بلبل گل زار پھری ایک جا بھی نظر آئی نہ اثر کی صورت گرتی پڑتی نہ کہاں آہ دل زار پھری زلف ...