قومی زبان

اشک افتادہ نظر آتے ہیں سارے دریا

اشک افتادہ نظر آتے ہیں سارے دریا سیل گریہ نے یہ نظروں سے اتارے دریا دیکھ لیں گر مری اشکوں کے شرارے دریا خشک برسات میں ہوں خوف کے مارے دریا دونوں چشموں سے مری اشک بہا کرتے ہیں موج زن رہتا ہے دریا کے کنارے دریا رغبت اس ترک کو مچھلی کے کبابوں سے نہیں آتش شوق سے شیخی نہ بگھارے ...

مزید پڑھیے

رنگ ہے اے ساقیٔ سرشار قیصر باغ میں

رنگ ہے اے ساقیٔ سرشار قیصر باغ میں پھول پیتے ہیں ترے مے خوار قیصر باغ میں دیکھ کر رنگیں ترا رخسار قیصر‌ باغ میں گل سے بلبل ہو گئے بیزار قیصر‌ باغ میں ساتھ ہے اک غیرت گل زار قیصر‌ باغ میں بلبلوں کو دے رہے ہیں خار قیصر‌ باغ میں باتیں بلبل کو سنا شیداۓ رخ گل کو بنا کبک کو چل کر ...

مزید پڑھیے

کس منہ سے کہیں گناہ کیا ہیں

کس منہ سے کہیں گناہ کیا ہیں توبہ ہے رو سیاہ کیا ہیں اللہ ہے عفو کرنے والا میں کیا ہوں مرے گناہ کیا ہیں اے دوست ترے گدا کے آگے کچھ بھی نہیں بادشاہ کیا ہیں تم سا کوئی بد چلن نہ ہوگا ہے ہے عاشق تباہ کیا ہیں گوری گوری ہے ان کی صورت اس پر گیسوئے سیاہ کیا ہیں چکر میں ہیں شیخ و گبر ...

مزید پڑھیے

ان کی رفتار سے دل کا عجب احوال ہوا

ان کی رفتار سے دل کا عجب احوال ہوا رندہ گیا پس گیا مٹی ہوا پامال ہوا دشت وحشت کا علاقہ مجھے امسال ہوا داغ سودا صفت نیر اقبال ہوا اس بکھیڑے سے الٰہی کہیں چھٹکارا ہو عشق گیسو نہ ہوا جان کا جنجال ہوا نظر لطف نہ کی تو نے مرے رونے پر طفل اشک اے مہ خوبی نہ خوش اقبال ہوا ہیں وہ صوفی جو ...

مزید پڑھیے

دیکھ کر خوش رنگ اس گل پیرہن کے ہاتھ پاؤں

دیکھ کر خوش رنگ اس گل پیرہن کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں جوانان چمن کے ہاتھ پاؤں جب نہ دیکھے چار دن اس گل بدن کے ہاتھ پاؤں سوکھ کر کانٹا ہوئے اہل چمن کے ہاتھ پاؤں ہم وہ میکش ہیں جو ہوتا ہے ہمیں رنج خمار ٹوٹتے ہیں ساقی پیماں شکن کے ہاتھ پاؤں ان کے مقتولوں کی قبریں اس قدر کھودی ...

مزید پڑھیے

اے صنم سب ہیں ترے ہاتھوں سے نالاں آج کل

اے صنم سب ہیں ترے ہاتھوں سے نالاں آج کل صورت ناقوس ہیں گبر و مسلماں آج کل باغ میں کہتے ہیں وہ لالے کا تختہ دیکھ کر گل کھلاتی ہے عجب خاک شہیداں آج کل حرف مطلب اپنے دیوانے کا بھی سن جا ذرا ہو تجھے چھٹی جو اے طفل‌ دبستاں آج کل موسم جوش جنوں ہے جامۂ گل کی طرح خودبخود ہوتے ہیں ٹکڑے ...

مزید پڑھیے

دل ہے غذائے رنج جگر ہے غذائے رنج

دل ہے غذائے رنج جگر ہے غذائے رنج پیدا کیا ہے ہم کو خدا نے برائے رنج حاصل کسی سے کچھ نہیں ہوتا سوائے رنج دنیا میں لائی ہے ہمیں قسمت برائے رنج آدم سے باغ خلد چھٹا ہم سے کوئے یار وہ ابتدائے رنج ہے یہ انتہائے رنج ممکن نہیں ہے آئے جو بوئے گل نشاط ایسے دماغ جاں میں بھری ہے ہوائے ...

مزید پڑھیے

فکر رنج و راحت کیسی

فکر رنج و راحت کیسی دوزخ کیسا جنت کیسی بدلی ان کی عادت کیسی الٹی اپنی قسمت کیسی ہر شے میں ہے اس کا جلوہ کثرت میں ہے وحدت کیسی آپس میں اے گبرو مسلماں ناحق ناحق حجت کیسی الفت میں ذلت رکھی ہے عزت کیسی حرمت کیسی زہد زاہد لا حاصل ہے بے گاری کو اجرت کیسی سن کر میری سینہ کوبی بولے ...

مزید پڑھیے

محشر کا ہمیں کیا غم عصیاں کسے کہتے ہیں

محشر کا ہمیں کیا غم عصیاں کسے کہتے ہیں پلے پہ وہ بت ہوگا میزاں کسے کہتے ہیں عشاق پھرے دردر ایواں کسے کہتے ہیں سر بار رہا تن پر ساماں کسے کہتے ہیں وصل بت مہرو ہے شرب مئے گلگوں ہے پھر اور عنایات یزداں کسے کہتے ہیں قیدی رہے وحشت میں بے خود تھے مگر ایسے یہ بھی نہ کھلا ہم پر زنداں ...

مزید پڑھیے

آپ اپنی بے وفائی دیکھیے

آپ اپنی بے وفائی دیکھیے ہم سے اور ایسی برائی دیکھیے بات پھر ہم سے بنائی دیکھیے پھر وہی تقریر آئی دیکھیے آئنہ اس بت کو دکھلا کر کہا اور صورت ہاتھ آئی دیکھیے عرش کی زنجیر پر طرہ ہوا نالۂ دل کی رسائی دیکھیے ہم اسیران طلسم خاک ہیں کیا ہوا وقت رہائی دیکھیے مار ڈالا منہ چھپا کر آپ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 412 سے 6203