اشک افتادہ نظر آتے ہیں سارے دریا
اشک افتادہ نظر آتے ہیں سارے دریا سیل گریہ نے یہ نظروں سے اتارے دریا دیکھ لیں گر مری اشکوں کے شرارے دریا خشک برسات میں ہوں خوف کے مارے دریا دونوں چشموں سے مری اشک بہا کرتے ہیں موج زن رہتا ہے دریا کے کنارے دریا رغبت اس ترک کو مچھلی کے کبابوں سے نہیں آتش شوق سے شیخی نہ بگھارے ...