قومی زبان

کھو جائے گا وجود بکھر کر فضاؤں میں

کھو جائے گا وجود بکھر کر فضاؤں میں کب تک اڑے گا زخمی پرندہ ہواؤں میں شہروں کی بھیڑ نے تو بصارت ہی چھین لی تصویر اپنی دیکھیں گے چل کر گپھاؤں میں فکروں کے دائروں سے نکلنا محال ہے جاؤ بساؤ شوق سے دنیا خلاؤں میں ایسی گھٹن تو پہلے کبھی بھی نہ تھی یہاں یہ کس نے زہر گھول دیا ہے ہواؤں ...

مزید پڑھیے

سر پر ہے سائبان نہ تن پر لباس ہے

سر پر ہے سائبان نہ تن پر لباس ہے اک سکۂ خلوص ہی لے دے کے پاس ہے جائیں بھی اپنے زخم لیے کس کے پاس ہم مرہم منافقت کا یاں سب کے پاس ہے نفرت کی آگ پھیلنے پائے نہ دوستو بارود ہے کہیں تو کہیں پر کپاس ہے دیدہ وری کے زعم میں سب محو خواب ہیں شاید یہی سبب ہے کہ نرگس اداس ہے آتا نہیں یقین کہ ...

مزید پڑھیے

جب خود ہی احتیاط کی سرحد سے دور تھا

جب خود ہی احتیاط کی سرحد سے دور تھا کیسے کروں گلہ کہ میں زخموں سے چور تھا میں نے ہی راستے سے ہٹائے تھے سارے خار میں نے یہ کب کہا ہے کہ میں بے قصور تھا ممکن نہیں تھا دوستو اپنا محاصرہ درباریوں میں کوئی تو مخبر ضرور تھا دریائے حادثات کی موجیں شدید تھیں آواز میں نے دی تھی مگر وہ ...

مزید پڑھیے

دلوں میں رنجشیں ہیں

دلوں میں رنجشیں ہیں یہ کس کی سازشیں ہیں میں پھر بھی ڈر رہا ہوں خبر ہے بخششیں ہیں اگر دل آئنہ ہو بہت گنجائشیں ہیں بڑھی جاتی ہے سوزش یہ کیسی بارشیں ہیں فلک کیا چاہتا ہے مسلسل گردشیں ہیں

مزید پڑھیے

جتنی سچی مری کہانی ہے

جتنی سچی مری کہانی ہے سب کو اتنی ہی بد گمانی ہے لاپتہ ہے بہار برسوں سے معتبر پھر بھی باغبانی ہے آگ کھلنے لگی ہے شاخوں پر جانے یہ کس کی گل فشانی ہے سارے کردار اس کے زخمی ہیں عہد نو کی عجب کہانی ہے ظلم آزاد بے گناہی قید خوب انداز حکمرانی ہے

مزید پڑھیے

ہم ایک عمر جلے شمع رہ گزر کی طرح

ہم ایک عمر جلے شمع رہ گزر کی طرح اجالا غیروں سے کیا مانگتے قمر کی طرح کہاں کے جیب و گریباں جگر بھی چاک ہوئے بہار آئی قیامت کے نامہ بر کی طرح کرم کہو کہ ستم دل دہی کا ہر انداز اتر اتر سا گیا دل میں نیشتر کی طرح نہ حادثوں کی کمی ہے نہ شورشوں کی کمی چمن میں برق بھی پلتی ہے بال و پر کی ...

مزید پڑھیے

ایک تم ہی نہیں دنیا میں جفاکار بہت

ایک تم ہی نہیں دنیا میں جفاکار بہت دل سلامت ہے تو دل کے لئے آزار بہت ہائے کیا چیز ہے محرومی و غم کا رشتہ مل گئے زیست کے ہر موڑ پہ غم خوار بہت یاد احباب کی خوشبو سے مہکتی شامیں کچھ کہو ہوتی ہیں کمبخت دل آزار بہت عشق آوارہ کہاں قید در و بام کہاں بے نواؤں کے لیے سایۂ دیوار بہت دل ...

مزید پڑھیے

داد بھی فتنۂ بیداد بھی قاتل کی طرف

داد بھی فتنۂ بیداد بھی قاتل کی طرف بے گناہی کے سوا کون تھا بسمل کی طرف منزلیں راہ میں تھیں نقش قدم کی صورت ہم نے مڑ کر بھی نہ دیکھا کسی منزل کی طرف مقتل ناز سے گزرے تو گزرنے والے پھول کچھ پھینک گئے دامن قاتل کی طرف جھلملاتے نہیں بے وجہ تو محفل کے چراغ اک نظر دیکھ تو لو صاحب محفل ...

مزید پڑھیے

گلوں کے ساتھ اجل کے پیام بھی آئے

گلوں کے ساتھ اجل کے پیام بھی آئے بہار آئی تو گلشن میں دام بھی آئے ہمیں نہ کر سکے تجدید آرزو ورنہ ہزار بار کسی کے پیام بھی آئے چلا نہ کام اگرچہ بہ زعم راہبری جناب خضر علیہ السلام بھی آئے جو تشنہ کام ازل تھے وہ تشنہ کام رہے ہزار دور میں مینا و جام بھی آئے بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگا ...

مزید پڑھیے

رہ گزر ہو یا مسافر نیند جس کو آئے ہے

رہ گزر ہو یا مسافر نیند جس کو آئے ہے گرد کی میلی سی چادر اوڑھ کے سو جائے ہے قربتیں ہی قربتیں ہیں دوریاں ہی دوریاں آرزو جادو کے صحرا میں مجھے دوڑائے ہے وقت کے ہاتھوں ضمیر شہر بھی مارا گیا رفتہ رفتہ موج خوں سر سے گزرتی جائے ہے میری آشفتہ سری وجہ شناسائی ہوئی مجھ سے ملنے روز کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4104 سے 6203