قومی زبان

ایک دور

چاند کیوں ابر کی اس میلی سی گٹھری میں چھپا تھا اس کے چھپتے ہی اندھیروں کے نکل آئے تھے ناخن اور جنگل سے گزرتے ہوئے معصوم مسافر اپنے چہروں کو کھرونچوں سے بچانے کے لیے چیخ پڑے تھے چاند کیوں ابر کی اس میلی سی گٹھری میں چھپا تھا اس کے چھپتے ہی اتر آئے تھے شاخوں سے لٹکتے ہوئے آسیب تھے ...

مزید پڑھیے

نظم

نظم الجھی ہوئی ہے سینے میں مصرعے اٹکے ہوئے ہیں ہونٹوں پر لفظ کاغذ پہ بیٹھتے ہی نہیں اڑتے پھرتے ہیں تتلیوں کی طرح کب سے بیٹھا ہوا ہوں میں جانم سادہ کاغذ پہ لکھ کے نام ترا بس ترا نام ہی مکمل ہے اس سے بہتر بھی نظم کیا ہوگی!

مزید پڑھیے

امیجز

میں بھی اس ہال میں بیٹھا تھا جہاں پردے پہ اک فلم کے کردار زندہ جاوید نظر آتے تھے ان کی ہر بات بڑی، سوچ بڑی، کرم بڑے ان کا ہر ایک عمل ایک تمثیل تھی بس دیکھنے والوں کے لئے میں اداکار تھا اس میں تم اداکارہ تھیں اپنے محبوب کا جب ہاتھ پکڑ کر تم نے زندگی ایک نظر میں بھر کے اس کے سینے پہ بس ...

مزید پڑھیے

خدا

پورے کا پورا آکاش گھما کر بازی دیکھی میں نے! کالے گھر میں سورج رکھ کے تم نے شاید سوچا تھا میرے سب مہرے پٹ جائیں گے میں نے ایک چراغ جلا کر اپنا رستہ کھول لیا تم نے ایک سمندر ہاتھ میں لے کر مجھ پر ڈھیل دیا میں نے نوح کی کشتی کے اوپر رکھ دی کال چلا تم نے اور میری جانب دیکھا میں نے کال ...

مزید پڑھیے

ایک اور رات

رات چپ چاپ دبے پاؤں چلے جاتی ہے رات خاموش ہے روتی نہیں ہنستی بھی نہیں کانچ کا نیلا سا گنبد ہے اڑا جاتا ہے خالی خالی کوئی بجرا سا بہا جاتا ہے چاند کی کرنوں میں وہ روز سا ریشم بھی نہیں چاند کی چکنی ڈلی ہے کہ گھلی جاتی ہے اور سناٹوں کی اک دھول اڑی جاتی ہے کاش اک بار کبھی نیند سے اٹھ ...

مزید پڑھیے

دیر آمد

آٹھ ہی بلین عمر زمیں کی ہوگی شاید ایسا ہی اندازہ ہے کچھ سائنس کا چار اعشاریہ بلین سالوں کی عمر تو بیت چکی ہے کتنی دیر لگا دی تم نے آنے میں اور اب مل کر کس دنیا کی دنیا داری سوچ رہی ہو کس مذہب اور ذات اور پات کی فکر لگی ہے آؤ چلیں اب تین ہی بلین سال بچے ہیں

مزید پڑھیے

پومپیئے

پومپیئے دفن تھا صدیوں سے جہاں ایک تہذیب تھی پوشیدہ وہاں شہر کھودا تو تواریخ کے ٹکڑے نکلے ڈھیروں پتھرائے ہوئے وقت کے صفحوں کو الٹ کر دیکھا ایک بھولی ہوئی تہذیب کے پرزے سے بچھے تھے ہر سو منجمد لاوے میں اکڑے ہوئے انسانوں کے گچھے تھے وہاں آگ اور لاوے سے گھبرا کے جو لپٹے ہوں گے وہی ...

مزید پڑھیے

کرچیں

ٹکڑا اک نظم کا دن بھر میری سانسوں میں سرکتا ہی رہا لب پہ آیا تو زباں کٹنے لگی دانت سے پکڑا تو لب چھلنے لگے نہ تو پھینکا ہی گیا منہ سے، نہ نگلا ہی گیا کانچ کا ٹکڑا اٹک جائے حلق میں جیسے ٹکڑا وہ نظم کا سانسوں میں سرکتا ہی رہا

مزید پڑھیے

توڑ سکو تم شاخ سے مجھ کو ایسی تو میں کلی نہیں ہوں

توڑ سکو تم شاخ سے مجھ کو ایسی تو میں کلی نہیں ہوں روک سکو تم میری راہیں اتنی اتھلی ندی نہیں ہوں میری باتیں سیدھی سادی مکاری سے بھرے ہوئے تم میرے پاس تو سچائی ہے جھوٹ کپٹ سے بندھی نہیں ہوں بنے ہیں میں نے اپنے سپنے خود ہی اپنی راہ بنائی راہ سے تم بھٹکا دو مجھ کو نیند میں ایسی گھری ...

مزید پڑھیے

آنکھ میں آنسو ٹھہرا ہے

آنکھ میں آنسو ٹھہرا ہے دل پر غم کا پہرا ہے اک دن بھر ہی جائے گا گھاؤ جو دل میں گہرا ہے میری چاروں سمت ابھی رنج و الم کا صحرا ہے خوف کہاں میرے دل میں یہ سردی کا لہرا ہے میری بات پہ کیوں چپ ہے کیا تو گونگا بہرا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 4105 سے 6203