قومی زبان

سر تا بہ قدم ایک حسیں راز کا عالم

سر تا بہ قدم ایک حسیں راز کا عالم اللہ رے اک فتنہ گر ناز کا عالم زلفوں میں وہ برسات کی راتوں کی جوانی عارض پہ وہ انوار سحر ساز کا عالم عنوان سخن غالبؔ و مومنؔ کا تغزل انداز نظر بادۂ شیراز کا عالم دزدیدہ نگاہوں میں اک الہام کی دنیا نازک سے تبسم میں اک اعجاز کا عالم الجھے ہوئے ...

مزید پڑھیے

لطف کا ربط ہے کوئی نہ جفا کا رشتہ

لطف کا ربط ہے کوئی نہ جفا کا رشتہ دل سے کچھ دور ہے ظالم کی انا کا رشتہ دست عیسیٰ بھی وہی بازوئے قاتل بھی وہی کتنا نازک ہے چراغوں سے ہوا کا رشتہ جبر حالات کہو غم کی مکافات کہو ٹوٹ بھی جاتا ہے ہونٹوں سے نوا کا رشتہ سوچیے تو سبھی اپنے ہیں کوئی غیر نہیں حاکم شہر سے ہے جرم و سزا کا ...

مزید پڑھیے

جنوں خود نما خود نگر بھی نہیں

جنوں خود نما خود نگر بھی نہیں خرد کی طرح کم نظر بھی نہیں کوئی راہزن کا خطر بھی نہیں کہ دامن میں گرد سفر بھی نہیں یہاں ہوش و ایماں سبھی لٹ گئے مزا یہ ہے ان کی خبر بھی نہیں غم زندگی اک مسلسل عذاب غم زندگی سے مفر بھی نہیں نظر معتبر ہے خبر معتبر مگر اس قدر معتبر بھی نہیں تری انجمن ...

مزید پڑھیے

شرح جاں سوزیٔ غم عرض وفا کیا کرتے

شرح جاں سوزیٔ غم عرض وفا کیا کرتے تم بھی اک جھوٹی تسلی کے سوا کیا کرتے شیشہ نازک تھا ذرا چوٹ لگی ٹوٹ گیا حادثے ہوتے ہی رہتے ہیں گلا کیا کرتے رات نے چھیڑ دیے بھولے ہوئے افسانے جاگ کر صبح نہ کرتے تو بھلا کیا کرتے اپنی کشتی کو بھی مل جاتا کنارہ شاید تند تھی موج مخالف تھی ہوا کیا ...

مزید پڑھیے

لائی تری محفل میں مجھے آرزوئے دید

لائی تری محفل میں مجھے آرزوئے دید درپیش ہے پھر مرحلۂ طور کی تجدید مایوس تمناؤں کو اے دوست تری یاد جیسے افق بیم پہ اک اختر امید خود اپنا قفس بن گئی کوتاہی پرواز کچھ دور نہیں ورنہ جہان مہ و خورشید ایک ایک ادا شوق کی تہذیب پہ مائل ایک ایک نظر شوخئ جذبات کی تنقید جو خود نہ سمجھ ...

مزید پڑھیے

نمو کے فیض سے رنگ چمن نکھر سا گیا

نمو کے فیض سے رنگ چمن نکھر سا گیا مگر بہار میں دل شورشوں سے ڈر سا گیا جفائے دوست بہت سازگار آئی ہے خراب ہو کہ یہ دل اور کچھ سنور سا گیا نہ جانے باد صبا کیا پیام لائی تھی کہ پھول ہنس تو دیا پھر بھی منہ اتر سا گیا بہ فیض شوق یہ دن دیکھنا نصیب ہوا کہ سر سے درد کا طوفاں گزر گزر سا ...

مزید پڑھیے

ملے گا درد تو درماں کی آرزو ہوگی

ملے گا درد تو درماں کی آرزو ہوگی تمام عمر غرض صرف جستجو ہوگی پھر آج دل سے مخاطب ہے شب کا سناٹا پھر آج صبح تلک ان کی گفتگو ہوگی جنوں کا شغل سلامت رفو کی فکر نہ کر کسے خبر ہے کہ کب فرصت رفو ہوگی ابھی جلیں گے یہاں اور بے رخی کے چراغ اس انجمن میں وفا اور سرخ رو ہوگی چلے گی بات جہاں ...

مزید پڑھیے

کسی سے خواب کا چرچا نہ کرنا

کسی سے خواب کا چرچا نہ کرنا تمناؤں کو بے پردا نہ کرنا زمانہ لاکھ بہکائے مگر تم وفاؤں کا کبھی سودا نہ کرنا خطاؤں کی سزا آخر ملے گی رلائے گا اسے توبہ نہ کرنا بچھڑتے وقت آنسو روک لینا تم اپنے آپ کو رسوا نہ کرنا تمہیں اچھی طرح پہچانتی ہوں وفا کا مجھ سے تم وعدہ نہ کرنا

مزید پڑھیے

تیرے میرے خواب جدا

تیرے میرے خواب جدا خوابوں کے اسباب جدا میرے دشمن تیرے دوست دونوں کے احباب جدا تیرا میرا ساتھ ہے یوں جوں صحرا سے آب جدا لب سے ساغر کیا ملتے محفل کے آداب جدا سونا سونا دل میرا دریا سے ہے آب جدا

مزید پڑھیے

خنجر کو رگ جاں سے گزرنے نہیں دے گا

خنجر کو رگ جاں سے گزرنے نہیں دے گا وہ شخص مجھے چین سے مرنے نہیں دے گا پھر کوئی نئی آس وہ دے جائے گا دل کو ٹوٹے ہوئے شیشے کو بکھرنے نہیں دے گا دن ڈھلتے نکل آئے گا پھر یاد کا سورج سایہ مرے آنگن میں اترنے نہیں دے گا ہر شخص کو مہمان بنا لے گا وہ لیکن مجھ کو کبھی گھر اپنے ٹھہرنے نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4103 سے 6203