قومی زبان

بظاہر دیکھتے ہیں تو زیادہ کام کرتا ہوں

بظاہر دیکھتے ہیں تو زیادہ کام کرتا ہوں مگر حق بات کچھ یوں ہے کہ تھوڑا کام کرتا ہوں اب آگے خود سمجھ جاؤ میں کیسا کام کرتا ہوں جو کوئی بھی نہیں کرتا ہے ویسا کام کرتا ہوں محبت میں مجھے باتیں بنانا تو نہیں آتا کبھی موقع ملے مجھ کو تو سیدھا کام کرتا ہوں کرانا چاہتا ہوں اس طرح اپنا ...

مزید پڑھیے

تیرے کہنے پہ ہی رکوں گا میں

تیرے کہنے پہ ہی رکوں گا میں ورنہ پھر اپنی راہ لوں گا میں دیکھنے میں تو ٹھیک ٹھاک ہے سب باقی چکھ کر ہی کچھ کہوں گا میں جو کسی نے نہیں کیا اب تک کام ایسا کوئی کروں گا میں چھوڑ کر ایسا جاؤں گا کہ تمہیں خواب میں بھی نہیں ملوں گا میں کسی کو کچھ پتہ نہیں چلنا ویسے کا ویسا ہی دکھوں گا ...

مزید پڑھیے

تفصیل بتانے سے کنارہ ہی کیا ہے

تفصیل بتانے سے کنارہ ہی کیا ہے کیا چاہتا ہوں اس کو اشارہ ہی کیا ہے مشکل تھا اگر کوئی تو وہ بیچ میں چھوڑا آسان ملا مجھ کو تو سارا ہی کیا ہے اس کا متبادل بھی اسی طرح کا ڈھونڈا یعنی کہ خسارے پہ خسارہ ہی کیا ہے جب ایک دفعہ سے نہ ہوئی اتنی تشفی پھر سارے کے سارے کو دوبارہ ہی کیا ...

مزید پڑھیے

ہمدردی کی ذرا بھی ضرورت نہیں مجھے

ہمدردی کی ذرا بھی ضرورت نہیں مجھے احساں کوئی اٹھانے کی عادت نہیں مجھے ہاں لالچی ہوں اور زیادہ کی ہے ہوس اتنے قلیل پر تو قناعت نہیں مجھے درکار تھی جو چیز وہ نا پید ہو چکی وافر وہی ہے جس کی ضرورت نہیں مجھے سب کچھ بگاڑ کے ہی نہ رکھ دوں کسے خبر اس کام میں ذرا بھی مہارت نہیں مجھے وہ ...

مزید پڑھیے

کبھی خاموش رہ کر بھی پکارا کافی ہوتا ہے

کبھی خاموش رہ کر بھی پکارا کافی ہوتا ہے سمجھنے والوں کو تو بس اشارہ کافی ہوتا ہے اضافہ اس میں کر لیتا ہوں میں اپنی طرف سے بھی یہاں بس دیکھ لینا ہی تمہارا کافی ہوتا ہے کبھی تو فائدہ بھی دینے لگ جائے گا وہ مجھ کو کہ پہلے پہلے ویسے بھی خسارہ کافی ہوتا ہے یہ ایسی مار ہے جس کا نشاں ...

مزید پڑھیے

عشق عہد بے وفا میں بے نوا ہو جائے گا

عشق عہد بے وفا میں بے نوا ہو جائے گا آنکھ استنبول سینہ قرطبہ ہو جائے گا رات لمبی ہے تو باہم گفتگو کرتے رہو بات چل نکلی تو بہتوں کا بھلا ہو جائے گا ان بھری گلیوں میں پھرتا رہ اسی میں خیر ہے اپنے اندر جا چھپا تو لاپتا ہو جائے گا سر بریدہ لفظ مجھ سے رات یہ کہنے لگے اب نہ بولو گے تو ...

مزید پڑھیے

کس ناز سے واہ ہم کو مارا

کس ناز سے واہ ہم کو مارا کی ترچھی نگاہ ہم کو مارا سو پیچ میں لا کے آخر کار اے زلف سیاہ ہم کو مارا خواہندہ ترے تھے اے پری ہم کیوں خواہ نہ خواہ ہم کو مارا کعبے کو جو ہم چلے بتوں نے کہہ کر گمراہ ہم کو مارا شکوہ ہمیں کچھ نہیں فلک سے تو نے اے ماہ ہم کو مارا چاہ زقن صنم دکھا کر تو نے اے ...

مزید پڑھیے

دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کر

دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کر ہوا ہوں تب میں بتوں کا بندہ خدا خدا کر خدا خدا کر دعا لب جام نے بھی مانگی سبو نے بھی ہاتھ اٹھا اٹھا کر ہماری محفل میں آیا ساقی خدا خدا کر خدا خدا کر دکھایا وحدت نے اپنا جلوہ دوئی کا پردہ اٹھا اٹھا کر کروں میں سجدہ بتوں کے ...

مزید پڑھیے

قتل عشاق کیا کرتے ہیں

قتل عشاق کیا کرتے ہیں بت کہاں خوف خدا کرتے ہیں سر مرا تن سے جدا کرتے ہیں درد کی آپ دوا کرتے ہیں آتش غم نے مگر پھونک دیا دل سے شعلے جو اٹھا کرتے ہیں جامۂ سرخ ترا دیکھ کے گل پیرہن اپنا قبا کرتے ہیں خون روتے ہیں چمن میں بلبل ہم گلوں سے جو ہنسا کرتے ہیں خم ابروئے صنم کو دیکھیں ہم ...

مزید پڑھیے

نظارۂ رخ ساقی سے مجھ کو مستی ہے

نظارۂ رخ ساقی سے مجھ کو مستی ہے یہ آفتاب پرستی بھی مے پرستی ہے خدا کو بھول گیا محو خود پرستی ہے تو اور کام میں ہے موت تجھ پہ ہستی ہے نہ گل ہیں اب نہ وہ ساقی نہ مے پرستی ہے چمن میں مینہ کے عوض بے کسی برستی ہے یہ ملک حسن بھی جاناں عجیب بستی ہے کہ دل سی چیز یہاں کوڑیوں سے سستی ہے مہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4091 سے 6203