ہاتھ سے کچھ نہ ترے اے مہ کنعاں ہوگا
ہاتھ سے کچھ نہ ترے اے مہ کنعاں ہوگا ہاتھ جو ہوگا تو مری موت کا ساماں ہوگا ساقیا ہجر میں مے خانہ بیاباں ہوگا دور ساغر بھی رم چشم غزالاں ہوگا اے جنوں پھر مجھے خوش آنے لگی عریانی اب نہ دامن ہی رہے گا نہ گریباں ہوگا پھر چلیں گے ترا قد دیکھ کے گلزاروں میں پھر ہر اک سرو و سمن سرو ...