قومی زبان

ہاتھ سے کچھ نہ ترے اے مہ کنعاں ہوگا

ہاتھ سے کچھ نہ ترے اے مہ کنعاں ہوگا ہاتھ جو ہوگا تو مری موت کا ساماں ہوگا ساقیا ہجر میں مے خانہ بیاباں ہوگا دور ساغر بھی رم چشم غزالاں ہوگا اے جنوں پھر مجھے خوش آنے لگی عریانی اب نہ دامن ہی رہے گا نہ گریباں ہوگا پھر چلیں گے ترا قد دیکھ کے گلزاروں میں پھر ہر اک سرو و سمن سرو ...

مزید پڑھیے

یہ اک تیرا جلوہ صنم چار سو ہے

یہ اک تیرا جلوہ صنم چار سو ہے نظر جس طرف کیجیے تو ہی تو ہے یہ کس مست کے آنے کی آرزو ہے کہ دست دعا آج دست سبو ہے نہ ہوگا کوئی مجھ سا محو تصور جسے دیکھتا ہوں سمجھتا ہوں تو ہے مکدر نہ ہو یار تو صاف کہہ دوں نہ کیونکر ہو خودبیں کہ آئینہ رو ہے کبھی رخ کی باتیں کبھی گیسوؤں کی سحر سے یہی ...

مزید پڑھیے

اس کو مجھ سے رُٹھا دیا کس نے

اس کو مجھ سے رُٹھا دیا کس نے میرے دل کو دکھا دیا کس نے دام کاکل دکھا دیا کس نے مرغ دل کو پھنسا دیا کس نے خم ابرو دکھا دیا کس نے کعبۂ دل گرا دیا کس نے اے فلک ہم تو بیٹھے ہنستے تھے اٹھتے اٹھتے رلا دیا کس نے آئنے میں دکھا کے تیری شکل تجھ کو حیراں بنا دیا کس نے اک قلم حرف دوستی ...

مزید پڑھیے

دل کے دامن میں جو سرمایۂ افکار نہ تھا

دل کے دامن میں جو سرمایۂ افکار نہ تھا زندگی تھی مگر اس کا کوئی معیار نہ تھا جانے کیوں بات مری ان کو گراں بار ہوئی لفظ ایسا تو کوئی شامل گفتار نہ تھا کون سنتا مری کس کو میں صدائیں دیتا ایسی غفلت تھی کہ احساس بھی بیدار نہ تھا ہر طرف دھوپ تھی پھیلی ہوئی عریانی کی سر چھپانے کو کہیں ...

مزید پڑھیے

وقار دے کے کبھی بے وقار مت کرنا

وقار دے کے کبھی بے وقار مت کرنا ہمیں خدا کے لئے شرمسار مت کرنا نکلنا جب کبھی لے کر چراغ بستی میں اندھیرے گھر بھی ملیں گے شمار مت کرنا اسی کا آج بھی ہم انتظار کرتے ہیں جو کہہ گیا تھا مرا انتظار مت کرنا یہ مانا آج زمانہ ہے بے وفائی کا مگر تم ایسا چلن اختیار مت کرنا سفر کے مارے ...

مزید پڑھیے

درد دل کے ساتھ کیا میرے مسیحا کر دیا

درد دل کے ساتھ کیا میرے مسیحا کر دیا بے قراری بڑھ گئی ہے جب سے اچھا کر دیا کیا عجب تھی ان کے پاکیزہ تبسم کی کرن قلب کی تاریک بستی میں اجالا کر دیا جب نہ ان کے راز وحشت تک پہنچ پائی نظر ہوش والوں نے جنوں والوں کو رسوا کر دیا نفرتوں کی حد بنا کر اپنے میرے درمیاں وہ بھی تنہا رہ گئے ...

مزید پڑھیے

تاریکیوں میں اپنی ضیا چھوڑ جاؤں گا

تاریکیوں میں اپنی ضیا چھوڑ جاؤں گا گزروں گا میں تو نقش وفا چھوڑ جاؤں گا دنیا کے لوگ سنتے رہیں گے تمام عمر لفظوں میں اپنے دل کی صدا چھوڑ جاؤں گا اپنے لہو سے پھول کھلا کر حیات کے ہر سمت خوشبوؤں کی فضا چھوڑ جاؤں گا رکھیں گی یاد حسن کی رعنائیاں مجھے وہ گلستاں میں رنگ نیا چھوڑ جاؤں ...

مزید پڑھیے

چراغ سے کبھی تاروں سے روشنی مانگے

چراغ سے کبھی تاروں سے روشنی مانگے اندھیری رات بھی کس کس سے زندگی مانگے جلانے والے جلاتے ہیں نفرتوں کے چراغ فضائے وقت محبت کی روشنی مانگے وہ نا شناس حقیقت ہے اس زمانہ میں وفا کو بھیک سمجھ کر گلی گلی مانگے نشاط و رنج مقدر کی بات ہوتی ہے کسی سے غم نہ کسی سے کوئی خوشی مانگے ہر ایک ...

مزید پڑھیے

غم نہیں جو لٹ گئے ہم آ کے منزل کے قریب

غم نہیں جو لٹ گئے ہم آ کے منزل کے قریب جانے کتنی کشتیاں ڈوبی ہیں ساحل کے قریب سرفروشی میری کوئی رنگ دکھلا جائے گی آ گیا ہوں یہ ارادہ لے کے قاتل کے قریب صرف دل کی بے حسی تھی فاصلہ کچھ بھی نہ تھا جب کیا احساس پایا آپ کو دل کے قریب تم نے جو رکھا یوں ہی تخریب کارانہ مزاج کون آنے دے گا ...

مزید پڑھیے

میں غرق وہاں پیاس کے پیکر کی طرح تھا

میں غرق وہاں پیاس کے پیکر کی طرح تھا ہر قطرہ جہاں ایک سمندر کی طرح تھا گھر سارے شکستہ تھے گذر گاہیں اندھیری کچھ شہر مرا میرے مقدر کی طرح تھا آج اس کا جہاں میں کوئی پرساں ہی نہیں ہے کل تک جو زمانے میں سکندر کی طرح تھا تھا اس کے مقدر میں لکھا ڈوبنا ڈوبا حالانکہ وہ دریا میں شناور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4092 سے 6203